@awaralog3313421: غزل شبِ ہجراں میں کوئی خواب سجایا ہم نے دل کے ملبے سے ترا نام اٹھایا ہم نے شہر خاموش تھا، بازارِ وفا بند رہے پھر بھی اک دیپ سرِ راہ جلایا ہم نے جو حقیقت تھی، اسے خواب سمجھتے رہے لوگ جو تھا سچ، اس کو زمانے سے چھپایا ہم نے تیری یاد آئی تو آنکھوں میں اجالا سا ہوا اپنی تنہائی کو اک جشن بنایا ہم نے ظلمتِ شب سے کہا، صبح بھی آئے گی ضرور اپنے سینے میں یہ اک عہد بسایا ہم نے تاج و تخت اہلِ ہوس لے گئے، لے جائیں مگر اپنا دل اہلِ محبت کو دیا ہے ہم نے اب بھی امید کے موسم کا یقیں باقی ہے اپنے زخموں کو چراغوں سا جلایا ہم نے ساغر صدیقی ♥️ والسلام