@buildingforlegacy: #mindsetmotivation #disciplina #mentality

BuildingForLegacy
BuildingForLegacy
Open In TikTok:
Region: NL
Tuesday 25 August 2026 17:56:25 GMT
173975
23637
102
324

Music

Download

Comments

marcolin_0.0
Your_Marc#:) :
PRO CHRISTO
2026-09-02 10:55:04
110
ajjellydonut
Aj B. :
"We are being reinforced with a dreadnought!"
2026-09-03 07:43:44
0
user37944065579004
. :
win or die
2026-09-02 10:59:19
29
a.sa2009
٠ :
so lm gonna lose☠️
2026-09-03 02:22:52
1
par4no_
PAR4NO_ :
VENI.VEDI.VECI ♟️
2026-09-02 17:45:32
7
wolf43254
NoBody :
friend say did well boy join the clans in rust because triple enemies
2026-09-02 14:51:59
0
av99560
av :
win and destriktsion lose team
2026-08-31 10:11:04
5
zzzzdure1
Roberts :
2026-08-26 11:13:29
11
don_eddy23
Don_Eddy23 :
2026-08-26 18:56:50
7
filu638
FiLu :
win or Victory
2026-08-28 04:35:27
6
mrpotato_pan
nah :
2026-09-03 07:07:51
1
jhosepjtm
jhosep :
yesss
2026-09-03 05:03:53
2
To see more videos from user @buildingforlegacy, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#جانتے ہو سب کہتے ہیں تم کیوں لکھتے ہو ہمدردی سمیٹنے کے لیے سب ہنستے ہیں مذاق اڑاتے ہیں میں کیسے بتاؤں کہ انہیں کہ اگر لفظوں کی آواز ہوتی تو میں ہر تکلیف ہر آہ لکھتا ہر سسکی بھی لکھتا ہر چیخ بھی لکھتا اپنے آنسو لکھتا ان میں چھپا درد لکھتا اپنی وحشت میں گزری ہر رات لکھتا دن جو دکھ چھپانے میں گزرے ہاں میں لکھتا اپنی آنکھوں کی سوجن سے لیکر اس کہ نیچے موجود سیاہ ہلکے لکھتا سرخی تپش سب لکھتا ہونٹ انکی تھر تھراہٹ دعائیں جو سنی نہیں گئیں صدائیں جو لوٹ آئیں دل کی حالت لکھتا ہر اذیت لکھتا محبت کہ آغاز سے بے وفائی کے اختتام تک ہر مشکل ہر تکلیف ہر خاموشی لکھتا حاصل سے لا حاصل تک آنسوؤں سے صبر کہ آخری گھونٹ تک مجھ سے کچھ لکھا نہیں جاتا ورنہ ہاتھ جوڑ کہ لکھتا کہ رک جاؤ محبت آزمائش کہ سوا کچھ نہیں لکھتا تو لفظوں کہ جنازے اٹھا دیتا اگر اک شخص بھی سمجھ جائے تو حق ادا ہو جائے مجھے ہمدردی نہیں چاہیے کیونکہ کوئی ایسا لفظ ہی نہیں جو میرے دکھ کو کم کر سکے میری تکلیف کا مداوا کر سکے میں لکھتا ہوں کہ خود کو آئینہ دکھا سکوں
#جانتے ہو سب کہتے ہیں تم کیوں لکھتے ہو ہمدردی سمیٹنے کے لیے سب ہنستے ہیں مذاق اڑاتے ہیں میں کیسے بتاؤں کہ انہیں کہ اگر لفظوں کی آواز ہوتی تو میں ہر تکلیف ہر آہ لکھتا ہر سسکی بھی لکھتا ہر چیخ بھی لکھتا اپنے آنسو لکھتا ان میں چھپا درد لکھتا اپنی وحشت میں گزری ہر رات لکھتا دن جو دکھ چھپانے میں گزرے ہاں میں لکھتا اپنی آنکھوں کی سوجن سے لیکر اس کہ نیچے موجود سیاہ ہلکے لکھتا سرخی تپش سب لکھتا ہونٹ انکی تھر تھراہٹ دعائیں جو سنی نہیں گئیں صدائیں جو لوٹ آئیں دل کی حالت لکھتا ہر اذیت لکھتا محبت کہ آغاز سے بے وفائی کے اختتام تک ہر مشکل ہر تکلیف ہر خاموشی لکھتا حاصل سے لا حاصل تک آنسوؤں سے صبر کہ آخری گھونٹ تک مجھ سے کچھ لکھا نہیں جاتا ورنہ ہاتھ جوڑ کہ لکھتا کہ رک جاؤ محبت آزمائش کہ سوا کچھ نہیں لکھتا تو لفظوں کہ جنازے اٹھا دیتا اگر اک شخص بھی سمجھ جائے تو حق ادا ہو جائے مجھے ہمدردی نہیں چاہیے کیونکہ کوئی ایسا لفظ ہی نہیں جو میرے دکھ کو کم کر سکے میری تکلیف کا مداوا کر سکے میں لکھتا ہوں کہ خود کو آئینہ دکھا سکوں

About