@medomedo70009: حل مراجعة عامة علي الوحدة الاولي من كتاب المدرسة من ص7 الي صفحة 11 للصف الاول الاعدادي ترم1

مستر/ عبد الرحيم عباس
مستر/ عبد الرحيم عباس
Open In TikTok:
Region: EG
Tuesday 25 August 2026 21:07:34 GMT
3991
123
12
12

Music

Download

Comments

user6s8kk0tl7o
user6s8kk0tl7o :
باين عليك معلم شاطر قوي وانا مستنيه كل اي حاجه يعني تنزلها جديده عن الصف الاعدادي الاول وانا اسم الطالبه جنى مدرسه اعدادي اولى اعدادي وانا بحب اشكرك قوي
2026-09-14 19:26:01
1
user2572866813400
abdo mazzka :
يمستر بعد ازنك اشرح بورحه شويه وا يرات تفصل شيويه
2026-09-14 19:39:35
0
mahamed445
محمد ❤️‍🩹✊🏻 :
صفحه 7 اول سؤال انسه مرت
2026-09-14 17:43:35
0
user6661417741695
دمودرجوو :
شكرا لحضرتك والله مستر مش عارفين اقول لك ايه عامله ايه والله انت ما تساعدني يعني
2026-09-13 13:44:57
2
user5068059818117
ADAM :
شكرا يا مستر🥰
2026-09-13 16:16:34
1
user8842432075531
user8842432075531 :
شكرا للي حضرتك
2026-09-12 23:14:21
1
user8521262694184
عبدالله ابو رحيم :
🥰
2026-09-13 18:04:32
1
user41730485932471
ام محمد :
🥰
2026-09-14 21:26:18
0
user7300814465626
user7300814465626 :
🥰🥰🥰
2026-09-14 16:39:45
0
rahma.samy728
Rahma Samy :
🥰
2026-09-13 16:40:43
1
rahma.samy728
Rahma Samy :
😁
2026-09-13 16:49:14
1
eeslam.rdey
Eeslam Rdey :
🥰
2026-09-14 21:55:23
0
To see more videos from user @medomedo70009, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ہجرتِ مدینہ محض ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جانے یا کسی محفوظ پناہ گاہ کی تلاش کا نام نہیں تھا۔ یہ کائنات کی تاریخ کا وہ عظیم ترین اور دل سوز موڑ تھا جہاں حق کو زندہ رکھنے کے لیے اپنوں، گھر بار اور یادوں کی قربانی دی گئی۔ یہ سفرِ عشق تھا، جس کی ایک ایک منزل ایمان والوں کی روح کو تڑپا دینے والی ہے۔ ​مکہ مکرمہ میں تیرہ سال تک مسلمانوں پر ظلم و ستم کے وہ پہاڑ توڑے گئے جن کا تصور ہی لرزہ براندام کر دیتا ہے۔ صحابہ کرام کو تپتی ریت پر لٹایا گیا، لوہے کی گرم سلاخوں سے داغا گیا، اور بائیکاٹ کر کے شعبِ ابی طالب میں درختوں کے پتے کھانے پر مجبور کیا گیا۔ جب ظلم حد سے بڑھ گیا اور قریشِ مکہ نے دارالندوہ میں سرکارِ دو عالم ﷺ کی جان لینے کا ناپاک منصوبہ بنایا، تو زمین و آسمان کے مالک نے اپنے حبیب ﷺ کو مکہ چھوڑنے اور مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ ​یہ نبوت کا تیرہواں سال تھا، جب کفر نے فیصلہ کیا کہ اب اسلام کے سورج کو ہمیشہ کے لیے گل کر دیا جائے۔ قریش کے خوں خوار تلوار بازوں نے رات کے اندھیرے میں نبی کریم ﷺ کے کاشانۂ مبارک کو گھیر لیا۔ وہ صرف اس انتظار میں تھے کہ کب آقا ﷺ باہر نکلیں اور وہ حملہ کر دیں۔ ​بسترِ رسولؐ پر موت کی سیج: اس خوفناک رات، جانِ کائنات ﷺ نے اپنے وفادار چچا زاد، مولا علیؓ کو بلایا اور فرمایا:
ہجرتِ مدینہ محض ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جانے یا کسی محفوظ پناہ گاہ کی تلاش کا نام نہیں تھا۔ یہ کائنات کی تاریخ کا وہ عظیم ترین اور دل سوز موڑ تھا جہاں حق کو زندہ رکھنے کے لیے اپنوں، گھر بار اور یادوں کی قربانی دی گئی۔ یہ سفرِ عشق تھا، جس کی ایک ایک منزل ایمان والوں کی روح کو تڑپا دینے والی ہے۔ ​مکہ مکرمہ میں تیرہ سال تک مسلمانوں پر ظلم و ستم کے وہ پہاڑ توڑے گئے جن کا تصور ہی لرزہ براندام کر دیتا ہے۔ صحابہ کرام کو تپتی ریت پر لٹایا گیا، لوہے کی گرم سلاخوں سے داغا گیا، اور بائیکاٹ کر کے شعبِ ابی طالب میں درختوں کے پتے کھانے پر مجبور کیا گیا۔ جب ظلم حد سے بڑھ گیا اور قریشِ مکہ نے دارالندوہ میں سرکارِ دو عالم ﷺ کی جان لینے کا ناپاک منصوبہ بنایا، تو زمین و آسمان کے مالک نے اپنے حبیب ﷺ کو مکہ چھوڑنے اور مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ ​یہ نبوت کا تیرہواں سال تھا، جب کفر نے فیصلہ کیا کہ اب اسلام کے سورج کو ہمیشہ کے لیے گل کر دیا جائے۔ قریش کے خوں خوار تلوار بازوں نے رات کے اندھیرے میں نبی کریم ﷺ کے کاشانۂ مبارک کو گھیر لیا۔ وہ صرف اس انتظار میں تھے کہ کب آقا ﷺ باہر نکلیں اور وہ حملہ کر دیں۔ ​بسترِ رسولؐ پر موت کی سیج: اس خوفناک رات، جانِ کائنات ﷺ نے اپنے وفادار چچا زاد، مولا علیؓ کو بلایا اور فرمایا: "علی! میرے بستر پر میری یہ ہری چادر اوڑھ کر سو جاؤ، اور صبح مکہ والوں کی امانتیں لوٹا کر مدینہ آ جانا۔" ذرا تصور کیجیے، باہر موت کا گھیرا تھا، لیکن مولا علیؓ فرماتے ہیں کہ زندگی میں جتنی پرسکون نیند مجھے اس رات مصطفیٰ ﷺ کے بستر پر آئی، کبھی نہیں آئی۔ کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ صادق و امین ﷺ نے کہہ دیا ہے کہ "صبح امانتیں لوٹا کر آنا"، یعنی میری زندگی کی ضمانت خود زبانِ رسالت نے دے دی تھی۔ ​دشمنوں کی آنکھوں میں دھول: رات کا پچھلا پہر ہوا، تو اللہ کے حکم سے آقا ﷺ اپنے گھر سے باہر آئے۔ آپ ﷺ نے زمین سے ایک مٹھی خاک لی، سورہ یٰسین کی ابتدائی آیات تلاوت فرمائیں اور وہ مٹی ان ظالموں کی طرف پھینک دی۔ قدرت کا ایسا معجزہ ہوا کہ ان سب کی آنکھوں پر پردے پڑ گئے، وہ اپنی تلواریں تھامے ساکت کھڑے رہے، اور کائنات کے تاجدار ﷺ ان کے درمیان سے انتہائی وقار کے ساتھ گزر گئے۔ ​اپنے گھر سے نکل کر آپ ﷺ نے الحزورہ کے مقام پر کھڑے ہو کر اپنے آبائی شہر، خانہ کعبہ اور مکہ کی پہاڑیوں کی طرف دیکھا۔ مکہ کی مٹی کو دیکھ کر آپ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، دل بھر آیا اور زبانِ مبارک سے وہ تڑپا دینے والے الفاظ نکلے جو قیامت تک وطن کی محبت کی سب سے بڑی دلیل بن گئے: "اے مکہ! خدا کی قسم تو مجھے دنیا بھر کی زمین سے زیادہ پیاری ہے، اگر میری قوم مجھے یہاں سے نکلنے پر مجبور نہ کرتی، تو میں تیرے سوا کبھی کسی اور جگہ کو اپنا مسکن نہ بناتا۔" تصور کیجیے، وہ نبی جو تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر آئے، انہیں انہی کے شہر کے لوگوں نے رات کے اندھیرے میں اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ ​سفرِ ہجرت کا آغاز ہوا تو رفیقِ سفر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ قریش کے تعاقب سے بچنے کے لیے آپ ﷺ نے غارِ ثور میں پناہ لی۔ عشقِ صدیقی کا امتحان: غار میں داخل ہونے سے پہلے حضرت ابوبکرؓ نے اپنے ہاتھوں سے غار کے سوراخوں کو صاف کیا اور اپنے کپڑے پھاڑ کر بند کیا تاکہ کوئی موذی جانور رسول ﷺ کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ ایک سوراخ باقی رہ گیا تو وہاں اپنی ایڑی رکھ دی۔ سانپ نے وہاں ڈسا تو صدیقِ اکبرؓ کے جسم میں زہر دوڑ گیا، لیکن اس ڈر سے پاؤں نہیں ہلایا کہ کہیں رسولِ خدا ﷺ کی آنکھ نہ کھل جائے۔ آنکھوں سے نکلنے والے پگھلے ہوئے آنسو جب رخسارِ مصطفیٰ ﷺ پر گرے، تو کائنات نے وہ جاں نثاری دیکھی جو پھر کبھی نہ دیکھی گئی۔ ​دوسری طرف مدینہ کے انصار روزانہ شہر سے باہر نکل کر تپتی دھوپ میں آقا ﷺ کا انتظار کرتے۔ جب آپ ﷺ کا ناقہ مدینہ کی حدود میں داخل ہوا، تو "طلع البدر علینا" کے ترانے گونج اٹھے۔ مدینہ پہنچ کر تاریخِ انسانی کا وہ معجزہ رونما ہوا جسے مواخاتِ مدینہ کہا جاتا ہے۔ مکہ سے آنے والے مہاجرین کے پاس کچھ نہ تھا، انصار نے اپنے دل اور گھروں کے دروازے کھول دیے۔ ایک انصاری نے کہا: "یہ میرا گھر ہے، آدھا تمہارا۔ یہ میرا مال ہے، آدھا تمہارا۔" ​🖤 حتمی پیغام: ​ہجرتِ مدینہ کا یہ سفر سکھاتا ہے کہ اسلام قربانی مانگتا ہے۔ مہاجرین نے کلمے کی خاطر گھر لٹا دیے اور انصار نے دین کی خاطر محبتیں نچھاور کر دیں۔ آج ہم سب کو سوچنا چاہیے کہ کیا ہمارے اندر اپنی انا اور مفادات کو خیرباد کہنے کا جذبہ موجود ہے؟ اس پیغامِ محبت کو دوسروں تک پہنچانے کیلئے ریپوسٹ کا آپشن قابلِ استعمال ہے ۔۔جزاکم اللہ خیراً کثیراً محمد سعید احمد ۔۔۔

About