@mentalking849: Replying to @user39414070270874 اس قول کا مطلب ہر منع کی ہوئی چیز کو ازمانا نہیں ہے بلکہ اپنی سوچ کو دوسروں کی بنائی ہوئی حدود تک محدود نہ رکھنا ہے۔۔ کچھ کتابوں پر پابندی ہو تو یہ جاننے کی کوشش کرو کہ ان میں ایسا کیا لکھا ہے جسے پڑھنے سے روکا جا رہا ہے مختلف لوگوں سے ملو تو صرف ان کے بارے میں مشہور رائے کی بنیاد پر فیصلہ نہ کرو بلکہ ان کی کہانی اور سوچ کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ کیونکہ کبھی کبھی معاشرہ کسی شخص کو صرف اس لیے غلط سمجھتا ہے کہ وہ اکثریت سے مختلف سوچتا ہے۔ لیکن یاد رکھو کسی چیز کو سمجھنا اور اسے درست تسلیم کرنا دو الگ باتیں ہیں۔ سمجھدار انسان ہر نظریے کو سنتا ہے اور سوال کرتا ہے تحقیق کرتا ہے اور پھر اپنی رائے بناتا ہے۔ اصل ازادی یہ ہے کہ اپ کو معلوم ہو کہ اپ کیا مانتے ہیں اور کیوں مانتے ہیں اور اپ کی رائے واقع اپ کی اپنی ہے یا صرف معاشرے نے اپ کو دی ہے