@dieuloahang: 🎸 MARSHALL WOBURN III – BẬT LÊN LÀ CẢ KHÔNG GIAN ĐỔI MOOD 🔥 Ngoại hình đậm chất Marshall, kích thước bề thế, âm thanh mạnh mẽ — Woburn III sinh ra cho những ai thích nghe nhạc “đã tai” và decor “có gu”. 🖤#dieubanloa #marshall #marshallwoburn3 #loabluetooth

DIỆU BÁN LOA
DIỆU BÁN LOA
Open In TikTok:
Region: VN
Wednesday 26 August 2026 05:22:26 GMT
1384
31
2
1

Music

Download

Comments

minhngantao07032013
MinhNgânTáo07032013 :
Bn vậy shop
2026-09-01 15:12:30
0
To see more videos from user @dieuloahang, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos


"دلِ عرش بَرین، دلِ کبود دیں، اسرارِ کمال کوئی نہیں کیوں منزل منزل کرتے ہو، جب عشق میں منزل کوئی نہیں" اس کا مطلب بہت گہرا اور صوفیانہ ہے۔ یہاں شاعر انسان کو سمجھا رہا ہے کہ محبتِ حقیقی، یعنی اللہ کی محبت، کوئی ایسی چیز نہیں جس کی ایک آخری منزل طے کر کے انسان کہہ دے کہ اب میں پہنچ گیا ہوں۔ عشق کا راستہ مسلسل چلنے، سیکھنے، جھکنے اور اپنے رب کے قریب ہونے کا نام ہے۔ تفصیل سے مطلب "کیوں منزل منزل کرتے ہو، جب عشق میں منزل کوئی نہیں" یعنی اے انسان! تم بار بار یہ کیوں سوچتے ہو کہ مجھے فلاں مقام حاصل کرنا ہے، فلاں مرتبے تک پہنچنا ہے، فلاں کیفیت حاصل کرنی ہے؟ اگر تم واقعی عشق کے راستے پر ہو تو پھر اپنی منزل تلاش کرنے کے بجائے سفر پر توجہ دو۔ دنیا کے سفر میں ایک منزل ہوتی ہے۔ انسان گھر سے نکلتا ہے، راستہ طے کرتا ہے اور آخرکار اپنی منزل پر پہنچ جاتا ہے۔ لیکن عشق کا سفر ایسا نہیں۔ خاص طور پر اللہ کی محبت میں انسان جتنا آگے بڑھتا ہے، اتنا ہی اسے محسوس ہوتا ہے کہ ابھی تو بہت کچھ باقی ہے۔ ایک بندہ عبادت شروع کرتا ہے، پھر اسے عبادت میں لذت ملتی ہے۔ وہ اللہ کو یاد کرتا ہے تو دل کو سکون ملتا ہے۔ پھر اسے احساس ہوتا ہے کہ اسے اپنے رب کو اور زیادہ یاد کرنا چاہیے۔ وہ قرآن پڑھتا ہے تو اسے مزید سمجھنے کی خواہش ہوتی ہے۔ وہ توبہ کرتا ہے تو اپنے اندر مزید اصلاح کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ یعنی یہ سفر ختم نہیں ہوتا۔ "منزل کوئی نہیں" کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کا کوئی مقصد نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی محبت اور معرفت کی کوئی آخری حد انسان کے لیے مقرر نہیں کہ وہاں پہنچ کر وہ کہے کہ اب میں مکمل ہو گیا ہوں۔ انسان جتنا اللہ کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہے، اتنا ہی اسے اپنی کمزوری، اپنی کمی اور اپنے رب کی عظمت کا احساس ہوتا ہے۔ اسی لیے سچا عاشق یہ نہیں کہتا: "میں پہنچ گیا ہوں۔" بلکہ وہ کہتا ہے: "یا اللہ! میں ابھی بھی تیرے راستے کا مسافر ہوں، مجھے اپنے قریب کرتے رہنا۔" اس شعر کا اصل پیغام زندگی میں صرف کامیابیوں، مقام، دولت یا لوگوں کی محبت کو اپنی آخری منزل نہ سمجھو۔ یہ سب چیزیں عارضی ہیں۔ اصل سفر انسان کے دل کا سفر ہے۔ اگر دل اللہ سے جڑ جائے تو انسان دنیا میں رہتے ہوئے بھی اپنے رب کے قریب ہو سکتا ہے۔ اور اگر دل اللہ سے دور ہو تو انسان دنیا کی ہر منزل حاصل کرکے بھی اندر سے خالی رہ سکتا ہے۔ اس لیے شعر ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ عشق میں منزل سے زیادہ سفر اہم ہے، اور اللہ کی محبت میں سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ بندہ ہر دن پہلے سے زیادہ اپنے رب کا محتاج اور اس کے قریب ہونے کا خواہش مند رہے۔ مختصر الفاظ میں: "اللہ کی محبت ایسا سفر ہے جس میں انسان جتنا آگے بڑھتا ہے، اتنا ہی آگے بڑھنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے؛ یہاں پہنچ جانے کا دعویٰ نہیں، بلکہ ہمیشہ اپنے رب کی طرف بڑھتے رہنے کا نام عشق ہے۔"

About