@mano.8130: قربان کیوں نہ ہوں آپ ﷺ پر! ❤️ رحمتُ العالمین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر جتنا ناز کیا جائے، کم ہے۔ وہ نبی ﷺ جنہوں نے اُس زمانے میں بیٹی کو رحمت کہا، جب بیٹی کی پیدائش پر چہرے مرجھا جاتے تھے، دل بوجھل ہو جاتے تھے، اور بعض لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے تک کو باعثِ عزت سمجھتے تھے۔ ایسے اندھیرے دور میں میرے آقا ﷺ نے بیٹی کو بوجھ نہیں، رحمت قرار دیا۔ 💖 قربان جائیں اُس رحمت والے نبی ﷺ پر، جنہوں نے بیٹی کے وجود کو عزت دی، اُس کے مقام کو بلند کیا، اُس کے ساتھ محبت کو عبادت کا رنگ دیا۔ جنہوں نے ہمیں یہ احساس دیا کہ بیٹی صرف کسی گھر سے رخصت ہونے والی امانت نہیں، بلکہ وہ اپنے باپ کے دل کی نرمی، اپنے گھر کی رونق اور اللہ کی عطا کردہ نعمت ہے۔ مگر آج کبھی کبھی دل یہ سوچ کر تلخ ہو جاتا ہے کہ ہم نے بیٹی کے لیے نبی ﷺ کی تعلیمات تو سنبھال کر رکھیں، مگر اُن کا حسنِ سلوک بھول گئے۔ ہم بیٹی کو رحمت کہتے ہیں، مگر اُس کے جذبات کو بوجھ سمجھ لیتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں بیٹی عزت ہے، مگر اُس کی بات سننے میں اپنی انا آڑے لے آتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں بیٹی گھر کی رونق ہے، مگر اُس کے خوابوں پر سب سے پہلے پہرے بھی ہم ہی بٹھاتے ہیں۔ تلخی یہ نہیں کہ زمانہ بدل گیا ہے… تلخی یہ ہے کہ ہم نے اپنی سہولت کے مطابق دین کو یاد رکھا اور اپنی ذمہ داری کے وقت بھلا دیا۔ جس نبی ﷺ نے بیٹیوں کے ساتھ محبت، شفقت اور حسنِ سلوک کا درس دیا، اُن کی امت میں آج بھی کتنی بیٹیاں صرف اس لیے خاموش رہتی ہیں کہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ کہیں اُن کی بات کو گستاخی، ضد یا نافرمانی نہ سمجھ لیا جائے۔ کتنی بیٹیاں باپ کے سامنے مسکرا دیتی ہیں، حالانکہ دل میں بہت کچھ دفن ہوتا ہے۔ کتنی بیٹیاں ماں کے سامنے کہہ دیتی ہیں، "میں ٹھیک ہوں"، حالانکہ اندر سے وہ صرف ایک تسلی، ایک گلے لگنے اور چند محبت بھرے الفاظ کی منتظر ہوتی ہیں۔ اور کتنی بیٹیاں اپنے ہی گھر میں یہ سوچ کر بڑی ہو جاتی ہیں کہ شاید اُن کے احساسات اتنے اہم نہیں جتنے اُن کے بھائیوں کے ہیں۔ کاش ہم واقعی رسول اللہ ﷺ کی محبت کا دعویٰ کرنے سے پہلے اُن کی رحمت کو اپنے رویوں میں اتار لیں۔ کاش بیٹی کو صرف اس دن نہ سراہا جائے جب وہ والدین کا نام روشن کرے، بلکہ اُس دن بھی سینے سے لگایا جائے جب وہ تھک جائے، ہار جائے، رو دے یا اپنی زندگی کے کسی موڑ پر کمزور پڑ جائے۔ کیونکہ بیٹی کو ہر وقت مضبوط نہیں ہونا ہوتا۔ کبھی کبھی اسے بھی صرف بیٹی بن کر رہنے کا حق ہوتا ہے۔ اسے بھی حق ہے کہ وہ اپنے باپ کے سامنے اپنے آنسو نہ چھپائے، اپنی ماں کے سامنے اپنے دل کی بات کہے، اور اپنے گھر میں یہ محسوس کرے کہ یہاں اسے کسی کارکردگی، کامیابی یا قربانی کے بدلے محبت نہیں مل رہی—بلکہ وہ صرف اس لیے محبوب ہے کہ وہ بیٹی ہے۔ اور یہی تو ہمارے نبی ﷺ کی رحمت کا حسن تھا؛ انہوں نے محبت کو صرف لفظ نہیں بنایا، زندگی بنا کر دکھایا۔ قربان جائیں اُس ہستی ﷺ پر جنہوں نے بیٹی کو رحمت کہا۔ ہم پر لازم ہے کہ اس رحمت کی قدر کریں، اسے بوجھ نہ بنائیں، اس کے دل کو غیر ضروری تلخیوں سے نہ بھریں، اور اُس کے وجود کو اپنی انا کی جنگ میں قربان نہ کریں۔ بیٹی واقعی رحمت ہے… مگر یاد رکھیں، رحمت کی بےقدری بھی انسان کے دل پر ایک دن بہت بھاری پڑتی ہے۔ یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ کی تعلیمات نے بیٹی کو وہ عزت دی جس کا تصور بھی اُس معاشرے نے نہیں کیا تھا۔ آج اگر ہم واقعی آپ ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو بیٹی کے لیے صرف خوبصورت جملے نہیں، خوبصورت رویے بھی پیدا کریں۔ کیونکہ نبی ﷺ سے محبت کا سب سے خوبصورت ثبوت یہ نہیں کہ ہم صرف اُن کا نام محبت سے لکھیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اُن کی رحمت کو اپنے کردار میں زندہ کریں۔ ❤️ قربان کیوں نہ ہوں آپ ﷺ پر… آپ ﷺ نے ہمیں صرف بیٹی ہونا نہیں سکھایا، آپ ﷺ نے ہمیں بیٹی ہونے کی عزت بھی عطا فرمائی۔ 🌸🤍