@apidor30: Айсберг ошибок по кс 2 Часть 7 ​#cs2 #counterstrike2 #кс2 #фишкикс2 #лайфхакикс2 #обучениекс2 #гайдкс2 #cs2tips

apidor
apidor
Open In TikTok:
Region: US
Wednesday 26 August 2026 07:27:35 GMT
1046
24
1
0

Music

Download

Comments

To see more videos from user @apidor30, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ناوگئی میں دینار خیل قبیلے کے دو بھائی سید خان اور سید جان رہتے تھے۔ دونوں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے۔ ان کی شادیاں بھی ایک ہی دن ہوئی تھیں۔ دونوں بھائیوں نے آپس میں وعدہ کیا کہ اگر ایک کے گھر بیٹا اور دوسرے کے گھر بیٹی پیدا ہوئی تو دونوں کی شادی کر دی جائے گی۔ کچھ عرصے بعد سید خان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا جس کا نام شیر عالم رکھا گیا، جبکہ سید جان کے گھر ایک خوبصورت بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام میمونہ رکھا گیا۔ دونوں خاندان بہت خوش ہوئے اور شیر خوارگی ہی میں دونوں کی نسبت طے کردی گئی۔  وقت گزرتا گیا۔ میمونہ جوان ہوئی تو اس کے حسن اور اچھی سیرت کے چرچے دور تک پھیل گئے۔ شیر عالم بھی خوبصورت اور مضبوط جوان بن گیا، مگر اس کی طبیعت کچھ شوخ اور آوارہ مزاج تھی۔ اسے شکار، دوستوں کے ساتھ گھومنا پھرنا اور میلوں میں جانا پسند تھا۔ اسے اس بات پر فخر تھا کہ میمونہ اس کی منگیتر ہے۔ میمونہ کو شیر عالم کی عادات کا علم تھا، لیکن وہ سمجھتی تھی کہ شادی کے بعد وہ اسے بہتر انسان بنا لے گی۔ دوسری طرف میمونہ کے حسن کی خبر سالار زئی قبیلے کے ایک بااثر نوجوان مستونگ خان تک پہنچی۔ مستونگ نے میمونہ کو دیکھے بغیر ہی اس سے شادی کی خواہش ظاہر کردی۔ اس کے والد پہلے اس کی شادی کسی اور خاندان میں کرنا چاہتے تھے، لیکن مستونگ اپنی خواہش پر قائم رہا۔ آخرکار مستونگ کے خاندان کے بزرگ ایک جرگے کی صورت میں میمونہ کے والد سید جان کے گھر رشتہ مانگنے پہنچے۔ سید جان جانتا تھا کہ یہ رشتہ ممکن نہیں، کیونکہ میمونہ پہلے ہی اپنے بڑے بھائی کے بیٹے شیر عالم سے منسوب تھی۔ لیکن اب معاملہ صرف ایک رشتے کا نہیں رہا تھا؛ اس میں قبائلی عزت، خاندان اور طاقت بھی شامل ہوگئی تھی۔  یہیں سے داستان ایک شدید کشمکش میں داخل ہوتی ہے۔ شیر عالم اور میمونہ کی بچپن کی نسبت ایک طرف تھی، جبکہ مستونگ خان اور اس کے خاندان کا دباؤ دوسری طرف۔ اس داستان کا انجام انتہائی المناک بتایا جاتا ہے اور اسی وجہ سے یہ صرف محبت کی کہانی نہیں بلکہ پشتون معاشرت، قبائلی رسم و رواج، خاندان کی عزت اور طاقت کے تصادم کی داستان بھی سمجھی جاتی ہے۔ ایک پاکستانی تعلیمی ماخذ میں بھی شیر عالم کے ہاتھوں میمونہ کے قتل کا سوال بطور درسی سوال موجود ہے، جو اس داستان کے المناک انجام کی طرف اشارہ کرتا ہے۔  اس داستان کو بعد میں شاعر ولی محمد نے مثنوی کی شکل میں بھی بیان کیا، اور آج یہ پشتون لوک ادب میں شیر عالم او میمونۍ کے نام سے جانی جاتی ہے۔  اصل دردناک پہلو یہ ہے کہ بچپن میں طے ہونے والا ایک رشتہ، جو دو خاندانوں کو جوڑنے کے لیے تھا، بعد میں محبت، غیرت، طاقت اور معاشرتی دباؤ کے درمیان ایک المیے میں تبدیل ہوگیا#astaticvideo #sheralam awmaimonai❤️‍🩹🥹#lovestory#midnightphilosphy
ناوگئی میں دینار خیل قبیلے کے دو بھائی سید خان اور سید جان رہتے تھے۔ دونوں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے۔ ان کی شادیاں بھی ایک ہی دن ہوئی تھیں۔ دونوں بھائیوں نے آپس میں وعدہ کیا کہ اگر ایک کے گھر بیٹا اور دوسرے کے گھر بیٹی پیدا ہوئی تو دونوں کی شادی کر دی جائے گی۔ کچھ عرصے بعد سید خان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا جس کا نام شیر عالم رکھا گیا، جبکہ سید جان کے گھر ایک خوبصورت بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام میمونہ رکھا گیا۔ دونوں خاندان بہت خوش ہوئے اور شیر خوارگی ہی میں دونوں کی نسبت طے کردی گئی۔ وقت گزرتا گیا۔ میمونہ جوان ہوئی تو اس کے حسن اور اچھی سیرت کے چرچے دور تک پھیل گئے۔ شیر عالم بھی خوبصورت اور مضبوط جوان بن گیا، مگر اس کی طبیعت کچھ شوخ اور آوارہ مزاج تھی۔ اسے شکار، دوستوں کے ساتھ گھومنا پھرنا اور میلوں میں جانا پسند تھا۔ اسے اس بات پر فخر تھا کہ میمونہ اس کی منگیتر ہے۔ میمونہ کو شیر عالم کی عادات کا علم تھا، لیکن وہ سمجھتی تھی کہ شادی کے بعد وہ اسے بہتر انسان بنا لے گی۔ دوسری طرف میمونہ کے حسن کی خبر سالار زئی قبیلے کے ایک بااثر نوجوان مستونگ خان تک پہنچی۔ مستونگ نے میمونہ کو دیکھے بغیر ہی اس سے شادی کی خواہش ظاہر کردی۔ اس کے والد پہلے اس کی شادی کسی اور خاندان میں کرنا چاہتے تھے، لیکن مستونگ اپنی خواہش پر قائم رہا۔ آخرکار مستونگ کے خاندان کے بزرگ ایک جرگے کی صورت میں میمونہ کے والد سید جان کے گھر رشتہ مانگنے پہنچے۔ سید جان جانتا تھا کہ یہ رشتہ ممکن نہیں، کیونکہ میمونہ پہلے ہی اپنے بڑے بھائی کے بیٹے شیر عالم سے منسوب تھی۔ لیکن اب معاملہ صرف ایک رشتے کا نہیں رہا تھا؛ اس میں قبائلی عزت، خاندان اور طاقت بھی شامل ہوگئی تھی۔ یہیں سے داستان ایک شدید کشمکش میں داخل ہوتی ہے۔ شیر عالم اور میمونہ کی بچپن کی نسبت ایک طرف تھی، جبکہ مستونگ خان اور اس کے خاندان کا دباؤ دوسری طرف۔ اس داستان کا انجام انتہائی المناک بتایا جاتا ہے اور اسی وجہ سے یہ صرف محبت کی کہانی نہیں بلکہ پشتون معاشرت، قبائلی رسم و رواج، خاندان کی عزت اور طاقت کے تصادم کی داستان بھی سمجھی جاتی ہے۔ ایک پاکستانی تعلیمی ماخذ میں بھی شیر عالم کے ہاتھوں میمونہ کے قتل کا سوال بطور درسی سوال موجود ہے، جو اس داستان کے المناک انجام کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس داستان کو بعد میں شاعر ولی محمد نے مثنوی کی شکل میں بھی بیان کیا، اور آج یہ پشتون لوک ادب میں شیر عالم او میمونۍ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اصل دردناک پہلو یہ ہے کہ بچپن میں طے ہونے والا ایک رشتہ، جو دو خاندانوں کو جوڑنے کے لیے تھا، بعد میں محبت، غیرت، طاقت اور معاشرتی دباؤ کے درمیان ایک المیے میں تبدیل ہوگیا#astaticvideo #sheralam awmaimonai❤️‍🩹🥹#lovestory#midnightphilosphy

About