@callmekawn_: Bref

Ohitskytanah
Ohitskytanah
Open In TikTok:
Region: FR
Wednesday 26 August 2026 08:47:52 GMT
282473
51277
434
4082

Music

Download

Comments

sheraaa.1
Sh🏮 :
Les 6 min c parceque j’ai pas ft expres de cliquer sur la notif
2026-08-26 20:22:00
5994
ipsame
Sam🌺✨ :
Parce que : le travail, le sommeil, la bouffe, le beau temps… la vie sans vous quoi
2026-08-26 13:10:33
3799
djow971
DjoW :
on a une limite social... c est comme ça
2026-08-26 16:50:55
1185
ah.shera91
Shera☆ :
Soit j’oublie ou soit je veux juste pas répondre …
2026-08-26 10:39:40
1065
victorson92
Victorson92 :
Jsp frr macron est tjrs président c’est suffisant
2026-08-26 08:58:08
166
dhayou39
dhayou39 :
Pardon sa dépend de mon humeur …
2026-08-26 14:09:34
243
yoyoyvyy
YOYO :
Sorry oh
2026-08-28 01:32:59
0
albankoudi
Al_Bankoudi :
on as un quota de sociabilité journalière à remplir 😂😂😂
2026-08-26 10:13:33
137
yass.yass070
يَاسمِين🈵 :
Je les déteste en mode ya des pubs on dois patienter
2026-08-26 15:40:09
103
ceilla94
CEILLA :
On a pas que ça foutre justement 😂❗️
2026-08-26 09:49:31
45
wisxi00
Wisxi :
on arrivera toujours à m'avoir irl mais sur les réseaux déso mais je me sens trop drainée pour parler longtemps 😭
2026-08-26 13:02:03
60
w.p9156
W P :
le fait de devoir être toujours disponible c'est trop stressant. Donc petit créneaux de disponibilité et a la prochaine 😅
2026-08-26 18:02:03
26
bekaeuh
Benny :
Parce que notre batterie sociale se décharge vite et vous répondez trop vite aux messages
2026-08-26 22:40:04
72
ayodele.__
Ayodele.__ :
Je suis désolée je suis h24 occupée
2026-08-26 13:39:31
27
itsmamy
Mariam :
Psk on a une vie 😭
2026-08-26 13:55:12
26
ysambree
ysa :
si c’est pas important les gars normalisé qu’on soit occupé
2026-08-27 02:11:44
16
h2b_4real
H2b🇭🇹 :
j’ai 6mins pour vous et 12h pour doomscroll
2026-08-26 16:58:14
50
morganegsm
Morgane :
Alors comment t’expliquer que….
2026-08-27 08:41:51
8
zecat146
zeCat :
Ça dépend de la conversation et de la journée de taff et autre 😹
2026-08-26 10:33:50
7
To see more videos from user @callmekawn_, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#onthisday کشف  علم لدنی ‎کشف سے مراد پردے کا اٹھ جانا ہے۔ اِسی سے مکاشفہ ہے۔ بندہ جیسے جیسے نفس کی کدورتوں، رزائل اور کثافتوں سے پاک ہوتا چلا جاتاہے ویسے ویسے قلب کا تصفیہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس کیفیت میں مومنین اور صالحین کو صفائے قلب نصیب ہوتا ہے اور دل کا آئینہ گناہوں کی گرد و غبار سے اجلا ہو کر حق کی تجلیوں کا مرکز بن جاتا ہے۔ قرآن مجید میں کشف کا لفظ کچھ اس معنی میں آیا ہے: ‎ ‎لَقَد کنتَ فِی غَفلَةٍ مِن هٰذَا فَکَشَفنَا عَنکَ غِطَآئَکَ فَبَصَرکَ الیَومَ حَدِیدٌo ‎ ‎قٓ، 50: 22 ‎ ‎حقیقت میں تو اِس (دن) سے غفلت میں پڑا رہا سو ہم نے تیرا پردۂِ (غفلت) ہٹا دیاپس آج تیری نگاہ تیز ہے۔ ‎ ‎آیت مبارکہ میں مذکور وہ پردہ کیا ہے جس کے ہٹانے کو قرآن لفظِ کشف کے ذریعے بیان کر رہا ہے؟ آئیے اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں ‎ ‎۔ کشف اور حجابات ‎ ‎گزشتہ ابواب میں ہم حجابات کی مختلف اقسام کا مطالعہ کر چکے کہ حجابات مختلف اقسام کے پردے ہیں جو انسان کے دل پر پڑے ہوئے ہیں۔ اِن حجابات کو دور کئے بغیر روحانی ترقی ممکن نہیں ہوتی۔ اِن حجابات کے علاوہ مختلف انواع کی سیاہیاں بھی ہیں جو اَعمال سیئہ اور برے اخلاق کے نتیجے میں دل کو سیاہ کرتی ہیں۔ ان سیاہیوں کے علاوہ دل کے درج ذیل زنگ بھی ہیں جو انسانی دل پر چھائے ہوئے ہیں: ‎ ‎(1) غین ‎یہ دِل پر چھانے والے زنگ میں سے ہلکی قسم ہے، جس میں دل پر چھوٹی موٹی گرد و غبار پڑ جاتی ہے۔ یہ نہایت ہلکا حجاب ہوتاہے۔ ‎ ‎(2) غیم ‎یہ غین سے زیادہ کثیف حجاب ہوتا ہے۔ ‎ ‎(3) ران ‎غیم سے کثیف حجاب کو رَین اور ران کہتے ہیں۔ ‎ ‎اِن حجابات کا ذکر قرآن مجید اور احادیثِ نبوی میں مختلف حوالوں سے آیاہے۔ ان حجابات کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ بندے کو علم ہو کہ دل پر چھانے والا حجاب کس نوعیت کا ہے؟ وہ حجاب کتنا پتلا اور کتنا زیادہ سخت ہے۔ حجابات کے اٹھنے کے عمل کورفعِ حجب کہتے ہیں۔ جب ہماری آنکھوں کے سامنے ایک پردہ بھی پڑا ہو تو ہمیں واضح نظر نہیں آتا۔ سادہ سی بات ہے کہ اگر پردہ اٹھا دیں تو کیا ہو تاہے؟ جو کچھ ورائے حجاب یعنی پردے کے پیچھے تھا وہ سب کچھ نظر آنے لگ جاتاہے۔ یہ پردے کیسے اٹھتے ہیں؟ دراصل یہ سب کشف ہی کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے۔ ‎ ‎گزشتہ صفحات میں ہم اِس پر تفصیل سے گفتگو ( علیہما السلام iscuss) کر آئے ہیں کہ جس طرح جسمانی کان، آنکھیں اور زبان ہوتے ہیں، عین اِسی طرح قلب کی بھی آنکھیں، کان اور زبان ہیں۔ قلب اپنی زبان سے اللہ کا ذکر کرتاہے۔ قلب اپنے کانوں سے مخاطبات اور فرشتوں کے کلمات کو سنتاہے۔ اِسی طرح قلب اپنی آنکھوں سے مغیبات یعنی غیب کی چیزوں کو واضح طور پر دیکھتا ہے جنہیں سر کی آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں۔ قلب (دل) پر چونکہ چھوٹے، بڑے، ظاہری اور باطنی گناہوں، برے عقائد و خیالات، بری باتوں، شہوات اور طرح طرح کے حجابات پڑے ہوئے ہوتے ہیں، حتیٰ کہ غفلتوں، اعلیٰ کاموں کو چھوڑ کر ادنیٰ کام کرنے اور مباحات کی کثرت جیسے اعمال کے پردے حائل ہوتے ہیں؛ لہٰذا جیسے جیسے ریاضات و مجاہدات اور اعمالِ صالحہ کے نتیجے میں گناہوں کی سیاہی دھلتی چلی جاتی ہے، ویسے ویسے دل سے پردے اور حجابات بھی اٹھتے چلے جاتے ہیں۔ ‎ ‎قرآن مجید میںاللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ‎ ‎وَالَذِینَ جَاهَدوا فِینَا لَنَهدِیَنَهم سبلَنَا. ‎ ‎العنکبوت، 29: 69 ‎ ‎اور جو لوگ ہمارے حق میں جہاد (یعنی مجاہدہ) کرتے ہیں تو ہم یقینا انہیں اپنی (طرف سَیر اور وصول کی) راہیں دکھا دیتے ہیں۔ ‎ ‎راستوں کے کھول دینے سے مراد انہی حجابات کا اٹھا دینا اور انہی راستوں کا کھلنا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ جب پردے اٹھتے ہیں تو تبھی راستے کھلتے ہیں۔ سو اس بنیادی تصور کا نام ہی ’کشف‘ اور ’مکاشفہ‘ ہے۔ ‎
#onthisday کشف علم لدنی ‎کشف سے مراد پردے کا اٹھ جانا ہے۔ اِسی سے مکاشفہ ہے۔ بندہ جیسے جیسے نفس کی کدورتوں، رزائل اور کثافتوں سے پاک ہوتا چلا جاتاہے ویسے ویسے قلب کا تصفیہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس کیفیت میں مومنین اور صالحین کو صفائے قلب نصیب ہوتا ہے اور دل کا آئینہ گناہوں کی گرد و غبار سے اجلا ہو کر حق کی تجلیوں کا مرکز بن جاتا ہے۔ قرآن مجید میں کشف کا لفظ کچھ اس معنی میں آیا ہے: ‎ ‎لَقَد کنتَ فِی غَفلَةٍ مِن هٰذَا فَکَشَفنَا عَنکَ غِطَآئَکَ فَبَصَرکَ الیَومَ حَدِیدٌo ‎ ‎قٓ، 50: 22 ‎ ‎حقیقت میں تو اِس (دن) سے غفلت میں پڑا رہا سو ہم نے تیرا پردۂِ (غفلت) ہٹا دیاپس آج تیری نگاہ تیز ہے۔ ‎ ‎آیت مبارکہ میں مذکور وہ پردہ کیا ہے جس کے ہٹانے کو قرآن لفظِ کشف کے ذریعے بیان کر رہا ہے؟ آئیے اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں ‎ ‎۔ کشف اور حجابات ‎ ‎گزشتہ ابواب میں ہم حجابات کی مختلف اقسام کا مطالعہ کر چکے کہ حجابات مختلف اقسام کے پردے ہیں جو انسان کے دل پر پڑے ہوئے ہیں۔ اِن حجابات کو دور کئے بغیر روحانی ترقی ممکن نہیں ہوتی۔ اِن حجابات کے علاوہ مختلف انواع کی سیاہیاں بھی ہیں جو اَعمال سیئہ اور برے اخلاق کے نتیجے میں دل کو سیاہ کرتی ہیں۔ ان سیاہیوں کے علاوہ دل کے درج ذیل زنگ بھی ہیں جو انسانی دل پر چھائے ہوئے ہیں: ‎ ‎(1) غین ‎یہ دِل پر چھانے والے زنگ میں سے ہلکی قسم ہے، جس میں دل پر چھوٹی موٹی گرد و غبار پڑ جاتی ہے۔ یہ نہایت ہلکا حجاب ہوتاہے۔ ‎ ‎(2) غیم ‎یہ غین سے زیادہ کثیف حجاب ہوتا ہے۔ ‎ ‎(3) ران ‎غیم سے کثیف حجاب کو رَین اور ران کہتے ہیں۔ ‎ ‎اِن حجابات کا ذکر قرآن مجید اور احادیثِ نبوی میں مختلف حوالوں سے آیاہے۔ ان حجابات کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ بندے کو علم ہو کہ دل پر چھانے والا حجاب کس نوعیت کا ہے؟ وہ حجاب کتنا پتلا اور کتنا زیادہ سخت ہے۔ حجابات کے اٹھنے کے عمل کورفعِ حجب کہتے ہیں۔ جب ہماری آنکھوں کے سامنے ایک پردہ بھی پڑا ہو تو ہمیں واضح نظر نہیں آتا۔ سادہ سی بات ہے کہ اگر پردہ اٹھا دیں تو کیا ہو تاہے؟ جو کچھ ورائے حجاب یعنی پردے کے پیچھے تھا وہ سب کچھ نظر آنے لگ جاتاہے۔ یہ پردے کیسے اٹھتے ہیں؟ دراصل یہ سب کشف ہی کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے۔ ‎ ‎گزشتہ صفحات میں ہم اِس پر تفصیل سے گفتگو ( علیہما السلام iscuss) کر آئے ہیں کہ جس طرح جسمانی کان، آنکھیں اور زبان ہوتے ہیں، عین اِسی طرح قلب کی بھی آنکھیں، کان اور زبان ہیں۔ قلب اپنی زبان سے اللہ کا ذکر کرتاہے۔ قلب اپنے کانوں سے مخاطبات اور فرشتوں کے کلمات کو سنتاہے۔ اِسی طرح قلب اپنی آنکھوں سے مغیبات یعنی غیب کی چیزوں کو واضح طور پر دیکھتا ہے جنہیں سر کی آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں۔ قلب (دل) پر چونکہ چھوٹے، بڑے، ظاہری اور باطنی گناہوں، برے عقائد و خیالات، بری باتوں، شہوات اور طرح طرح کے حجابات پڑے ہوئے ہوتے ہیں، حتیٰ کہ غفلتوں، اعلیٰ کاموں کو چھوڑ کر ادنیٰ کام کرنے اور مباحات کی کثرت جیسے اعمال کے پردے حائل ہوتے ہیں؛ لہٰذا جیسے جیسے ریاضات و مجاہدات اور اعمالِ صالحہ کے نتیجے میں گناہوں کی سیاہی دھلتی چلی جاتی ہے، ویسے ویسے دل سے پردے اور حجابات بھی اٹھتے چلے جاتے ہیں۔ ‎ ‎قرآن مجید میںاللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ‎ ‎وَالَذِینَ جَاهَدوا فِینَا لَنَهدِیَنَهم سبلَنَا. ‎ ‎العنکبوت، 29: 69 ‎ ‎اور جو لوگ ہمارے حق میں جہاد (یعنی مجاہدہ) کرتے ہیں تو ہم یقینا انہیں اپنی (طرف سَیر اور وصول کی) راہیں دکھا دیتے ہیں۔ ‎ ‎راستوں کے کھول دینے سے مراد انہی حجابات کا اٹھا دینا اور انہی راستوں کا کھلنا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ جب پردے اٹھتے ہیں تو تبھی راستے کھلتے ہیں۔ سو اس بنیادی تصور کا نام ہی ’کشف‘ اور ’مکاشفہ‘ ہے۔ ‎

About