@sarsengaliuly_05: #уральск #шынғырлау #пожарный #рек 👨🏼‍🚒🔥

sarsengaliuly_05
sarsengaliuly_05
Open In TikTok:
Region: KZ
Wednesday 26 August 2026 12:54:25 GMT
755
73
22
7

Music

Download

Comments

esengeldi.q
Kʏᴅʏʀᴀʟɪ :
😍😍😍
2026-08-26 13:17:40
1
shakeenov
shakeenov🚩 :
😍😍😍
2026-08-26 13:38:56
1
user2698002932701
Алтуха :
😍😍
2026-08-26 21:33:23
1
akhasov_d
Akhasov_D. :
❤️❤️
2026-08-26 16:57:07
1
duman07321
Kurmangaziev🧢 :
😍😍😍
2026-08-26 12:59:49
1
_nurik74
ser1kbay. :
❤️😍❤️
2026-08-26 13:48:02
1
e_akhanov07
🐎🤍 :
😍😍😍
2026-08-26 13:25:57
1
zhanuzaakov
Arsen :
❤️❤️❤️
2026-08-26 18:46:17
1
arsen_url
arsen_url :
🔥🔥
2026-08-26 13:13:55
1
usernnn67788
𝐁𝐓𝐑𝐕 𝟎𝟏𝟕 :
😍😍🔥
2026-08-26 13:03:08
1
zinetolla1
zinetolla_ali07 :
❤️❤️❤️
2026-08-27 01:08:41
1
zhakwwss
Zhakowss :
🔥🔥🔥
2026-08-27 15:20:30
1
To see more videos from user @sarsengaliuly_05, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتی، اس کے اثرات بازاروں، سیاست کے ایوانوں اور انسانی ضمیر تک پھیل جاتے ہیں۔ جہاں ایک طرف سپاہی اپنی جانیں قربان کرتے ہیں، خاندان اجڑتے ہیں اور عام لوگ خوف، بھوک اور بے یقینی کا شکار ہوتے ہیں، وہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو جنگ کی تباہی میں اپنا فائدہ تلاش کرتے ہیں۔ یہی لوگ جنگی منافع خور کہلاتے ہیں۔ جنگی منافع خوروں کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی جنگ کی تاریخ۔ کبھی ہتھیار بیچنے والے، کبھی ضروری اشیاء ذخیرہ کر کے قیمتیں بڑھانے والے، کبھی خوف اور نفرت کو ہوا دے کر سیاسی فائدہ اٹھانے والے — سب کسی نہ کسی شکل میں جنگ کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کے لیے جنگ ایک انسانی المیہ نہیں بلکہ ایک کاروباری موقع بن جاتی ہے۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ جنگی منافع خوری صرف دولت کمانے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ یہ معاشروں کے زخموں کو گہرا کرتی ہے۔ جب کسی خطے میں امن کے بجائے مسلسل کشیدگی سے فائدہ اٹھانے والے طاقتور ہو جائیں تو امن کی کوششیں کمزور پڑ جاتی ہیں، کیونکہ کچھ مفادات جنگ کے خاتمے سے متاثر ہوتے ہیں۔ جنگ کا اصل بوجھ ہمیشہ عام انسان اٹھاتے ہیں۔ ایک ماں اپنے بیٹے کا انتظار کرتی ہے، ایک بچہ اپنے گھر کے کھنڈر دیکھتا ہے، ایک مزدور روزگار سے محروم ہوتا ہے؛ مگر جنگی منافع خور اپنی تجوریوں میں اضافہ گنتے ہیں۔ یہی تضاد انسانیت کے لیے سب سے بڑا سوال ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ طاقتور ریاستیں اور ادارے بھی اگر احتساب سے آزاد ہو جائیں تو جنگ کو ایک مستقل کاروبار بنا سکتے ہیں۔ اسی لیے شفافیت، عالمی قوانین، اخلاقی سیاست اور عوامی شعور ضروری ہیں تاکہ جنگ کے نام پر ہونے والی منافع خوری کو روکا جا سکے۔ امن صرف جنگ کا خاتمہ نہیں، بلکہ ان قوتوں کو کمزور کرنا بھی ہے جو جنگ سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ کیونکہ جب تک جنگ کسی کے لیے منافع کا ذریعہ رہے گی، دنیا میں امن کی راہ ہمیشہ مشکل رہے گی۔ جنگ میں سب کچھ ہارنے والے بہت ہوتے ہیں، مگر افسوس کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دوسروں کے نقصان میں اپنا فائدہ تلاش کر لیتے ہیں۔ یہی جنگی منافع خور تاریخ کے خاموش مگر خطرناک کردار ہیں۔ #kafka #فرانز #کافکا #franz #esque
جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتی، اس کے اثرات بازاروں، سیاست کے ایوانوں اور انسانی ضمیر تک پھیل جاتے ہیں۔ جہاں ایک طرف سپاہی اپنی جانیں قربان کرتے ہیں، خاندان اجڑتے ہیں اور عام لوگ خوف، بھوک اور بے یقینی کا شکار ہوتے ہیں، وہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو جنگ کی تباہی میں اپنا فائدہ تلاش کرتے ہیں۔ یہی لوگ جنگی منافع خور کہلاتے ہیں۔ جنگی منافع خوروں کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی جنگ کی تاریخ۔ کبھی ہتھیار بیچنے والے، کبھی ضروری اشیاء ذخیرہ کر کے قیمتیں بڑھانے والے، کبھی خوف اور نفرت کو ہوا دے کر سیاسی فائدہ اٹھانے والے — سب کسی نہ کسی شکل میں جنگ کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کے لیے جنگ ایک انسانی المیہ نہیں بلکہ ایک کاروباری موقع بن جاتی ہے۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ جنگی منافع خوری صرف دولت کمانے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ یہ معاشروں کے زخموں کو گہرا کرتی ہے۔ جب کسی خطے میں امن کے بجائے مسلسل کشیدگی سے فائدہ اٹھانے والے طاقتور ہو جائیں تو امن کی کوششیں کمزور پڑ جاتی ہیں، کیونکہ کچھ مفادات جنگ کے خاتمے سے متاثر ہوتے ہیں۔ جنگ کا اصل بوجھ ہمیشہ عام انسان اٹھاتے ہیں۔ ایک ماں اپنے بیٹے کا انتظار کرتی ہے، ایک بچہ اپنے گھر کے کھنڈر دیکھتا ہے، ایک مزدور روزگار سے محروم ہوتا ہے؛ مگر جنگی منافع خور اپنی تجوریوں میں اضافہ گنتے ہیں۔ یہی تضاد انسانیت کے لیے سب سے بڑا سوال ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ طاقتور ریاستیں اور ادارے بھی اگر احتساب سے آزاد ہو جائیں تو جنگ کو ایک مستقل کاروبار بنا سکتے ہیں۔ اسی لیے شفافیت، عالمی قوانین، اخلاقی سیاست اور عوامی شعور ضروری ہیں تاکہ جنگ کے نام پر ہونے والی منافع خوری کو روکا جا سکے۔ امن صرف جنگ کا خاتمہ نہیں، بلکہ ان قوتوں کو کمزور کرنا بھی ہے جو جنگ سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ کیونکہ جب تک جنگ کسی کے لیے منافع کا ذریعہ رہے گی، دنیا میں امن کی راہ ہمیشہ مشکل رہے گی۔ جنگ میں سب کچھ ہارنے والے بہت ہوتے ہیں، مگر افسوس کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دوسروں کے نقصان میں اپنا فائدہ تلاش کر لیتے ہیں۔ یہی جنگی منافع خور تاریخ کے خاموش مگر خطرناک کردار ہیں۔ #kafka #فرانز #کافکا #franz #esque

About