@couplelevillain2: #virall #pourtoi #visibilite

Couple levillain🇨🇵💍🇨🇮
Couple levillain🇨🇵💍🇨🇮
Open In TikTok:
Region: FR
Wednesday 26 August 2026 13:36:05 GMT
4641
376
57
8

Music

Download

Comments

user8755729540402
💞ANGEKOUAME (Dieu vous aime) :
coucou ma belle je réside en Côte d'Ivoire 🇨🇮 je suis célibataire à la recherche je veux un l'homme amoureux j'ai 26 ans stp je suis vraiment intére
2026-09-04 14:35:31
2
belle.pros0
Mylène Mujinga :
Bonjour Madame, moi j’ai quelque chose, je vais vous demander, j’ai un monsieur enfin c’est lui il reste au Canada, mais il m’a dit de lui envoyer 100 $ pour faire mes dossiers. Est-ce que je peux envoyer
2026-09-05 07:20:42
0
richidath.issifou
Rachida issifou :
Bonsoir madame je suis intéressé un homme blanc
2026-08-27 00:03:00
2
celine.bb81
Céline Kouamé 21 :
je suis Célibataire
2026-09-05 03:56:20
0
persidembilima
perside Mbilima :
bonsior Madame svp j'ai laissé un massages en inbox mais tu me réponde pas
2026-08-26 15:27:37
4
berenicekone95
Bérénice :
bonsoir Madame j'espère que vous allez bien svp j'ai laissé un message en inbox mais j'ai toujours pas de réponse
2026-08-26 13:51:17
2
lodielouzahouli8
Élodielouzahouli :
Moi aussi je suis célibataire
2026-08-29 10:05:06
2
bardella2027go
bardella2027 :
les rencontres sur les réseaux ne tiennent pas dans le temps
2026-08-26 13:47:23
2
dorkasmarie
NATACHA :
bonsoir madame le vilain je suis célibataire je recherche mon âme sœur blanc sérieux respectueux sans enfant âgé de 35ans svp aider moi merci
2026-09-04 19:03:33
1
sbastien51533
Sébastien :
moi je recherche éperdument cette magnifique femme africaine j'habite en France et j'ai 50 ans
2026-08-31 08:37:59
1
louzoroleticiagou
Lou Zoro leticia Gouri :
bonsoir madame
2026-08-26 14:29:22
2
larissaboua721
Miss Blessing :
bonjour madame je suis célibataire j’ai 32 ans je suis ivoirienne
2026-08-26 14:18:46
2
samira.kouadio65
Samira kouadio :
salut c'est comment maman
2026-09-02 12:35:01
1
dieudonnemungutsi2
Julienne rachel :
je suis là pour vous, ce Julienne Rachel
2026-08-26 18:01:02
0
user5579232051045
Françoise :
bonjour Madame je suis célibataire j'ai 2 enfants je suis ivoirien
2026-08-27 11:23:04
1
desirebohi
Christel 🇨🇮🇸🇳 Tik Tok abon :
cc
2026-09-03 02:08:26
1
miss.lose0
miss lesline :
coucou célibataire
2026-08-27 06:04:53
1
berenicekone95
Bérénice :
merci pour le conseil
2026-08-26 13:52:54
2
boguikadjoumange
rebecarichebeau :
salut je suis célibataire en côte d'ivoire
2026-09-04 11:26:38
0
user18366518597
Ahou josé Amani :
salut ma sœur partons je suis intéressé je cherche un marie
2026-09-02 22:24:41
0
aliman.coulibaly3016
Aliman Coulibaly :
2026-09-05 14:11:58
0
laviahi
Fatoumata Touré :
bonjour madame je suis célibataire deux enfants
2026-09-07 07:52:13
0
nathalie.mekamona
Natha la joie de l'Éternel :
je vous avais écrit depuis vous ne répondez pas
2026-09-04 19:39:30
0
fatimsoro50
Soro Fatim :
je sui celibataire ivoirienne 35ans
2026-09-05 00:23:31
0
hania_couture
Graciaaa225 :
bns madame je vous es laisser un msg
2026-08-26 18:50:29
0
To see more videos from user @couplelevillain2, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ہم جوان ہونے کے لیے کتنے بے تاب تھے۔ بچپن میں لگتا تھا کہ بس جلدی سے بڑے ہو جائیں، پھر اپنی مرضی کی زندگی گزاریں گے، اپنے فیصلے خود کریں گے، کسی سے اجازت نہیں لینی پڑے گی، اپنی خواہشوں کے مطابق دنیا دیکھیں گے اور زندگی ہماری مرضی سے چلے گی۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ جوانی صرف آزادی کا نام نہیں، ذمہ داریوں کا بھی نام ہے۔ بچپن میں جس بڑے ہونے کو ہم کامیابی سمجھتے تھے، آج اسی جوانی میں بیٹھ کر کبھی کبھی اپنے بچپن کو یاد کرتے ہیں۔ تب جیب میں پیسے نہیں تھے، مگر دل مطمئن تھا۔ خواہشیں چھوٹی تھیں، مگر خوشیاں بڑی تھیں۔ ایک چھوٹی سی چیز مل جاتی تو پورا دن خوشی میں گزر جاتا تھا۔ آج ہمارے پاس پہلے سے زیادہ چیزیں ہیں، مگر سکون کم ہے۔ پہلے ہم کھیلنے کے لیے وقت ڈھونڈتے تھے، آج آرام کرنے کے لیے وقت نہیں ملتا۔ پہلے دوستوں کے ساتھ گھنٹوں بیٹھتے تھے، آج فون میں سینکڑوں رابطے ہیں مگر دل کی بات سننے والا شاید ایک بھی نہیں۔ جوان ہونے کی جلدی میں ہم نے یہ نہیں سوچا تھا کہ ایک دن ذمہ داریاں ہمارے کندھوں پر بھی ہوں گی۔ گھر کے مسائل، روزگار کی فکر، مستقبل کا خوف، رشتوں کی الجھنیں، لوگوں کی توقعات اور اپنے خوابوں کا بوجھ—سب ایک ساتھ زندگی کا حصہ بن جائیں گے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ باہر سے بالکل ٹھیک نظر آتے ہیں، مگر اندر سے تھکے ہوئے ہیں۔ مسکراتے ہیں، باتیں کرتے ہیں، لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں، سوشل میڈیا پر خوش نظر آتے ہیں، مگر رات کو جب سب خاموش ہو جاتا ہے تو انسان اپنے آپ سے پوچھتا ہے کہ آخر میں چاہتا کیا تھا اور کہاں پہنچ گیا؟ کبھی کبھی ہم اپنی ہی زندگی میں بھٹک جاتے ہیں۔ دوسروں کو خوش کرتے کرتے یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمیں خود کس چیز سے خوشی ملتی ہے۔ معاشرے کی توقعات پوری کرتے کرتے اپنی خواہشیں کہیں پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ دوسروں کے بنائے ہوئے معیار پر کامیاب ہونے کی کوشش میں اپنے دل کی آواز سننا چھوڑ دیتے ہیں۔ ہمیں بچپن میں لگتا تھا کہ بڑے لوگ بہت آزاد ہوتے ہیں۔ آج سمجھ آتا ہے کہ ہر عمر کے اپنے قید خانے ہوتے ہیں۔ کوئی پیسوں کی فکر میں قید ہے، کوئی خاندان کی ذمہ داریوں میں، کوئی لوگوں کی رائے میں، کوئی اپنے ماضی میں اور کوئی مستقبل کے خوف میں۔ لیکن شاید زندگی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہم ہر وقت مضبوط بن کر کھڑے رہیں۔ کبھی تھک جانا بھی انسان ہونے کی علامت ہے۔ کبھی رک جانا بھی ضروری ہے۔ کبھی اپنے آپ سے یہ پوچھنا بھی ضروری ہے کہ
ہم جوان ہونے کے لیے کتنے بے تاب تھے۔ بچپن میں لگتا تھا کہ بس جلدی سے بڑے ہو جائیں، پھر اپنی مرضی کی زندگی گزاریں گے، اپنے فیصلے خود کریں گے، کسی سے اجازت نہیں لینی پڑے گی، اپنی خواہشوں کے مطابق دنیا دیکھیں گے اور زندگی ہماری مرضی سے چلے گی۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ جوانی صرف آزادی کا نام نہیں، ذمہ داریوں کا بھی نام ہے۔ بچپن میں جس بڑے ہونے کو ہم کامیابی سمجھتے تھے، آج اسی جوانی میں بیٹھ کر کبھی کبھی اپنے بچپن کو یاد کرتے ہیں۔ تب جیب میں پیسے نہیں تھے، مگر دل مطمئن تھا۔ خواہشیں چھوٹی تھیں، مگر خوشیاں بڑی تھیں۔ ایک چھوٹی سی چیز مل جاتی تو پورا دن خوشی میں گزر جاتا تھا۔ آج ہمارے پاس پہلے سے زیادہ چیزیں ہیں، مگر سکون کم ہے۔ پہلے ہم کھیلنے کے لیے وقت ڈھونڈتے تھے، آج آرام کرنے کے لیے وقت نہیں ملتا۔ پہلے دوستوں کے ساتھ گھنٹوں بیٹھتے تھے، آج فون میں سینکڑوں رابطے ہیں مگر دل کی بات سننے والا شاید ایک بھی نہیں۔ جوان ہونے کی جلدی میں ہم نے یہ نہیں سوچا تھا کہ ایک دن ذمہ داریاں ہمارے کندھوں پر بھی ہوں گی۔ گھر کے مسائل، روزگار کی فکر، مستقبل کا خوف، رشتوں کی الجھنیں، لوگوں کی توقعات اور اپنے خوابوں کا بوجھ—سب ایک ساتھ زندگی کا حصہ بن جائیں گے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ باہر سے بالکل ٹھیک نظر آتے ہیں، مگر اندر سے تھکے ہوئے ہیں۔ مسکراتے ہیں، باتیں کرتے ہیں، لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں، سوشل میڈیا پر خوش نظر آتے ہیں، مگر رات کو جب سب خاموش ہو جاتا ہے تو انسان اپنے آپ سے پوچھتا ہے کہ آخر میں چاہتا کیا تھا اور کہاں پہنچ گیا؟ کبھی کبھی ہم اپنی ہی زندگی میں بھٹک جاتے ہیں۔ دوسروں کو خوش کرتے کرتے یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمیں خود کس چیز سے خوشی ملتی ہے۔ معاشرے کی توقعات پوری کرتے کرتے اپنی خواہشیں کہیں پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ دوسروں کے بنائے ہوئے معیار پر کامیاب ہونے کی کوشش میں اپنے دل کی آواز سننا چھوڑ دیتے ہیں۔ ہمیں بچپن میں لگتا تھا کہ بڑے لوگ بہت آزاد ہوتے ہیں۔ آج سمجھ آتا ہے کہ ہر عمر کے اپنے قید خانے ہوتے ہیں۔ کوئی پیسوں کی فکر میں قید ہے، کوئی خاندان کی ذمہ داریوں میں، کوئی لوگوں کی رائے میں، کوئی اپنے ماضی میں اور کوئی مستقبل کے خوف میں۔ لیکن شاید زندگی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہم ہر وقت مضبوط بن کر کھڑے رہیں۔ کبھی تھک جانا بھی انسان ہونے کی علامت ہے۔ کبھی رک جانا بھی ضروری ہے۔ کبھی اپنے آپ سے یہ پوچھنا بھی ضروری ہے کہ "میں واقعی خوش ہوں یا صرف دوسروں کو یہ دکھا رہا ہوں کہ میں خوش ہوں؟" اگر جوانی میں تھکن محسوس ہو رہی ہے تو خود کو ناکام مت سمجھیں۔ زندگی کوئی سیدھی سڑک نہیں جس پر ہر شخص ایک ہی رفتار سے چلتا ہے۔ کسی کی منزل جلد آتی ہے، کسی کی دیر سے۔ کسی کا راستہ آسان ہوتا ہے، کسی کو ہر قدم پر آزمائش ملتی ہے۔ اپنے بچپن کو یاد کریں، مگر اس لیے نہیں کہ ماضی میں واپس جانا ہے؛ بلکہ اس لیے کہ اس بچے کو دوبارہ اپنے اندر زندہ کیا جا سکے جو معمولی چیزوں میں خوش ہو جاتا تھا۔ کبھی بے وجہ ہنسیں، کبھی دوستوں کے ساتھ بیٹھیں، کبھی کتاب پڑھیں، کبھی سفر کریں، کبھی چائے کا کپ لے کر خاموشی میں بیٹھیں۔ زندگی کو صرف مستقبل کی تیاری نہ بنائیں۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کامیابی صرف زیادہ پیسہ کمانے، بڑا گھر بنانے یا لوگوں سے آگے نکل جانے کا نام نہیں۔ اگر آپ کے پاس سب کچھ ہے مگر دل میں سکون نہیں تو کہیں نہ کہیں زندگی کا کوئی اہم حصہ آپ سے چھوٹ رہا ہے۔ اس لیے اپنی زندگی میں اپنے لیے بھی جگہ رکھیں۔ والدین کے لیے وقت نکالیں، اچھے دوستوں کو سنبھالیں، اپنے جسم اور ذہن کو آرام دیں، اپنے خوابوں کو مکمل طور پر دفن نہ کریں اور ہر وقت لوگوں کی منظوری کے محتاج نہ رہیں۔ ہم جوان ہونے کے لیے بے تاب تھے، مگر آج جب جوانی ہمارے سامنے ہے تو سمجھ آ رہا ہے کہ بچپن کتنا قیمتی تھا۔ وہاں مسائل کم نہیں تھے، بس ہماری سوچ ہلکی تھی۔ وہاں دنیا چھوٹی تھی، مگر خوشیاں بڑی تھیں۔ شاید ہم دوبارہ بچے نہیں بن سکتے، مگر اپنے اندر کا وہ سادہ سا انسان ضرور واپس لا سکتے ہیں جو ہر چیز کو مقابلہ نہیں سمجھتا تھا، جو ہر رشتے میں فائدہ نہیں ڈھونڈتا تھا، جو ہر بات کا جواب نہیں مانگتا تھا اور جو زندگی کو صرف گزارنے کے بجائے محسوس بھی کرتا تھا۔ زندگی بہت تیزی سے گزر رہی ہے۔ کل ہم بچپن کو یاد کر رہے تھے، آج جوانی کے مسائل میں الجھے ہیں، اور کل شاید اسی جوانی کو یاد کریں گے۔ اس لیے آج کو مکمل طور پر ضائع نہ کریں۔ ہم جوان ہونے کے لیے کتنے بے تاب تھے، لیکن اب خود کو دیکھ تھکے ہوئے، بھٹکے ہوئے، الجھے ہوئے۔ شاید ہمیں جوانی سے نہیں، زندگی کو سمجھنے میں جلدی تھی۔ 💔🙂#foryoure #viralvideos #foryoupage #followers #everyone

About