@aqsa_writes93: جب بیٹیاں چھوٹی ہوتی ہیں تو ہر شام دروازے کی طرف دیکھتی ہیں کہ بابا کب آئیں گے اور دوڑ کر ان سے لپٹ جائیں گی مگر جب وہی بیٹیاں رخصت ہو جاتی ہیں تو انتظار بدل جاتا ہے اب ہر شام ایک باپ دروازے کی طرف دیکھتا ہے کہ میری بیٹی کب آئے گی کب اس کی ہنسی سے یہ آنگن پھر آباد ہوگا رخصتی صرف ایک بیٹی کی نہیں ہوتی اس دن ایک باپ کی ہنسی بھی اس کے ساتھ رخصت ہو جاتی ہے وہ گھر میں سب کے سامنے مسکراتا ہے مگر رات کو اپنی بیٹی کے خالی کمرے کو دیکھ کر خاموشی سے رو لیتا ہے وقت گزرتا رہتا ہے مگر باپ کی دعائیں کبھی نہیں بدلتیں وہ ہر سجدے میں یہی مانگتا ہے کہ یا اللہ میری بیٹی جہاں بھی رہے اس کی آنکھوں میں کبھی وہ آنسو نہ آئیں جو مجھ سے دیکھے نہ جائیں مگر بعض اوقات بیٹیاں اپنے دکھ اپنی مسکراہٹ کے پیچھے چھپا لیتی ہیں اور ایک باپ صرف ان کی آواز سن کر ہی دل کو تسلی دیتا رہتا ہے پھر ایک دن انتظار ختم ہو جاتا ہے مگر حسرت نہیں کچھ باپ اپنی بیٹی کو سینے سے لگانے کی خواہش اپنے ساتھ قبر تک لے جاتے ہیں اور ان کے بعد اس دروازے پر کبھی کسی کا انتظار نہیں ہوتا #باپ_بیٹی_کا_رشتہ #باپ_کی_تڑپ #بیٹی_کی_جدائی #بیٹی_کی_یاد #باپ_کے_آنسو