@aliimran_writes: ہم اپنے لیے جیتے ہی کب ہیں، ساری عمر دوسروں کا بھرم رکھنے میں گزر جاتی ہے۔ انسان اکثر اپنی خواہشوں سے پہلے دوسروں کی ضرورتوں کو رکھتا ہے۔ کسی کے لیے مضبوط بننا پڑتا ہے، کسی کا حوصلہ قائم رکھنا ہوتا ہے، کسی کی امید نہیں توڑنی ہوتی، اور کسی رشتے کی عزت بچانے کے لیے اپنی بہت سی باتیں دل میں ہی دفن کرنی پڑتی ہیں۔ یوں وقت گزرتا رہتا ہے اور انسان دوسروں کے لیے اپنے حصے کی زندگی بھی خرچ کرتا جاتا ہے۔ "بھرم رکھنا" یہاں صرف کسی کا راز چھپانے کا نام نہیں؛ یہ کسی کے اعتماد، امید، محبت اور تعلق کو ٹوٹنے سے بچانے کا استعارہ ہے۔ کبھی انسان خود اندر سے پریشان ہوتا ہے مگر دوسروں کے سامنے مسکراتا ہے، خود تھکا ہوتا ہے مگر کسی دوسرے کے لیے سہارا بن جاتا ہے، اور خود بہت کچھ کہنا چاہتا ہے مگر صرف اس لیے خاموش رہتا ہے کہ کسی کا دل نہ ٹوٹے۔ سب سے بڑی تلخی یہ ہے کہ دوسروں کا بھرم رکھتے رکھتے انسان کبھی کبھی اپنے دل کی آواز سننا ہی بھول جاتا ہے۔ زندگی میں دوسروں کے لیے جینا یقیناً خوبصورت ہے، مگر انسان کو اپنے وجود، اپنے سکون اور اپنی جائز خواہشوں کا حق بھی یاد رکھنا چاہیے۔ ورنہ ایک دن پیچھے مڑ کر دیکھنے پر شاید یہی محسوس ہو کہ سب کے چہروں پر مسکراہٹ رکھنے کی کوشش میں، اپنی ہی زندگی کہیں پیچھے رہ گئی۔ #foryou