@ababeel6335385: #اب میں انسانوں کے سہارے تلاش بھی نہیں کرتا ۔ ذرا بھی آس امید نہیں لگاتا ۔ تمھیں تو پتا ہو گا یہ سب انسان سبھی رشتے صرف مطلب کے ہوتے ہیں۔ "کچھ دو اور کچھ لو" کے اصول کے تحت ۔ ۔ ۔ ۔ جب تک آپ کسی کام کے ہیں صرف تب تک ۔ ۔ یہ دنیا ہے یہاں لوگوں میں رہنے کے لئے " زندہ رہنا پڑے گا ۔ اس دور میں ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ " میں تمہارے لئے جان بھی قربان کر سکتا ہوں " ۔ کسی کا پسندیدہ بنے رہنے کے لئے اس جملے سے کام نہیں چل سکتا ۔ کوئی چاہے کسی کیلئے کتنا ہی اہم ہو، منظر سے پرے ہٹ جائے گا تو کچھ عرصے بعد اسکی جگہ کوئی دوسرا آہی جاتا ہے ۔ چیزوں کی طرح انسان بھی ریپلیس ہو جاتے ہیں ۔ اور دنیا اسی کا نام ہے ۔ میں بھی کسی کو اپنے ساتھ باندھنے کی کوشش نہیں کرتا اب کسی کے آنے سے خوشی نہیں ، کسی کے جانے سے غم نہیں ۔ تم ۔ ۔ ہاں تم بھی ۔ ۔ چلے جاؤ گے تو زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا، میں روؤں گا، کچھ عرصہ تکلیف میں رہوں گا، پھر مجھے اکیلے رہنے کی ، خود کلامی کی عادت ہو جائے گی ۔ اور بس ۔ ۔ ۔ ۔ یا پھر میں ۔ ۔ ۔ میں چلا جاؤں گا تو کیا ہوگا ، تمہیں بھی اکیلے رہنے کی عادت ہو جائے گی ، یا پھر میری جگہ کوئی اور آجائے گا ، اور بس ۔ ۔ ۔ ۔ زندگی کے اتنے برسوں میں ایک بات تو سیکھ ہی لی ہے میں نے ۔ " ہم کسی کے لئے بھی ضروری نہیں ہوتے ۔ ہر کسی کے لئے "ضرورت" اہم ہوتی ہے " اگر چہ یہ بات تکلیف دہ ہے کہ ہم کسی کے لئے اہم نہیں ہوتے ۔ لیکن حقیقت بھی یہی ہے ۔