@tehrek.inqlab804: یہ وہ لڑکا ہے جس کو باقی پرچوں میں A گریڈ ملا جبکہ بیالوجی میں "0" ۔ اس نے اسی پرچے کی طرح ایک اور پرچہ لکھ کر اور ڈائگرام بنا کر پشاور ہائی کورٹ کے جج اعجاز انور کے سامنے رکھ دیا۔ بورڈ نے کہا والد کے ساتھ معاملہ حل ہوگیا۔۔جج نے کہا ایسے کیسے معاملہ حل ہوسکتا ہے۔زمہ داران کے کے خلاف کاروائی ہوگی۔ فاضل جج نے متعلقہ بورڈ کے زمہ داران کو "حقیقی پرچے" کے ساتھ حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔ ویسے بڑا شرارتی بچہ ہے۔ #ImranKhanMustGetJustice