@tqynhz_ah_tyty: :Bột ngũ cốc nghệ chuối xanh✨ #botngucocnghechuoixanh #mocnuongvietnam #botngucoc #tqynhz_ah_tyty #xh

🎭𝙌𝙖𝙣𝙝 𝙡𝙤𝙣𝙚𝙡𝙮🎭
🎭𝙌𝙖𝙣𝙝 𝙡𝙤𝙣𝙚𝙡𝙮🎭
Open In TikTok:
Region: VN
Thursday 27 August 2026 01:36:58 GMT
349
37
14
19

Music

Download

Comments

nhan48hi
Xương Unbox 𐙚 :
Ưng lắm
2026-08-27 03:21:24
1
3thag8_
Reviewww Đồ Xink :
Ngon hen
2026-08-27 03:04:12
1
thanh_dngg
Ta_tii♡♡ :
Ưng nhen
2026-08-27 02:49:15
1
tiemtaphoa.nha.mymy
Tạp.hoá.My.My :
ngon
2026-09-11 11:00:27
0
izuniee
Izuna :
Dễ uống hem bà
2026-08-27 02:53:27
1
uynboctem
Uyn Bóc Tem :
Tậu liền
2026-08-27 02:27:44
1
kawachan81
Kawa unbox :
Dễ uống k bà
2026-08-27 04:12:26
0
dthd23.11
𝑫𝑻𝑫 :
dễ uống nhaa
2026-08-27 02:06:34
1
quang.tun.t98
HoMaii nè :
Dễ uống nha
2026-08-27 02:32:14
1
_nhienxinhiuu
𝒚𝒖𝒉𝒕𝒏𝒉𝒊𝒆𝒏🌷 :
dễ únn hongg
2026-08-27 03:33:47
1
diemhoang.06
Mẹ Sữa Review🍀 :
Ngon nha
2026-08-27 02:46:38
1
hathuong201
Hà Thương Review :
Ngon ha
2026-08-27 03:32:35
1
tides.tthuy_
Thủy thủ mặt trời ྀི 🫧☀️ :
tốt nha
2026-08-27 01:43:31
1
riviuer233
~ Kim Zyy unbox ~ :
Dễ uống nhe
2026-08-27 02:29:20
0
To see more videos from user @tqynhz_ah_tyty, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

35 سال کویت اور سعودی عرب میں کمائی کرنے والے لاہوریے کی کہانی : جو واپس آیا تو ائیرپورٹ سے سیدھا اولڈ ہوم جانا پڑ گیا ۔۔۔۔ محمد نواز فریج اے سی ریپیئرنگ کا کام کرتے تھے 10 سال کویت میں کام کیا گھر کو خوشحال کیا جو کماتے اپنے خرچہ رکھ کر بقایا بیوی کو بھیج دیتے ، بیوی بچوں کی ہر خواہش فرمائش پوری کی ، کوٹھی نما گھر ، گاڑی ، جدید موبائل ، بچوں کے لیے لیپ ٹاپس ، گھر میں ضرورت اور آسائش کی ہر چیز مہیا کی لیکن غربت سے امارت کا سفر شاید بیوی کو راس نہ آیا ۔ اسکی ایک ہی ضد تھی ، کیا ضرورت ہے واپس آنے کی وہیں رہو اور کمائی کرو ۔۔۔ کویت میں 10 سال گزار کر واپس آئے تو   بیٹی اور بیٹا 5، 7 سال کے تھے یہاں لاہور میں اپنی شاپ بنائی اور زندگی  کی گاڑی کو دھکا دینے کی کوشش کی لیکن کام نہ چلا تو سال دو سال بعد ویزہ لگوا کر سعودی عرب چلے گئے ، ابتدا میں وہاں بہت مشکل دن دیکھے کفیل والے نظام نے انہیں بڑا خجل خراب کیا لیکن پھر کاغذات مکمل کرکے کمائی کرنے لگے ، 20 سے 22 سال یہاں کام کیا اس دوران گھر کے صرف 3، یا چار چکر لگائے ، اس سارے دورانیے میں دولت تو کمائی لیکن خاندان برباد کر لیا ، انکی بیوی صرف پیسے کی پجارن بن گئی ، بچے ظاہر ہے ماں کے ساتھ رہے تو ماں کی زبان بولتے تھے ۔ پیسہ پیسہ پیسہ ، بیوی کی زبان پر ایک یہی لفظ رہتا ، پوری برادری میں جو چیز ہماری ہو اس جیسی کسی اور کے پاس نہ ہو ، کم ظرف عورت نے محمد نواز کو پیسے کمانے والی مشین سمجھ لیا ۔ آج سے لگ بھگ ایک سال قبل جھگڑا شروع ہوا جب محمدنواز نے طے کر لیا کہ اب صحت اجازت نہیں دیتی بہت کما لیا باقی زندگی بیوی بچوں کے پاس گزاریں گے ۔ لیکن بیوی ڈٹ گئی ، صاف کہہ دیا ، کوئی ضرورت نہیں گھر آنے کی ، اچھی خاصی کمائی کررہے ہو اس ملک میں کیا رکھا ہے ۔ اگر پھر بھی واپس آؤ تو اپنا بندوبست خود کرنا اس گھر کے دروازے تمہارے اوپر بند ہیں ۔ محمد نواز نے اپنی بیوی کے ماں باپ اور بہن بھائیوں سے بات کی ، انہوں نے انصاف سے کام لیا اور اپنی بہن بیٹی کو غلط کہا لیکن وہ دشمنی پر آگئی ، کہ میرا گھر ہے جو مرضی کروں ، میرے بہن بھائی کون ہوتے ہیں مجھے غلط کہنے والے ۔۔۔ پھر ایک روز محمد نواز لاہور ائیر پورٹ پر اترے تو بیوی ، بیٹی یا بیٹا لینے بھی نہ آئے ، ایک بھتیجا ائیرپورٹ پر لینے آیا ، گھر والوں نے صاف انکار کردیا اسے جدھر مرضی لے جاؤ ہمارے گھر نہ لانا اور بھتیجا محمد نواز کو ائیرپورٹ سے اپنے گھر لے گیا ۔غنیمت یہ کہ چند لاکھ روپے محمد نواز کے پاس تھے انہوں نے خورشید اولڈ ہوم سے رابطہ کیا کہ بیمار ضرور ہوں مگر بیکار نہیں ہوں مجھے رہنے کے لیے چھت اور دو وقت کی روٹی دے دیں آپ کے بہت کام آؤنگا ۔۔۔۔ آج پچھلے 3 ماہ سے محمد نواز خورشید اولڈ ہوم میں رہ رہے ہیں، رضارانہ طور پر یہاں کام بھی کرتے ہیں  ، رشتہ دار بیوی کو قائل کرنے میں ناکام ہیں ۔ بیوی نہیں ہے گویا دشمن ہے اور بچے ناگن کے بچے ہیں ، محمد نواز اپنے جیسے لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ بیوی بچوں کو ضرور پالیں انہیں گھر سہولیات اور آسائشیں سب کچھ دیں لیکن خدارا کچھ اپنے لیے بچا کر رکھیں ، بڑھاپے اور بیماری میں رشتوں کی اصلیت معلوم ہوتی ہے اور آج سب سے بڑا رشتہ دار اور دوست پیسہ ہی ہے ۔۔۔۔ #fblifestyle
35 سال کویت اور سعودی عرب میں کمائی کرنے والے لاہوریے کی کہانی : جو واپس آیا تو ائیرپورٹ سے سیدھا اولڈ ہوم جانا پڑ گیا ۔۔۔۔ محمد نواز فریج اے سی ریپیئرنگ کا کام کرتے تھے 10 سال کویت میں کام کیا گھر کو خوشحال کیا جو کماتے اپنے خرچہ رکھ کر بقایا بیوی کو بھیج دیتے ، بیوی بچوں کی ہر خواہش فرمائش پوری کی ، کوٹھی نما گھر ، گاڑی ، جدید موبائل ، بچوں کے لیے لیپ ٹاپس ، گھر میں ضرورت اور آسائش کی ہر چیز مہیا کی لیکن غربت سے امارت کا سفر شاید بیوی کو راس نہ آیا ۔ اسکی ایک ہی ضد تھی ، کیا ضرورت ہے واپس آنے کی وہیں رہو اور کمائی کرو ۔۔۔ کویت میں 10 سال گزار کر واپس آئے تو بیٹی اور بیٹا 5، 7 سال کے تھے یہاں لاہور میں اپنی شاپ بنائی اور زندگی کی گاڑی کو دھکا دینے کی کوشش کی لیکن کام نہ چلا تو سال دو سال بعد ویزہ لگوا کر سعودی عرب چلے گئے ، ابتدا میں وہاں بہت مشکل دن دیکھے کفیل والے نظام نے انہیں بڑا خجل خراب کیا لیکن پھر کاغذات مکمل کرکے کمائی کرنے لگے ، 20 سے 22 سال یہاں کام کیا اس دوران گھر کے صرف 3، یا چار چکر لگائے ، اس سارے دورانیے میں دولت تو کمائی لیکن خاندان برباد کر لیا ، انکی بیوی صرف پیسے کی پجارن بن گئی ، بچے ظاہر ہے ماں کے ساتھ رہے تو ماں کی زبان بولتے تھے ۔ پیسہ پیسہ پیسہ ، بیوی کی زبان پر ایک یہی لفظ رہتا ، پوری برادری میں جو چیز ہماری ہو اس جیسی کسی اور کے پاس نہ ہو ، کم ظرف عورت نے محمد نواز کو پیسے کمانے والی مشین سمجھ لیا ۔ آج سے لگ بھگ ایک سال قبل جھگڑا شروع ہوا جب محمدنواز نے طے کر لیا کہ اب صحت اجازت نہیں دیتی بہت کما لیا باقی زندگی بیوی بچوں کے پاس گزاریں گے ۔ لیکن بیوی ڈٹ گئی ، صاف کہہ دیا ، کوئی ضرورت نہیں گھر آنے کی ، اچھی خاصی کمائی کررہے ہو اس ملک میں کیا رکھا ہے ۔ اگر پھر بھی واپس آؤ تو اپنا بندوبست خود کرنا اس گھر کے دروازے تمہارے اوپر بند ہیں ۔ محمد نواز نے اپنی بیوی کے ماں باپ اور بہن بھائیوں سے بات کی ، انہوں نے انصاف سے کام لیا اور اپنی بہن بیٹی کو غلط کہا لیکن وہ دشمنی پر آگئی ، کہ میرا گھر ہے جو مرضی کروں ، میرے بہن بھائی کون ہوتے ہیں مجھے غلط کہنے والے ۔۔۔ پھر ایک روز محمد نواز لاہور ائیر پورٹ پر اترے تو بیوی ، بیٹی یا بیٹا لینے بھی نہ آئے ، ایک بھتیجا ائیرپورٹ پر لینے آیا ، گھر والوں نے صاف انکار کردیا اسے جدھر مرضی لے جاؤ ہمارے گھر نہ لانا اور بھتیجا محمد نواز کو ائیرپورٹ سے اپنے گھر لے گیا ۔غنیمت یہ کہ چند لاکھ روپے محمد نواز کے پاس تھے انہوں نے خورشید اولڈ ہوم سے رابطہ کیا کہ بیمار ضرور ہوں مگر بیکار نہیں ہوں مجھے رہنے کے لیے چھت اور دو وقت کی روٹی دے دیں آپ کے بہت کام آؤنگا ۔۔۔۔ آج پچھلے 3 ماہ سے محمد نواز خورشید اولڈ ہوم میں رہ رہے ہیں، رضارانہ طور پر یہاں کام بھی کرتے ہیں ، رشتہ دار بیوی کو قائل کرنے میں ناکام ہیں ۔ بیوی نہیں ہے گویا دشمن ہے اور بچے ناگن کے بچے ہیں ، محمد نواز اپنے جیسے لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ بیوی بچوں کو ضرور پالیں انہیں گھر سہولیات اور آسائشیں سب کچھ دیں لیکن خدارا کچھ اپنے لیے بچا کر رکھیں ، بڑھاپے اور بیماری میں رشتوں کی اصلیت معلوم ہوتی ہے اور آج سب سے بڑا رشتہ دار اور دوست پیسہ ہی ہے ۔۔۔۔ #fblifestyle

About