@ngocthuhien_1: Chị ơi, sao chị lại muốn tháo chiếc vòng tay đó ra#phithuy #fyp #viral

Ngọc Thư Hiên
Ngọc Thư Hiên
Open In TikTok:
Region: VN
Thursday 27 August 2026 06:26:58 GMT
127023
3519
11
42

Music

Download

Comments

hnn.nsns2
HNN :
em trai của chị cưới chồng mà 😂
2026-08-30 13:23:02
52
ntkc0710
Khanh Chi :
Đtrai vl
2026-08-27 18:36:00
35
nguoidepnguquen_11
nguoidepnguquen_11 :
Hôm nay em trai okngr trông hiền dễ thương v
2026-08-30 19:52:20
3
tlml.2509
🦎 :
Cái này khá rẻ giá 2v2 là khoảng 90tr hẻ 😂
2026-09-04 16:46:47
0
kitty_mymy08
Mỳ Mỳ :
Ủa 7000 ndt là 27 triệu vnd á hả mn. Vậy là rẻ hõ
2026-09-26 14:56:28
0
annnguyen036
Ann :
Gặp lucy phải chia đôi giá 8000 chia 2 cụ thể là 2000
2026-08-28 08:51:51
0
nhutbingo
triệu ngo nhut minh :
e muốn mua hjhj
2026-09-01 06:03:09
0
sill672010
sill672010 :
Nay chị ra biển lun 😅
2026-08-28 06:29:43
6
thanh.hin0056
Mắm Review 🦦🦦🦦 :
Em trai bả giống Ngao Thuỷ Bằng ghê
2026-08-31 07:04:39
2
thu81pleku
Tâm An Vạn Sự An :
Nguyện người 1 niệm an
2026-08-28 11:58:28
0
anhvuchoiga.anhvu
Anhvuchoiga Anhvuchoiga :
🥰🥰🥰
2026-09-03 16:25:05
0
To see more videos from user @ngocthuhien_1, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

تیرے جانے کے بعد ہم مرے تو نہیں ہیں، مگر شاید ہم پہلے جیسے جئے بھی نہیں۔ سانسیں اب بھی آتی جاتی ہیں، دل اب بھی دھڑکتا ہے، صبحیں اب بھی ہوتی ہیں، راتیں اب بھی گزرتی ہیں، لوگ اب بھی ہمیں ہنستا ہوا دیکھتے ہیں، مگر کوئی یہ نہیں جانتا کہ اس ہنسی کے پیچھے کتنی خاموش تھکن چھپی ہے۔ تیرے جانے کے بعد ہم نے خود کو بہت سمجھایا، بہت تسلیاں دیں، بہت بار دل سے کہا کہ جو چلا گیا اسے جانے دو، مگر دل بھی عجیب چیز ہے، جس شخص کو بھولنے کا حکم دو، اسی کو سب سے زیادہ یاد کرنے لگتا ہے۔ کبھی کبھی خاموش بیٹھے بیٹھے دل میں ایک سوال اٹھتا ہے، کہ آخر ہم نے ایسا کیا مانگ لیا تھا جو ہمیں مل نہ سکا؟ ہم نے تو صرف تجھے چاہا تھا، تجھے اپنا سمجھا تھا، تیرے ساتھ کچھ خوبصورت دن جینے کی خواہش کی تھی۔ مگر شاید قسمت کو یہ بھی منظور نہیں تھا۔ اور اب جب زندگی کا ایک بڑا حصہ تیری یادوں کے نام ہو چکا ہے، تو سوچتی ہوں اگر تُو مل جاتا تو یہ عمر یوں ضائع نہ جاتی۔ یہ جو اتنے سال تجھے سوچنے میں گزر گئے، یہ جو کتنی راتیں تیرا نام دل میں لیے آنکھیں بند کر کے گزار دیں، یہ جو ہر خوشی میں تیری کمی محسوس ہوئی، یہ جو ہر دعا میں نہ چاہتے ہوئے بھی تیرا خیال آ گیا، کاش یہ سب صرف انتظار نہ ہوتا۔ کاش تُو مل جاتا، تو شاید ہمیں ہر خوشی کے بعد تیری کمی محسوس نہ ہوتی۔ کاش تُو مل جاتا، تو شاید ہمیں لوگوں کے درمیان رہ کر بھی اتنا اکیلا محسوس نہ ہوتا۔ کاش تُو مل جاتا، تو شاید ہم اپنے دل کو یہ سمجھا سکتے کہ جس کے لیے اتنا کچھ محسوس کیا، وہ آخرکار ہمارا ہی تو ہے۔ مگر تُو نہیں ملا۔ اور یہ حقیقت آج بھی دل کو اسی طرح توڑتی ہے جیسے پہلی بار توڑا تھا۔ ہم نے تجھے صرف ایک شخص کی طرح نہیں چاہا تھا، ہم نے تو تجھے اپنی آنے والی زندگی کا ایک خوبصورت حصہ سمجھ لیا تھا۔ ہم نے سوچا تھا کبھی تو ایسا دن آئے گا جب انتظار ختم ہوگا، فاصلے ختم ہوں گے، گلے شکوے ختم ہوں گے، اور ہم صرف ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر یہ سوچیں گے کہ اتنا وقت ایک دوسرے سے دور کیسے گزار دیا۔ مگر وہ دن کبھی آیا ہی نہیں۔ تُو چلا گیا، اور ہم وہیں رہ گئے جہاں آخری بار تیرا انتظار کیا تھا۔ لوگ کہتے ہیں وقت ہر زخم بھر دیتا ہے، مگر شاید کچھ زخم وقت کے ساتھ بھرنے کے بجائے خاموش ہو جاتے ہیں۔ میرا زخم بھی شاید خاموش ہو گیا ہے، ختم نہیں ہوا۔ اب میں تیرا نام ہر وقت نہیں لیتی، مگر ہر خاموشی میں تیرا خیال آ جاتا ہے۔ اب میں تجھے ہر لمحہ نہیں ڈھونڈتی، مگر ہر بھیڑ میں آنکھیں جانے کیوں تجھے تلاش کرنے لگتی ہیں۔ اب میں تیرے لوٹ آنے کی دعا بھی نہیں کرتی، مگر دل کے کسی کونے میں ایک چھوٹی سی خواہش اب بھی زندہ ہے کہ شاید کبھی قسمت ہم پر بھی مہربان ہو جائے۔ مگر پھر حقیقت سامنے آتی ہے اور کہتی ہے کہ کچھ خواہشیں صرف خواہشیں ہی رہ جاتی ہیں۔ اور کچھ لوگ زندگی میں آ کر زندگی کا مطلب تو بدل دیتے ہیں، مگر زندگی کا حصہ نہیں بن پاتے۔ تُو بھی شاید میری زندگی کا وہی ادھورا باب ہے۔ جسے جتنا پڑھتی ہوں، اتنا ہی دل چاہتا ہے کاش کہانی کا انجام کچھ اور ہوتا۔ کاش تُو رک جاتا۔ کاش میں تجھے روک پاتی۔ کاش حالات ہمیں ایک دوسرے سے چھین نہ لیتے۔ کاش وقت اتنا بے رحم نہ ہوتا۔ کاش محبت صرف محسوس کرنے کی چیز نہ ہوتی، کبھی نصیب ہونے کی چیز بھی ہوتی۔ پھر شاید ہمیں یہ نہ کہنا پڑتا کہ تیرے جانے کے بعد ہم مرے تو نہیں، مگر ہماری بہت سی خواہشیں ضرور مر گئی ہیں۔ بہت سے خواب خاموش ہو گئے ہیں۔ بہت سی دعائیں ادھوری رہ گئی ہیں۔ اور ایک پوری عمر صرف یہ سوچتے سوچتے گزر گئی کہ اگر تُو مل جاتا تو کیا ہوتا؟ شاید ہم زیادہ خوش ہوتے۔ شاید ہم کم روتے۔ شاید ہمیں محبت پر اتنا افسوس نہ ہوتا۔ شاید ہم اپنی زندگی کو یوں خالی خالی نہ دیکھتے۔ اور شاید سب سے بڑھ کر ہمیں یہ ملال نہ ہوتا کہ جس شخص کے لیے دل نے اتنا کچھ محسوس کیا، وہ شخص ہماری قسمت میں ہی نہیں تھا۔ تیرے جانے کے بعد ہم نے جینا سیکھ تو لیا ہے، مگر تجھے بھولنا آج بھی نہیں سیکھ سکے۔ اور شاید ہم سیکھنا بھی نہیں چاہتے۔ کیونکہ کچھ لوگ چلے جانے کے بعد بھی دل میں اتنے گہرے رہ جاتے ہیں کہ انہیں بھول دینا اپنی ہی زندگی کے ایک خوبصورت حصے کو مٹا دینے جیسا لگتا ہے۔ اس لیے ہم تجھے بھولیں گے نہیں، بس تیرا ذکر کم کر دیں گے۔ تیرا انتظار نہیں کریں گے، بس کبھی کبھی دل کے دروازے کی طرف دیکھ لیا کریں گے۔ تجھے پانے کی ضد نہیں کریں گے، بس دل میں یہ ملال رکھیں گے کہ اگر تُو مل جاتا تو شاید یہ عمر یوں ضائع نہ جاتی۔ ہم مرے تو نہیں ہیں تیرے جانے کے بعد، مگر اے شخص، تیرے نہ ملنے کا دکھ ہمیں عمر بھر زندہ رہ کر سہنا ہوگا۔ کیونکہ کچھ لوگ مر کر بھی یاد نہیں آتے، اور کچھ لوگ زندہ رہتے ہوئے بھی زندگی بھر کی کمی بن جاتے ہیں۔ تُو میرے لیے وہی کمی ہے۔۔۔ جس کا کوئی بدل نہیں، جس کا کوئی دوسرا نام نہیں، اور جس کا ملال شاید میری عمر کے آخری دن تک میرے ساتھ رہے گا۔ بس ایک افسوس رہے گا۔۔۔ **کاش تُو مل جاتا، تو یہ عمر انتظار میں نہ گزرتی۔** **کاش تُو میرا ہوتا، تو شاید میں بھی خود کو اپنی زندگی میں کسی کا سمجھ پاتی۔
تیرے جانے کے بعد ہم مرے تو نہیں ہیں، مگر شاید ہم پہلے جیسے جئے بھی نہیں۔ سانسیں اب بھی آتی جاتی ہیں، دل اب بھی دھڑکتا ہے، صبحیں اب بھی ہوتی ہیں، راتیں اب بھی گزرتی ہیں، لوگ اب بھی ہمیں ہنستا ہوا دیکھتے ہیں، مگر کوئی یہ نہیں جانتا کہ اس ہنسی کے پیچھے کتنی خاموش تھکن چھپی ہے۔ تیرے جانے کے بعد ہم نے خود کو بہت سمجھایا، بہت تسلیاں دیں، بہت بار دل سے کہا کہ جو چلا گیا اسے جانے دو، مگر دل بھی عجیب چیز ہے، جس شخص کو بھولنے کا حکم دو، اسی کو سب سے زیادہ یاد کرنے لگتا ہے۔ کبھی کبھی خاموش بیٹھے بیٹھے دل میں ایک سوال اٹھتا ہے، کہ آخر ہم نے ایسا کیا مانگ لیا تھا جو ہمیں مل نہ سکا؟ ہم نے تو صرف تجھے چاہا تھا، تجھے اپنا سمجھا تھا، تیرے ساتھ کچھ خوبصورت دن جینے کی خواہش کی تھی۔ مگر شاید قسمت کو یہ بھی منظور نہیں تھا۔ اور اب جب زندگی کا ایک بڑا حصہ تیری یادوں کے نام ہو چکا ہے، تو سوچتی ہوں اگر تُو مل جاتا تو یہ عمر یوں ضائع نہ جاتی۔ یہ جو اتنے سال تجھے سوچنے میں گزر گئے، یہ جو کتنی راتیں تیرا نام دل میں لیے آنکھیں بند کر کے گزار دیں، یہ جو ہر خوشی میں تیری کمی محسوس ہوئی، یہ جو ہر دعا میں نہ چاہتے ہوئے بھی تیرا خیال آ گیا، کاش یہ سب صرف انتظار نہ ہوتا۔ کاش تُو مل جاتا، تو شاید ہمیں ہر خوشی کے بعد تیری کمی محسوس نہ ہوتی۔ کاش تُو مل جاتا، تو شاید ہمیں لوگوں کے درمیان رہ کر بھی اتنا اکیلا محسوس نہ ہوتا۔ کاش تُو مل جاتا، تو شاید ہم اپنے دل کو یہ سمجھا سکتے کہ جس کے لیے اتنا کچھ محسوس کیا، وہ آخرکار ہمارا ہی تو ہے۔ مگر تُو نہیں ملا۔ اور یہ حقیقت آج بھی دل کو اسی طرح توڑتی ہے جیسے پہلی بار توڑا تھا۔ ہم نے تجھے صرف ایک شخص کی طرح نہیں چاہا تھا، ہم نے تو تجھے اپنی آنے والی زندگی کا ایک خوبصورت حصہ سمجھ لیا تھا۔ ہم نے سوچا تھا کبھی تو ایسا دن آئے گا جب انتظار ختم ہوگا، فاصلے ختم ہوں گے، گلے شکوے ختم ہوں گے، اور ہم صرف ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر یہ سوچیں گے کہ اتنا وقت ایک دوسرے سے دور کیسے گزار دیا۔ مگر وہ دن کبھی آیا ہی نہیں۔ تُو چلا گیا، اور ہم وہیں رہ گئے جہاں آخری بار تیرا انتظار کیا تھا۔ لوگ کہتے ہیں وقت ہر زخم بھر دیتا ہے، مگر شاید کچھ زخم وقت کے ساتھ بھرنے کے بجائے خاموش ہو جاتے ہیں۔ میرا زخم بھی شاید خاموش ہو گیا ہے، ختم نہیں ہوا۔ اب میں تیرا نام ہر وقت نہیں لیتی، مگر ہر خاموشی میں تیرا خیال آ جاتا ہے۔ اب میں تجھے ہر لمحہ نہیں ڈھونڈتی، مگر ہر بھیڑ میں آنکھیں جانے کیوں تجھے تلاش کرنے لگتی ہیں۔ اب میں تیرے لوٹ آنے کی دعا بھی نہیں کرتی، مگر دل کے کسی کونے میں ایک چھوٹی سی خواہش اب بھی زندہ ہے کہ شاید کبھی قسمت ہم پر بھی مہربان ہو جائے۔ مگر پھر حقیقت سامنے آتی ہے اور کہتی ہے کہ کچھ خواہشیں صرف خواہشیں ہی رہ جاتی ہیں۔ اور کچھ لوگ زندگی میں آ کر زندگی کا مطلب تو بدل دیتے ہیں، مگر زندگی کا حصہ نہیں بن پاتے۔ تُو بھی شاید میری زندگی کا وہی ادھورا باب ہے۔ جسے جتنا پڑھتی ہوں، اتنا ہی دل چاہتا ہے کاش کہانی کا انجام کچھ اور ہوتا۔ کاش تُو رک جاتا۔ کاش میں تجھے روک پاتی۔ کاش حالات ہمیں ایک دوسرے سے چھین نہ لیتے۔ کاش وقت اتنا بے رحم نہ ہوتا۔ کاش محبت صرف محسوس کرنے کی چیز نہ ہوتی، کبھی نصیب ہونے کی چیز بھی ہوتی۔ پھر شاید ہمیں یہ نہ کہنا پڑتا کہ تیرے جانے کے بعد ہم مرے تو نہیں، مگر ہماری بہت سی خواہشیں ضرور مر گئی ہیں۔ بہت سے خواب خاموش ہو گئے ہیں۔ بہت سی دعائیں ادھوری رہ گئی ہیں۔ اور ایک پوری عمر صرف یہ سوچتے سوچتے گزر گئی کہ اگر تُو مل جاتا تو کیا ہوتا؟ شاید ہم زیادہ خوش ہوتے۔ شاید ہم کم روتے۔ شاید ہمیں محبت پر اتنا افسوس نہ ہوتا۔ شاید ہم اپنی زندگی کو یوں خالی خالی نہ دیکھتے۔ اور شاید سب سے بڑھ کر ہمیں یہ ملال نہ ہوتا کہ جس شخص کے لیے دل نے اتنا کچھ محسوس کیا، وہ شخص ہماری قسمت میں ہی نہیں تھا۔ تیرے جانے کے بعد ہم نے جینا سیکھ تو لیا ہے، مگر تجھے بھولنا آج بھی نہیں سیکھ سکے۔ اور شاید ہم سیکھنا بھی نہیں چاہتے۔ کیونکہ کچھ لوگ چلے جانے کے بعد بھی دل میں اتنے گہرے رہ جاتے ہیں کہ انہیں بھول دینا اپنی ہی زندگی کے ایک خوبصورت حصے کو مٹا دینے جیسا لگتا ہے۔ اس لیے ہم تجھے بھولیں گے نہیں، بس تیرا ذکر کم کر دیں گے۔ تیرا انتظار نہیں کریں گے، بس کبھی کبھی دل کے دروازے کی طرف دیکھ لیا کریں گے۔ تجھے پانے کی ضد نہیں کریں گے، بس دل میں یہ ملال رکھیں گے کہ اگر تُو مل جاتا تو شاید یہ عمر یوں ضائع نہ جاتی۔ ہم مرے تو نہیں ہیں تیرے جانے کے بعد، مگر اے شخص، تیرے نہ ملنے کا دکھ ہمیں عمر بھر زندہ رہ کر سہنا ہوگا۔ کیونکہ کچھ لوگ مر کر بھی یاد نہیں آتے، اور کچھ لوگ زندہ رہتے ہوئے بھی زندگی بھر کی کمی بن جاتے ہیں۔ تُو میرے لیے وہی کمی ہے۔۔۔ جس کا کوئی بدل نہیں، جس کا کوئی دوسرا نام نہیں، اور جس کا ملال شاید میری عمر کے آخری دن تک میرے ساتھ رہے گا۔ بس ایک افسوس رہے گا۔۔۔ **کاش تُو مل جاتا، تو یہ عمر انتظار میں نہ گزرتی۔** **کاش تُو میرا ہوتا، تو شاید میں بھی خود کو اپنی زندگی میں کسی کا سمجھ پاتی۔

About