@safirkhan5160: #جب انسان دنیاوی زندگی کی عارضی لذتوں اور فائدوں میں اس حد تک کھو جاتا ہے کہ وہ اپنے اچھے اعمال، اخلاقیات اور اللہ کے احکامات کو بھول جائے، تو وہ اپنی آخرت خراب کر بیٹھتا ہے۔قرآن مجید اور احادیث میں اس بات کی بار بار وضاحت کی گئی ہے کہ دنیا ایک عارضی ٹھکانہ ہے، جبکہ آخرت ہمیشہ رہنے والی زندگی ہے۔دنیا کے پیچھے آخرت کیسے خراب ہوتی ہے؟ترجیحات کا بدل جانا: جب انسان کا بنیادی مقصد صرف مال و دولت، شہرت یا طاقت حاصل کرنا بن جائے، تو وہ نماز، عبادت اور دیگر نیک اعمال سے غافل ہو جاتا ہے۔حلال و حرام کی تمیز ختم ہونا: دنیا کی اندھی محبت میں لوگ اکثر سچ، جھوٹ، حلال کمائی اور حرام مال (جیسے رشوت یا سود) کے فرق کو مٹا دیتے ہیں۔حقوق العباد کی پامالی: دنیا کی دوڑ میں آگے نکلنے کے لیے انسان دوسروں کو دھوکہ دیتا ہے، دل دکھاتا ہے یا ان کے حقوق غصب کرتا ہے، جو آخرت میں شدید نقصان کا باعث بنتے ہیں#ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”روزِ قیامت مقام و مرتبے کے لحاظ سے وہ شخص بدترین ہو گا جس نے کسی کی دنیا (بنانے) کی خاطر اپنی آخرت ضائع کر لی۔“ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه» ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5132] تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه ابن ماجه (3966) [و حسنه البوصيري المتأخر!] ٭ فيه عبد الحکيم السدوسي لم يوثقه غير ابن حبان من المتقدمين وروي عنه جماعة .»#following #everyone #سالامت رہو