@heartlessqueen133: ہہت کچھ کہنا ہے تم سے آج بھی، مگر ڈر لگتا ہے آغاز کرنے کو۔ وہ ایک بار جو تم نے توڑ دیا تھا، دل نہیں مانتا پھر اعتبار کرنے کو۔ تمہیں دیکھوں تو سب بھول جاتا ہوں، پھر یاد آتا ہے خود کو برباد کرنے کو۔ محبت آج بھی کم نہیں ہوئی تم سے، بس دل نہیں چاہتا خود کو خوار کرنے کو۔ کبھی تو دل چاہتا ہے لوٹ جاؤں، پھر عقل آ جاتی ہے مجھے روکنے کو۔ دل آج بھی تمہاری طرف جاتا ہے، مگر یاد آتا ہے تمہارا ٹھکرانے کو۔ ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں چھوڑا تھا، بس سیکھ لیا ہے خاموشی میں درد سہنے کو