@19feburary1997: مولانا رومی کا ایک انتہائی گہرا اور فکری قول درج ہے، جو انسان کی نفسیات، عاجزی، تکبر اور خدا کے ساتھ اس کے تعلق کو بہت خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ قول کا متن: "کچھ لوگوں نے اپنے گناہوں کی گہرائی میں خدا کو پا لیا ہے، جبکہ کچھ نے اپنی نعمتوں کی بلندی میں اسے کھو دیا ہے۔" تفصیلی وضاحت: اس قول کے دو اہم فکری پہلو ہیں: 1. گناہوں کی گہرائی میں خدا کو پالینا (ندامت اور عاجزی): مفہوم: جب انسان سے کوئی گناہ سرزد ہو جاتا ہے اور وہ اپنی غلطی پر نادم ہوتا ہے، تو اس کے دل میں ندامت، شرمندگی اور شکستگی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اصلاحِ قلب: یہ ٹوٹا ہوا دل اور عاجزی انسان کو تکبر سے پاک کر دیتی ہے۔ وہ اپنی کمزوری کا اعتراف کرتے ہوئے عاجزی کے ساتھ اللہ کے حضور توبہ اور استغفار کے لیے جھک جاتا ہے۔ حاصل: یہی سچی ندامت اور توبہ بندے کو خدا کے اتنا قریب کر دیتی ہے کہ وہ گناہ کی تاریکیوں سے نکل کر رب کی رحمت کی روشنی میں اس کا قرب پا لیتا ہے۔ (جیسا کہ حدیث کا مفہوم ہے کہ گناہ پر پشیمانی بھی توبہ ہے۔) 2. نعمتوں کی بلندی میں خدا کو کھو دینا (غفلت اور غرور): مفہوم: اس کے برعکس، جب انسان کو مال، دولت، طاقت، شہرت یا دنیا کی کوئی بھی بڑی نعمت ملتی ہے، تو اکثر لوگ فتنہِ غفلت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ غرور و تکبر: وہ نعمتوں کو اپنی محنت، ذہانت یا ذاتی قابلیت کا نتیجہ سمجھ بیٹھنے لگتے ہیں اور دینے والے (خالق) کو فراموش کر دیتے ہیں۔ حاصل: یہ ظاہری بلندی اور آسائشیں انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہیں اور اس کے دل میں انا اور تکبر پیدا کر کے اسے خدا سے دور کر دیتی ہیں۔ خلاصہ: یہ قول ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ظاہری کامیابی یا بلندی خدا سے قربت کی ضمانت نہیں, اور ظاہری پستی یا گناہ سے توبہ کا دروازہ ہمیشہ بند نہیں کرتا۔ اصل اہمیت دل کی کیفیت کی ہے؛ عاجزی اور شکستگی انسان کو خدا سے جوڑتی ہے، جبکہ غرور اور غفلت اسے خدا سے دور کر دیتی ہے۔ #Quotes #Rumi #philosophy #viralvideo #100kviews✔️ @Dr Ash @Nabeel @Mamnoon Haider @🔻 @its_sameer_aadeez