Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@joana.mirkin:
joanamirkin
Open In TikTok:
Region: BR
Friday 28 August 2026 02:25:05 GMT
10826
1700
19
7
Music
Download
No Watermark .mp4 (
0.32MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
0.8MB
)
Watermark .mp4 (
0.76MB
)
Music .mp3
Comments
Marlon Cassiel :
A pesquisa
2026-08-28 12:31:18
2
‘kemi ౨ৎ :
arrasa sempree
2026-08-28 10:26:34
0
yhanna Araújo :
kakaka
2026-08-28 02:27:18
0
joscleiton15 :
Cleiton ❤️❤️❤️❤️❤️☺️☺️☺️🥰🥰🥰
2026-08-28 04:31:19
0
Sarah Oliveira ❤️ :
estás bué gira ❤️
2026-08-28 02:28:39
0
JC.Cs :
segundo
2026-08-28 02:26:54
0
julia_mazia :
q divaa
2026-08-28 02:59:26
0
juliagomes :
lindaaa
2026-08-28 09:38:30
0
yhanna Araújo :
finalmente cedo
2026-08-28 02:27:39
0
oceanz_migs :
primeirooo
2026-08-28 02:26:27
0
annaa🦋💋 :
🥰🥰🥰
2026-08-28 02:30:19
0
Walison Martins :
😍😍😍😍
2026-08-28 02:36:12
0
To see more videos from user @joana.mirkin, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
•𝙛𝙤𝙡𝙡𝙤𝙬 𝙞𝙨𝙤 𝙙𝙝𝙖𝙝𝙖 𝙖𝙣𝙖 𝙙𝙝𝙞𝙞𝙧𝙞𝙜𝙖𝙡𝙞𝙣 𝙗𝙚𝙮 𝙞𝙞 𝙩𝙖𝙝𝙮 𝙞𝙙𝙞𝙣𝙠𝙣𝙖 𝙖𝙟𝙖𝙧 𝙗𝙖 𝙠𝙖 𝙝𝙚𝙡𝙖𝙮𝙨𝗡 𝙞𝙠𝙝𝙬𝙖𝙣𝙞𝗛❤️😍 ... #copylink #viewsproblem #sheikhmustafe #wacdi_iyo_waano #fffffffffffyyyyyyyyyyypppppppppppp
باپ کو آدھی رات کے وقت خبر ملی کہ اس کی بیٹی کو اس کے شوہر نے پھر مارا ہے۔ یہ لفظ ’’پھر‘‘ باپ کے دل میں تیر کی طرح لگا۔ یہ پہلی بار نہیں تھا۔ شادی کو ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا، مگر بیٹی کے چہرے کی مسکراہٹ جیسے دن بدن کم ہوتی جا رہی تھی۔ کبھی بازو پر نیلا نشان، کبھی آنکھ کے نیچے سوجن، کبھی ہونٹ پر زخم... ماں ہر بار بیٹی کو سینے سے لگا کر سمجھاتی: ’’بیٹا، نئی نئی شادی ہے... وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ مرد غصے میں ہاتھ اٹھا دیتے ہیں، تم خاموش رہا کرو، گھر بس جائے گا۔‘‘ بیٹی ہر بار آنسو پونچھ کر بس اتنا کہتی: ’’امی... میں کوشش کرتی ہوں۔‘‘ اور باپ؟ وہ خاموش رہتا۔ وہ سوچتا تھا شاید بیٹی کا گھر بسانے کے لیے باپ کو بھی کچھ درد اپنے سینے میں دفن کرنے پڑتے ہیں۔ مگر اس رات جب دوبارہ فون آیا اور دوسری طرف سے صرف اتنا کہا گیا: ’’آپ کی بیٹی کی حالت ٹھیک نہیں... اسے پھر مارا ہے۔‘‘ تو باپ نے فون بند کر دیا۔ کچھ دیر تک وہ اندھیرے میں خاموش بیٹھا رہا۔ پھر اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ اس نے اپنی بیٹی کی بچپن کی ایک تصویر اٹھائی۔ تصویر میں وہ ننھی سی بچی اس کی انگلی پکڑے مسکرا رہی تھی۔ باپ نے تصویر کو دیکھا اور دھیمی آواز میں بولا: ’’میں نے تجھے اس لیے نہیں پالا تھا کہ کوئی تجھے روز توڑے... اور میں خاموش دیکھتا رہوں۔‘‘ رات گہری ہو چکی تھی۔ گھر میں سب سو رہے تھے۔ باپ اٹھا، کسی کو کچھ نہیں بتایا۔ بس اپنا چادر کندھے پر رکھا اور باہر نکل گیا۔ راستے میں اس نے ایک بینڈ والے کو جگایا۔ بینڈ والے نے حیرت سے پوچھا: ’’چوہدری صاحب، اس وقت؟ کوئی شادی ہے؟‘‘ باپ نے بس اتنا کہا: ’’ہاں... مگر آج میں اپنی بیٹی کی زندگی کی شادی بچانے جا رہا ہوں۔‘‘ وہ بینڈ والوں کو ساتھ لے کر سیدھا داماد کے گھر پہنچ گیا۔ رات کے سناٹے میں دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھلا تو سسرال والے حیران رہ گئے۔ ’’سمدھی جی؟ اتنی رات گئے؟ خیریت تو ہے؟‘‘ باپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اسی لمحے اوپر کی کھڑکی کے پردے کے پیچھے سے ایک سہمی ہوئی آنکھ نظر آئی۔ وہ اس کی بیٹی تھی۔ باپ نے اپنی بیٹی کو دیکھا۔ بیٹی نے باپ کو دیکھا۔ دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ بیٹی کے چہرے پر زخم تھا... مگر باپ کو اس زخم سے زیادہ اپنی بیٹی کی خاموشی نے توڑ دیا۔ اس نے دور سے صرف ہاتھ کے اشارے سے کہا: ’’چل... گھر چلیں۔‘‘ بیٹی کچھ لمحے وہیں کھڑی رہی۔ شاید اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ آج واقعی کوئی اسے لینے آیا ہے۔ پھر اس نے اپنے آنسو پونچھے اور آہستہ آہستہ نیچے آ گئی۔ داماد نے غصے سے کہا: ’’یہ میری بیوی ہے، آپ اسے ایسے نہیں لے جا سکتے!‘‘ باپ نے پہلی بار اس کی طرف دیکھا اور کہا: ’’بیوی ہے، تمہاری ملکیت نہیں۔‘‘ پھر وہ بینڈ والوں کی طرف مڑا اور ہاتھ اٹھا کر بولا: ’’بجاؤ!‘‘ رات کی خاموشی اچانک بینڈ کی آواز سے گونج اٹھی۔ گلی کے لوگ گھروں سے نکل آئے۔ سب حیران تھے کہ آدھی رات کو بینڈ کیوں بج رہا ہے۔ باپ اپنی بیٹی کے پاس گیا، اس کا ہاتھ تھاما اور کہا: ’’آج میں تجھے لینے آیا ہوں... بارات لے کر نہیں۔‘‘ اس کی آواز بھرّا گئی۔ ’’میں تجھے اس گھر سے آزاد کرانے آیا ہوں جہاں تیرے آنسوؤں کو شادی کی قیمت سمجھ لیا گیا تھا۔‘‘ بیٹی باپ کے سینے سے لگ گئی۔ برسوں کا ضبط آنسو بن کر بہہ نکلا۔ وہ روتے ہوئے صرف اتنا کہہ سکی: ’’ابو... آپ اتنی دیر سے کیوں آئے؟‘‘ یہ سن کر باپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اس نے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا: ’’بیٹا... مجھے معاف کر دینا۔ میں سمجھتا رہا گھر بچانا ضروری ہے... آج سمجھ آیا کہ گھر نہیں، بیٹی بچانا ضروری ہے۔‘‘ اور پھر وہ اپنی بیٹی کا ہاتھ تھامے وہاں سے چل پڑا۔ بینڈ بجتا رہا۔ مگر اس رات کوئی دلہن رخصت نہیں ہو رہی تھی۔ اس رات ایک باپ اپنی بیٹی کو سسرال سے نہیں... ظلم سے واپس لے جا رہا تھا۔ اور شاید یہ دنیا کی سب سے خوبصورت رخصتی تھی... کیونکہ اس رخصتی میں دلہن کے ہاتھوں پر مہندی نہیں تھی، مگر اس کے دل میں پہلی بار آزادی کی خوشبو تھی۔ کبھی کبھی باپ بیٹی کا گھر نہیں توڑتا... وہ اسے ٹوٹنے سے بچا لیتا ہے
Chảo vân đá chống dính đáy từ GreenCook size 20cm#xuhuong #chảo #chaochongdinh
The slow March is ending! . . . . . . . . #capitalism #politics
Auto Mewek Banget Denger Lagunya🥹💔 #munafikmelawaniblis #bahayajadimunafik #munafiknyaindo #aryasaloka #achaseptriasa #filmbioskop #rekomendasifilm #filmhoror #ifan #kemarin
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy