@kyliepaigedougherty:

kylie †🪽
kylie †🪽
Open In TikTok:
Region: US
Friday 28 August 2026 03:24:48 GMT
342
29
0
2

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @kyliepaigedougherty, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

گھوڑے سے گرنے والی ایک خاتون… اور پشاور کا وہ ہسپتال جو آج بھی زندہ ہے پشاور کی گلیوں میں ایک زمانہ ایسا بھی گزرا ہے جب ایک معمولی سا حادثہ صرف ایک خاتون کی زندگی کا واقعہ نہیں رہا، بلکہ اس نے پورے شہر کی طبی تاریخ بدل دی۔ 1920 کی دہائی میں برطانوی ہندوستان کے وائسرائے لارڈ ریڈنگ اپنی اہلیہ لیڈی ایلس ریڈنگ کے ساتھ پشاور آئے۔ قلعہ بالاحصار سے شہر کو دیکھنے والی لیڈی ریڈنگ کو پشاور کی زندگی قریب سے دیکھنے کا شوق ہوا۔ پھر ایک دن گھوڑے کی سواری کے دوران وہ گر کر زخمی ہوگئیں۔ انہیں علاج کے لیے ایجرٹن ہسپتال لے جایا گیا، لیکن وہاں موجود طبی سہولیات ان کی ضرورت کے مطابق نہ تھیں۔ بعد میں انہیں بہتر علاج کے لیے فوجی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ وہ صحت یاب ہوگئیں، مگر اس حادثے نے ان کے ذہن میں ایک سوال چھوڑ دیا: اگر میرے پاس علاج کی سہولت نہیں تھی، تو اس شہر کے عام غریب لوگوں کا کیا ہوتا ہوگا؟ یہ سوال شاید ان کے دل میں ہمیشہ کے لیے اتر گیا۔ 1926 میں انہوں نے پشاور میں ایک معیاری ہسپتال کے قیام کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم شروع کی۔ اپنی طرف سے بھی خطیر رقم دی، اور ان کوششوں کے نتیجے میں ایک نئے ہسپتال کی بنیاد پڑی۔ اگلے سال، 1927 میں، وہ ہسپتال قائم ہوا جسے آج دنیا لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے نام سے جانتی ہے۔ سوچیے… جس خاتون نے کبھی پشاور میں ایک گھوڑے سے گر کر طبی سہولت کی کمی کو محسوس کیا تھا، اسی واقعے نے ایک ایسے ادارے کی بنیاد رکھنے میں کردار ادا کیا جو آنے والی نسلوں کے لیے علاج کا مرکز بن گیا۔ آج قلعہ بالاحصار کے سائے میں کھڑا یہ ہسپتال صرف اینٹوں، دیواروں اور وارڈز کا نام نہیں۔ یہ اس عجیب تاریخی موڑ کی یادگار ہے جہاں ایک حادثہ ایک سوال بنا، ایک سوال نے ایک عزم پیدا کیا، اور ایک عزم نے پشاور کی طبی تاریخ بدل دی۔ اور شاید تاریخ کا سب سے خوبصورت سبق یہی ہے: کبھی کبھی ایک انسان کا ذاتی دکھ، ہزاروں انسانوں کے لیے زندگی کی امید بن جاتا ہے۔
گھوڑے سے گرنے والی ایک خاتون… اور پشاور کا وہ ہسپتال جو آج بھی زندہ ہے پشاور کی گلیوں میں ایک زمانہ ایسا بھی گزرا ہے جب ایک معمولی سا حادثہ صرف ایک خاتون کی زندگی کا واقعہ نہیں رہا، بلکہ اس نے پورے شہر کی طبی تاریخ بدل دی۔ 1920 کی دہائی میں برطانوی ہندوستان کے وائسرائے لارڈ ریڈنگ اپنی اہلیہ لیڈی ایلس ریڈنگ کے ساتھ پشاور آئے۔ قلعہ بالاحصار سے شہر کو دیکھنے والی لیڈی ریڈنگ کو پشاور کی زندگی قریب سے دیکھنے کا شوق ہوا۔ پھر ایک دن گھوڑے کی سواری کے دوران وہ گر کر زخمی ہوگئیں۔ انہیں علاج کے لیے ایجرٹن ہسپتال لے جایا گیا، لیکن وہاں موجود طبی سہولیات ان کی ضرورت کے مطابق نہ تھیں۔ بعد میں انہیں بہتر علاج کے لیے فوجی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ وہ صحت یاب ہوگئیں، مگر اس حادثے نے ان کے ذہن میں ایک سوال چھوڑ دیا: اگر میرے پاس علاج کی سہولت نہیں تھی، تو اس شہر کے عام غریب لوگوں کا کیا ہوتا ہوگا؟ یہ سوال شاید ان کے دل میں ہمیشہ کے لیے اتر گیا۔ 1926 میں انہوں نے پشاور میں ایک معیاری ہسپتال کے قیام کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم شروع کی۔ اپنی طرف سے بھی خطیر رقم دی، اور ان کوششوں کے نتیجے میں ایک نئے ہسپتال کی بنیاد پڑی۔ اگلے سال، 1927 میں، وہ ہسپتال قائم ہوا جسے آج دنیا لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے نام سے جانتی ہے۔ سوچیے… جس خاتون نے کبھی پشاور میں ایک گھوڑے سے گر کر طبی سہولت کی کمی کو محسوس کیا تھا، اسی واقعے نے ایک ایسے ادارے کی بنیاد رکھنے میں کردار ادا کیا جو آنے والی نسلوں کے لیے علاج کا مرکز بن گیا۔ آج قلعہ بالاحصار کے سائے میں کھڑا یہ ہسپتال صرف اینٹوں، دیواروں اور وارڈز کا نام نہیں۔ یہ اس عجیب تاریخی موڑ کی یادگار ہے جہاں ایک حادثہ ایک سوال بنا، ایک سوال نے ایک عزم پیدا کیا، اور ایک عزم نے پشاور کی طبی تاریخ بدل دی۔ اور شاید تاریخ کا سب سے خوبصورت سبق یہی ہے: کبھی کبھی ایک انسان کا ذاتی دکھ، ہزاروں انسانوں کے لیے زندگی کی امید بن جاتا ہے۔

About