@promota_timo: Kawedemu dda 😂😂😂

PROMOTER🌟TIMO♥️🌍🔥
PROMOTER🌟TIMO♥️🌍🔥
Open In TikTok:
Region: UG
Friday 28 August 2026 12:53:28 GMT
132794
9841
1837
838

Music

Download

Comments

arimprai53
@philoh68 :
"Just let yo mom sit" You know what uh can take my seat😂😂😂😂😂😂
2026-08-28 13:45:22
5
rammaofficial1
Emmaofficial1 :
you see the first one in red😅. heeee
2026-08-28 13:37:38
1
owen.....lines
Oweñ lines....✍️ :
whenever i buy my data nga numba😂😂😂
2026-08-28 15:13:03
9
izzyperfectloner
izzy boi🇺🇬🇺🇬 :
u mean while eating popcorn 🍿 oba....
2026-08-28 14:13:05
341
john83701
John :
I even have the video right now 😂😂😂
2026-08-28 15:37:23
124
katumbaesmile
Esmile kats :
man I have remembered that ka video in my ka button phone 😂😂😂
2026-08-28 13:26:23
233
masemberobert1
kaana ka mbaata :
abalya popcorn🤣🤣🤣
2026-08-28 18:07:14
6
dilah.maddison.13
Dilah Maddison 13⚽️ :
Even now it’s still in my safe folder 😂😂
2026-08-28 13:29:41
16
derricks081
DERRICKS~256 :
Man eyo yali hit 😂😂😂😂
2026-08-28 18:10:10
19
funny_dan_memes
Ahimbisibwe :
Ryann Conner 😅😅😅 me am in the first floor room 9 eastern province of hell and you?
2026-08-28 13:12:22
47
ronnn129
okiror ronnie :
am not a prophet bt that lady behind sat on that guy in red shirt🤣🤣🤣
2026-08-28 14:30:42
40
innoatuhaire
Inno_cent :
I still have the ka clip 😂😂😂😂
2026-08-28 13:39:54
51
ronaldk699
Ronaldk :
🤣🤣 blue 🔵💙 family
2026-08-28 13:06:02
8
jen_kinsz
Jenkins_akampa :
if I remember well they had popcorn 🍿😁😂
2026-08-28 14:50:57
29
dadieaes
Dad A^s👌 :
lucky me who doesn't know any of them 😂But I like eating popcorn 🍿...hahha
2026-08-28 17:30:36
14
mickeysson3
Mickey's son :
2026-08-28 18:24:02
4
bettinahbanke
✶B̷e̷t̷t̷i̷n̷a̷h̷❀B̷a̷n̷k̷x̷❦༻ :
mukama mpayo omusajja nebwaba tayima 😭😭😭😭😭
2026-08-28 13:37:58
42
bbgirl29
🍓🍅🌽🥕🌶🥜🥦🍄🍄🥑 :
Ndi safe kuba sibamanyi na bamanya😳
2026-08-28 18:58:18
16
amlexug
Prince :
Only legends can understand 🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣
2026-08-28 17:35:40
12
natasha.anitah
Natasha Anitah :
I saw that video when I was ten
2026-08-28 19:31:22
11
patrico242
PATRICK NC :
banaye amanyi title yaako yamba , njagala keeyongeza
2026-08-28 14:30:18
6
mediproug99
C.E.O 🇺🇬 :
nze silina bifananyi Nina video
2026-08-28 13:31:16
13
queen.of.love413
queen of love :
nze sose oku kometiga
2026-08-28 12:57:55
7
davidb174
davidb174 :
my first time to see them someone to explain for us🤣🤣
2026-08-28 13:19:07
15
To see more videos from user @promota_timo, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پہلے مصرعے میں بیٹوں کا ذکر ہے کہ جن کو پال پوس کر بڑا کیا، پڑھایا لکھایا اور اس قابل بنایا کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں، وہ شادی کے بعد اپنی بیویوں اور بچوں کی دنیا میں ایسے مگن ہوئے کہ انہیں جنم دینے والے والدین یاد ہی نہ رہے۔ وہ بیٹا جو کبھی ماں باپ کی آنکھ کا تارا تھا، اب اپنی الگ دنیا بسا کر بیٹھ جاتا ہے۔ دوسری طرف بیٹیوں کا ذکر ہے، جو پرایا دھن ہوتی ہیں۔ وہ بیاہ کر اپنے سسرال چلی جاتی ہیں اور اپنی نئی ذمہ داریوں، نئے رشتوں اور گھر بار میں اس طرح مصروف ہو جاتی ہیں کہ چاہنے کے باوجود بھی اپنے بوڑھے والدین کو وہ وقت اور توجہ نہیں دے پاتیں جس کی انہیں ضرورت ہوتی ہے۔ اس پورے منظرنامے کا سب سے خوفناک اور دردناک پہلو آخری مصرعے میں سامنے آتا ہے۔ جب بیٹے اپنی دنیا میں مست ہوں اور بیٹیاں اپنے گھروں کی ہو جائیں، تو وہ بوڑھے ماں باپ، جنہوں نے اپنا خون پسینہ بہا کر اس گھر کی ایک ایک اینٹ جوڑی تھی، اسی گھر کے ایک کونے میں بالکل تنہا رہ جاتے ہیں۔ شاعر نے ان کی اس بے بسی اور تنہائی کو چور سے تشبیہ دی ہے، جو کہ ایک گہرا اور دل دہلا دینے والا استعارہ ہے۔ جس طرح ایک چور کسی کے گھر میں گھس کر ڈرا، سہما اور چھپا بیٹھا رہتا ہے کہ کہیں کوئی اسے دیکھ نہ لے یا اسے نکال نہ دے، بالکل اسی طرح وہ بوڑھے ماں باپ اپنے ہی بچوں کے گھر میں خوفزدہ اور اجنبی بن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ انہیں بات کرتے ہوئے جھجک محسوس ہوتی ہے، اپنی ضرورت بتاتے ہوئے شرم آتی ہے، اور وہ ہر وقت اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں ان کی ذات بچوں پر بوجھ نہ بن جائے یا ان کی کسی بات سے بہو بیٹے ناراض نہ ہو جائیں۔ یہ تحریر ہمیں ہمارے اردگرد بکھرے ایسے کئی کرداروں کی یاد دلاتی ہے اور ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کہیں ہم بھی لاشعوری طور پر اپنے والدین کے ساتھ یہی سلوک تو نہیں کر رہے؟ #foryoupage #foryou #unfrezzmyaccount #viralvideo @arain.350
پہلے مصرعے میں بیٹوں کا ذکر ہے کہ جن کو پال پوس کر بڑا کیا، پڑھایا لکھایا اور اس قابل بنایا کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں، وہ شادی کے بعد اپنی بیویوں اور بچوں کی دنیا میں ایسے مگن ہوئے کہ انہیں جنم دینے والے والدین یاد ہی نہ رہے۔ وہ بیٹا جو کبھی ماں باپ کی آنکھ کا تارا تھا، اب اپنی الگ دنیا بسا کر بیٹھ جاتا ہے۔ دوسری طرف بیٹیوں کا ذکر ہے، جو پرایا دھن ہوتی ہیں۔ وہ بیاہ کر اپنے سسرال چلی جاتی ہیں اور اپنی نئی ذمہ داریوں، نئے رشتوں اور گھر بار میں اس طرح مصروف ہو جاتی ہیں کہ چاہنے کے باوجود بھی اپنے بوڑھے والدین کو وہ وقت اور توجہ نہیں دے پاتیں جس کی انہیں ضرورت ہوتی ہے۔ اس پورے منظرنامے کا سب سے خوفناک اور دردناک پہلو آخری مصرعے میں سامنے آتا ہے۔ جب بیٹے اپنی دنیا میں مست ہوں اور بیٹیاں اپنے گھروں کی ہو جائیں، تو وہ بوڑھے ماں باپ، جنہوں نے اپنا خون پسینہ بہا کر اس گھر کی ایک ایک اینٹ جوڑی تھی، اسی گھر کے ایک کونے میں بالکل تنہا رہ جاتے ہیں۔ شاعر نے ان کی اس بے بسی اور تنہائی کو چور سے تشبیہ دی ہے، جو کہ ایک گہرا اور دل دہلا دینے والا استعارہ ہے۔ جس طرح ایک چور کسی کے گھر میں گھس کر ڈرا، سہما اور چھپا بیٹھا رہتا ہے کہ کہیں کوئی اسے دیکھ نہ لے یا اسے نکال نہ دے، بالکل اسی طرح وہ بوڑھے ماں باپ اپنے ہی بچوں کے گھر میں خوفزدہ اور اجنبی بن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ انہیں بات کرتے ہوئے جھجک محسوس ہوتی ہے، اپنی ضرورت بتاتے ہوئے شرم آتی ہے، اور وہ ہر وقت اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں ان کی ذات بچوں پر بوجھ نہ بن جائے یا ان کی کسی بات سے بہو بیٹے ناراض نہ ہو جائیں۔ یہ تحریر ہمیں ہمارے اردگرد بکھرے ایسے کئی کرداروں کی یاد دلاتی ہے اور ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کہیں ہم بھی لاشعوری طور پر اپنے والدین کے ساتھ یہی سلوک تو نہیں کر رہے؟ #foryoupage #foryou #unfrezzmyaccount #viralvideo @arain.350

About