@hubnews4: *حب ساکران تھانہ مبینہ طور پر ایک فریق کی پشت پناہی کا مرکز بن گیا، محرر جبار اور ایس آئی حبیب اللہ پر سنگین الزامات۔* حب: ساکران تھانے میں مبینہ طور پر قانون کے بجائے من پسند کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہونے کے الزامات سامنے آنے لگے، جہاں بندیجہ اور بھاپڑہ برادری کے درمیان جاری زمینی حد بندی کے تنازع میں ساکران پولیس کے بعض اہلکاروں کے کردار پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔ متاثرہ فریق کے مطابق ساکران تھانے کے محرر جبار اور ایس آئی حبیب اللہ مبینہ طور پر ایک فریق کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے دوسرے فریق کو دباؤ میں لانے کے لیے مختلف مقدمات درج کروانے میں سہولت کاری کر رہے ہیں۔ متاثرین کا الزام ہے کہ پہلے بھی اسی شخص کے خلاف مبینہ طور پر اغوا کا مقدمہ درج کروایا گیا، جبکہ موجودہ تنازع میں بھی اسی طرز کی کارروائی دہرائی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں گروپوں کا بنیادی تنازع زمین کی حد بندی سے متعلق ہے، تاہم معاملہ حل کرنے کے بجائے مبینہ طور پر پولیس کارروائیوں کے ذریعے ایک فریق کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے علاقے میں کشیدگی اور بدامنی کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ متاثرہ فریق کا مزید کہنا ہے کہ ورثاء کو ملاقات تک کی اجازت نہ دی گئی، جبکہ معاملہ میڈیا تک پہنچنے کے بعد تھانے کے محرر جبار کی جانب سے میڈیا نمائندے سے مبینہ بدتمیزی کی گئی اور اپنے سرکاری فرائض سے ہٹ کر ذاتی نوعیت کا رویہ اختیار کیا گیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر پولیس اہلکار ہی کسی ایک فریق کے ساتھ کھڑے نظر آئیں تو عام شہری انصاف کے لیے کہاں جائے؟ ساکران تھانے کے بعض اہلکاروں کے مبینہ طرزِ عمل نے پولیس کی غیرجانبداری پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ساکران تھانے کے محرر جبار اور ایس آئی حبیب اللہ کو فوری طور پر تبدیل کرکے معاملے کی اعلیٰ سطحی اور غیرجانبدارانہ انکوائری کرائی جائے اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ متاثرین نے ایس پی حب مرزا بلال حسن اور ڈی آئی جی لسبیلہ رینج سردار عبدالقیوم پتافی سے فوری نوٹس لینے اور ساکران تھانے میں مبینہ جانبداری و سہولت کاری کے معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ متاثرہ فریق کا کہنا ہے کہ زمین کے ایک تنازع کو پولیس کی مبینہ مداخلت کے ذریعے مزید سنگین نہ بنایا جائے اور تمام فریقین کے ساتھ قانون کے مطابق یکساں سلوک کیا جائے۔