@ishfaqbhatti_010: ضلع وہاڑی کی تحصیل میلسی سے 14 کلومیٹر جنوب مشرق میں دریائے ستلج کے کنارے واقع قصبہ فتح پور ایک عظیم تاریخ کا امین ہے۔ یہ گاؤں پنجاب کے اس غیرت مند اور بہادر سپوت فتح خان جوئیہ کا آباد کردہ ہے جس نے سولہویں صدی عیسوی میں مغلوں اور سوریوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش کے دوران اپنی خودمختار ریاست قائم کی تھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس کی بڑھتی ہوئی طاقت کو توڑنے کے لیے شیر شاہ سوری کو اپنے نامور جرنیل ہیبت خان نیازی کو ملتان اور کہروڑ کی طرف ایک بڑا لشکر بھیجنا پڑا تھا۔ اسی قصبے میں فتح خان جوئیہ کا تاریخی مقبرہ واقع ہے جو مغل اور سوری دورِ حکومت کے شاندار طرزِ تعمیر کا عکاس ہے۔ چھوٹی اینٹ اور نفیس نقش و نگار سے بنا یہ گنبد نما مقبرہ فنِ تعمیر کا نایاب نمونہ ہے، جس کے احاطے میں فتح خان اور ان کے دو بھائیوں—محمد خان جوئیہ اور علی محمد جوئیہ—کی قبریں موجود ہیں۔ افسوس کہ پنجاب کے اس تاریخی ہیرو کی آخری آرام گاہ آج شدید زبوں حالی اور شکست و ریخت کا شکار ہے۔ ہم حکومتِ پنجاب اور بالخصوص وزیراعلیٰ مریم نواز شریف سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ محکمہ آثارِ قدیمہ کو اس تاریخی عمارت کی فوری مرمت اور بحالی کے احکامات جاری کریں تاکہ پنجاب کی تاریخ اور ہماری تہذیب کا یہ نایاب اثاثہ مکمل تباہی سے بچ سکے۔