@comrade.149: “ڈاکٹر اسامہ جمیل ایک روشن ستارے کی شہادت” ڈاکٹر اسامہ صرف ایک ڈاکٹر نہیں تھا، وہ اس ریاست کا مستقبل تھا۔ وہ آنے والی نسلوں کی شعوری تربیت کرنے والا، حق اور سچ کی آواز بننے والا ایک روشن چراغ تھا۔وہ اپنے ذاتی مفاد کے لیے نہیں نکلا تھا؛ وہ بنیادی حقوق، انصاف اور عوام کے بہتر مستقبل کی جنگ لڑ رہا تھا۔ مگر افسوس، ظلم کی گولی نے اس چراغ کو بجھا دیا۔ کدھر سے لائیں گے اب ایسا چمکتا ہوا ستارہ، جس نے ابھی بہت آگے جانا تھا؟ کدھر سے لائیں گے وہ نوجوان، جو اپنی صلاحیت، علم اور شعور سے آنے والی نسلوں کو راستہ دکھاتا۔ مگر یاد رکھو! “شہید جسم سے جدا ہوتا ہے، نظریے سے نہیں” ڈاکٹر اسامہ کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ اس کا لہو اس تحریک کی تاریخ کا وہ باب ہے جسے وقت بھی مٹا نہیں سکے گا۔