@novavibes_7: Resumé LOSC vs PSG en ligue 1 🇫🇷 #LOSC#PSG#ligue1#france🇫🇷#

Novavibes
Novavibes
Open In TikTok:
Region: SN
Friday 28 August 2026 22:49:56 GMT
17846
863
10
29

Music

Download

Comments

dz..libre
🇩🇿libre-arbitre🇵🇸 :
à la fin Paris sera champion comme chaque année 🟥🟦
2026-08-29 08:25:16
3
samuelkomlan3
Samuel KOMLAN :
champions d'Europe
2026-08-29 07:13:37
1
ratpi645
ratpi64 :
viti 💪🏼
2026-08-29 08:09:10
0
el.fas.kindo4
el fas kindo :
On peut parler du passe décisive de Giroud sur le premier buts
2026-08-29 00:09:31
1
youssouf.40
KM10 242 :
Ici c’est Paris
2026-08-29 00:05:47
0
maako.def
Maako Def :
🔥🔥🔥
2026-08-28 23:46:16
0
nassirou.abdoulay23
maiga idrissa :
🥰🥰🥰
2026-08-28 23:39:16
0
nassirou.abdoulay23
maiga idrissa :
🙏🙏🙏
2026-08-28 23:39:12
0
karayere.sissko
Karayere Sissko :
🥰🥰🥰
2026-08-28 23:00:10
0
doulkoum.abdoulay
Naman LeZy🇧🇫🇧🇫 :
❤️❤️❤️
2026-08-28 23:58:50
0
To see more videos from user @novavibes_7, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پہلے مصرعے میں بیٹوں کا ذکر ہے کہ جن کو پال پوس کر بڑا کیا، پڑھایا لکھایا اور اس قابل بنایا کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں، وہ شادی کے بعد اپنی بیویوں اور بچوں کی دنیا میں ایسے مگن ہوئے کہ انہیں جنم دینے والے والدین یاد ہی نہ رہے۔ وہ بیٹا جو کبھی ماں باپ کی آنکھ کا تارا تھا، اب اپنی الگ دنیا بسا کر بیٹھ جاتا ہے۔ دوسری طرف بیٹیوں کا ذکر ہے، جو پرایا دھن ہوتی ہیں۔ وہ بیاہ کر اپنے سسرال چلی جاتی ہیں اور اپنی نئی ذمہ داریوں، نئے رشتوں اور گھر بار میں اس طرح مصروف ہو جاتی ہیں کہ چاہنے کے باوجود بھی اپنے بوڑھے والدین کو وہ وقت اور توجہ نہیں دے پاتیں جس کی انہیں ضرورت ہوتی ہے۔ اس پورے منظرنامے کا سب سے خوفناک اور دردناک پہلو آخری مصرعے میں سامنے آتا ہے۔ جب بیٹے اپنی دنیا میں مست ہوں اور بیٹیاں اپنے گھروں کی ہو جائیں، تو وہ بوڑھے ماں باپ، جنہوں نے اپنا خون پسینہ بہا کر اس گھر کی ایک ایک اینٹ جوڑی تھی، اسی گھر کے ایک کونے میں بالکل تنہا رہ جاتے ہیں۔ شاعر نے ان کی اس بے بسی اور تنہائی کو چور سے تشبیہ دی ہے، جو کہ ایک گہرا اور دل دہلا دینے والا استعارہ ہے۔ جس طرح ایک چور کسی کے گھر میں گھس کر ڈرا، سہما اور چھپا بیٹھا رہتا ہے کہ کہیں کوئی اسے دیکھ نہ لے یا اسے نکال نہ دے، بالکل اسی طرح وہ بوڑھے ماں باپ اپنے ہی بچوں کے گھر میں خوفزدہ اور اجنبی بن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ انہیں بات کرتے ہوئے جھجک محسوس ہوتی ہے، اپنی ضرورت بتاتے ہوئے شرم آتی ہے، اور وہ ہر وقت اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں ان کی ذات بچوں پر بوجھ نہ بن جائے یا ان کی کسی بات سے بہو بیٹے ناراض نہ ہو جائیں۔ یہ تحریر ہمیں ہمارے اردگرد بکھرے ایسے کئی کرداروں کی یاد دلاتی ہے اور ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کہیں ہم بھی لاشعوری طور پر اپنے والدین کے ساتھ یہی سلوک تو نہیں کر رہے؟ #foryoupage #foryou #unfrezzmyaccount #viralvideo @arain.350
پہلے مصرعے میں بیٹوں کا ذکر ہے کہ جن کو پال پوس کر بڑا کیا، پڑھایا لکھایا اور اس قابل بنایا کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں، وہ شادی کے بعد اپنی بیویوں اور بچوں کی دنیا میں ایسے مگن ہوئے کہ انہیں جنم دینے والے والدین یاد ہی نہ رہے۔ وہ بیٹا جو کبھی ماں باپ کی آنکھ کا تارا تھا، اب اپنی الگ دنیا بسا کر بیٹھ جاتا ہے۔ دوسری طرف بیٹیوں کا ذکر ہے، جو پرایا دھن ہوتی ہیں۔ وہ بیاہ کر اپنے سسرال چلی جاتی ہیں اور اپنی نئی ذمہ داریوں، نئے رشتوں اور گھر بار میں اس طرح مصروف ہو جاتی ہیں کہ چاہنے کے باوجود بھی اپنے بوڑھے والدین کو وہ وقت اور توجہ نہیں دے پاتیں جس کی انہیں ضرورت ہوتی ہے۔ اس پورے منظرنامے کا سب سے خوفناک اور دردناک پہلو آخری مصرعے میں سامنے آتا ہے۔ جب بیٹے اپنی دنیا میں مست ہوں اور بیٹیاں اپنے گھروں کی ہو جائیں، تو وہ بوڑھے ماں باپ، جنہوں نے اپنا خون پسینہ بہا کر اس گھر کی ایک ایک اینٹ جوڑی تھی، اسی گھر کے ایک کونے میں بالکل تنہا رہ جاتے ہیں۔ شاعر نے ان کی اس بے بسی اور تنہائی کو چور سے تشبیہ دی ہے، جو کہ ایک گہرا اور دل دہلا دینے والا استعارہ ہے۔ جس طرح ایک چور کسی کے گھر میں گھس کر ڈرا، سہما اور چھپا بیٹھا رہتا ہے کہ کہیں کوئی اسے دیکھ نہ لے یا اسے نکال نہ دے، بالکل اسی طرح وہ بوڑھے ماں باپ اپنے ہی بچوں کے گھر میں خوفزدہ اور اجنبی بن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ انہیں بات کرتے ہوئے جھجک محسوس ہوتی ہے، اپنی ضرورت بتاتے ہوئے شرم آتی ہے، اور وہ ہر وقت اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں ان کی ذات بچوں پر بوجھ نہ بن جائے یا ان کی کسی بات سے بہو بیٹے ناراض نہ ہو جائیں۔ یہ تحریر ہمیں ہمارے اردگرد بکھرے ایسے کئی کرداروں کی یاد دلاتی ہے اور ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کہیں ہم بھی لاشعوری طور پر اپنے والدین کے ساتھ یہی سلوک تو نہیں کر رہے؟ #foryoupage #foryou #unfrezzmyaccount #viralvideo @arain.350

About