@sweetwhisper13: ہم نے ایک عجیب معاشرہ بنا لیا ہے؛ جہاں مرید اپنی غربت کو قسمت سمجھ کر برداشت کرتا ہے، مگر اپنے پیر کی آسائش کو کرامت سمجھ لیتا ہے۔ مرید کے گھر میں فاقہ ہو تو اسے صبر کی تلقین کی جاتی ہے، بچے بیمار ہوں تو کہا جاتا ہے: دعا کرو، اللہ بہتر کرے گا۔ گھر کی چھت ٹپک رہی ہو تو کہا جاتا ہے: نذرانہ دو، برکت ہوگی۔ مگر جب یہی مرید اپنی جمع پونجی نذرانے میں دے دیتا ہے، تو وہی نذرانہ پیر کے گھر کی آسائشیں بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ ذرا ایک مثال دیکھیے: ایک غریب مرید کئی سال اپنی بیٹی کی شادی کے لیے پیسے جوڑتا رہا، پھر عقیدت میں آکر وہی رقم پیر کے قدموں میں رکھ دی۔ بیٹی کی شادی کے لیے وہ دوبارہ قرض مانگتا پھرا، اور ادھر پیر اسی عقیدت کے پیسوں سے نئی گاڑی میں بیٹھ کر گزر گیا۔ مسئلہ پیر کی گاڑی نہیں، مسئلہ اس سوچ کا ہے جو غریب کو غریب رکھ کر امیر کو مقدس بنا دیتی ہے۔ عقیدت دل میں رکھو، مگر عقل بھی ساتھ رکھو؛ دعا مانگو اللہ سے، عزت کرو نیک لوگوں کی، مگر اپنی محنت کی کمائی کسی انسان کو خدا کا وسیلہ سمجھ کر لٹانا عقیدت نہیں، اپنی ضرورتوں سے ناانصافی ہے۔ #viralvideo #unfrezzmyaccount #foryou #foryoupage