@khizarsreflections: پاکستان کی ریاست تین ستونوں پر کھڑی ہے فوجی و سول اشرافیہ، بیوروکریسی اور روایتی اشرافیہ۔ یہ تینوں الگ الگ نظر آتے ہیں مگر حقیقت میں ایک ہی جال کا حصہ ہیں۔ ان کا اصل کام ملک چلانا نہیں بلکہ اپنے دائرے کو محفوظ رکھنا ہے۔ یہاں طاقت نظریے سے نہیں، تعلقات سے چلتی ہے۔ جو شخص اشرافیہ سے وابستہ ہو وہ برسوں بعد بھی ایک فون کال پر پورے نظام کو حرکت میں لا سکتا ہے۔ یہ لوگ دن رات محنت کر کے نظام کو بہتر نہیں بناتے۔ وہ صرف اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ فیصلے انہی کے دائرے میں رہیں۔ سیاسی فلسفے کی زبان میں یہ "اولیگارکی" ہے یعنی اقلیت کی حکومت جو خود کو عوامی نمائندگی کا لبادہ اوڑھے رکھتی ہے۔ جمہوریت کا ڈھانچہ موجود ہے، الیکشن ہوتے ہیں، پارلیمان بلتی ہے، مگر اصل فیصلے اس بند کمرے میں ہوتے ہیں جہاں یہ تین ستون ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں۔ عام آدمی اس کمرے کے باہر کھڑا رہتا ہے۔ وہ صرف نتائج دیکھتا ہے، عمل میں شریک نہیں ہو سکتا۔ یہ نظام اس لیے زندہ ہے کیونکہ یہ خود کو برقرار رکھنے کا ہنر جانتا ہے۔ نئے چہرے آئیں یا پرانے، جب تک وہ اسی حلقے کا حصہ نہ بن جائیں، وہ باہر ہی رہتے ہیں۔ اور جب بن جاتے ہیں تو پھر وہ بھی اسی منطق کے مطابق کام کرنے لگتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ریاست عوام کے لیے نہیں بلکہ اس نیٹ ورک کے تحفظ کے لیے چلتی ہے۔ یہ وہ تلخ حقیقت ہے جسے بار بار نظر انداز کیا جاتا ہے۔ یہاں مسئلہ صرف کرپشن یا نااہلی کا نہیں۔ مسئلہ اس ڈھانچے کا ہے جو طاقت کو ایک چھوٹے سے حلقے میں قید کر کے رکھتا ہے اور باقی پوری قوم کو تماشائی بنا دیتا ہے۔ . . . . . . . . #khizarsreflections #foryoupage #viralreels #PakPolitics #exploremore