@itzzranjha: میں نے ایک پھول کو اپنے وقت کی دھوپ محبت کی نمی اور وفا کا سایا ا کا سایہ دیا۔ اُس کی ہر کلی کو اپنے خوابوں سے سے سینچا ہر مرجھاتی سانس کو امید سے جوڑا پھر ایک دن وہ مہکا کھلا اور اپنی خوشبو سے زمانے کا محبوب بن گیا۔ لوگ اُس کی تعریف کرتے رہے، اُس پر فریفتہ ہوتے رہے، مگر کسی نے یہ نہ جانا کہ اُس کی خوشبو میں میرے صبر کی مہک بھی شامل ہے، اور اُس کی خوبصورتی کے پیچھے میری خاموش محبت کی ایک طویل داستان بھی دفن ہے بعض اوقات دنیا پھول سے محبت کرتی مگر اُسے کھلانے والے ہاتھ بھول جاتی ہے۔