@shozi944: ھاتھ میں معافی، سامنے قبر" 🖤🥀 بعض اوقات انسان معافی مانگنے میں اتنی دیر کر دیتا ہے کہ معافی باقی رہ جاتی ہے اور جس سے مانگنی ہوتی ہے وہ نہیں رہتا۔ پھر دل میں ایک عجیب سی ویرانی بس جاتی ہے۔ ایسی ویرانی جسے نہ وقت بھر سکتا ہے، نہ مصروفیت، نہ نئے لوگ۔ بس ایک احساس ساتھ رہ جاتا ہے کہ کچھ لفظ تھے جو وقت پر کہہ دینے چاہیئے تھے۔ کچھ ہاتھ تھے جنہیں وقت پر تھام لینا چاہیئے تھا۔ کچھ رشتے تھے جنہیں انا سے زیادہ اہم سمجھ لینا چاہیئے تھا۔ پھر ایک دن خبر آتی ہے اور سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ اتنی خاموشی سے کہ یقین ہی نہیں آتا۔ دل بار بار یہی سوچتا رہتا ہے کہ ابھی دروازہ کھلے گا، ابھی فون آئے گا، ابھی بات ہو جائے گی، مگر کچھ دروازے ایک بار بند ہو جائیں تو پھر کبھی نہیں کھلتے۔ اس کے بعد انسان کے پاس صرف یادیں رہ جاتی ہیں اور وہ معذرتیں جو سینے میں دفن رہ گئیں۔ سب سے زیادہ تکلیف جدائی نہیں دیتی، تکلیف وہ باتیں دیتی ہیں جو کہی نہ جا سکیں۔ وہ محبت جو ظاہر نہ ہو سکی۔ وہ افسوس جو دل میں رہ گیا۔ وہ ایک لفظ "معاف کر دو" جو ہونٹوں تک آ کر واپس لوٹ گیا۔ پھر برسوں بعد بھی جب اُس شخص کا خیال آتا ہے تو دل کے کسی کونے میں ایک درد جاگ اٹھتا ہے۔ ایسا درد جو رلاتا نہیں، بس اندر ہی اندر انسان کو کھاتا رہتا ہے۔ میں نے جانا ہے کہ کچھ معذرتیں واقعی میت کے ماتھے پر بوسے کی مانند ہوتی ہیں۔ ان میں محبت بھی ہوتی ہے، ندامت بھی، آنسو بھی اور سچائی بھی... مگر وہ سب کچھ اُس وقت بے معنی ہو جاتا ہے جب سامنے والا انہیں سننے کے لیے موجود نہ ہو۔ پھر انسان اپنی ہی یادوں کے قبرستان میں کھڑا رہ جاتا ہے، ہاتھ میں معافی لیے، آنکھوں میں نمی لیے، اور دل میں ایک ایسا پچھتاوا لیے جو شاید آخری سانس تک ساتھ رہتا ہے