@iamkwamebekoe: Hot Selling Nissan Versa 2015 Manual Engine : 1.6 Colour : Grey Good for both Private and Commercial Purpose. Fuel consumption extremely low. #f #fyp #goviral #cars #ghanatiktok🇬🇭

Kwame Bekoe
Kwame Bekoe
Open In TikTok:
Region: GH
Saturday 29 August 2026 09:58:34 GMT
1362
407
5
5

Music

Download

Comments

king_andy.wg
@King_Andy :
how much
2026-08-30 11:24:20
0
nana.abogo
Lil cuter🥷🤘 :
Hard naga
2026-08-29 19:27:14
0
king_andy.wg
@King_Andy :
🥰🥰🥰
2026-08-30 11:23:54
0
To see more videos from user @iamkwamebekoe, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

خواب جب ریزہ ریزہ ہو جائیں تو چہرے پر پہلے جیسی چمک نہیں رہتی۔   وہ روشنی جو آنکھوں کے کونوں میں چھپی ہوتی تھی، کہیں کھو جاتی ہے۔   صبح اٹھنے کی جلدی ختم ہو جاتی ہے، کیونکہ اٹھ کر جانا کہاں ہے؟   آئینہ اب سوال کرتا ہے اور ہمارے پاس جواب نہیں ہوتا۔   ہنسی آتی ہے تو آواز میں وہ پہلی والی گونج نہیں رہتی۔   لفظ زبان پر آتے ہیں مگر ادھورے رہ جاتے ہیں۔   دل کے کمرے میں وہ کرسیاں خالی پڑی رہتی ہیں جن پر خواب بیٹھا کرتے تھے۔   لوگ کہتے ہیں تم بدل گئے ہو، اور ہم خاموشی سے سر ہلا دیتے ہیں۔   کیونکہ بتائیں تو کیا بتائیں کہ اندر کیا ٹوٹا ہے۔   راتیں اب لمبی لگتی ہیں، نیند آ بھی جائے تو سکون نہیں دیتی۔   چائے کا کپ ہاتھ میں تھامے سوچتے رہتے ہیں کہاں غلط ہوا ہے۔  ہم مسکراتے ہیں مگر وہ مسکراہٹ چہرے تک نہیں پہنچتی۔   آنکھوں کے نیچے سیاہی گہری ہو جاتی ہے، تھکن کی نہیں، بے یقینی کی۔   پہلے جو باتیں جوش سے کرتے تھے، اب انہیں دہرانے کا حوصلہ نہیں بچتا۔   ہم سب کے سامنے ٹھیک رہنے کی اداکاری سیکھ لیتے ہیں۔   گھر والے پوچھتے ہیں کیا ہوا، ہم کہتے ہیں کچھ نہیں، بس تھکاوٹ ہے۔   مگر تھکن تو جسم کی نہیں ہوتی، وہ روح کی ہوتی ہے۔   خواب ٹوٹنے کے بعد انسان خود سے وعدے کرنا بھول جاتا ہے۔   ہر نئی امید پر پہلے والے زخم کا سایہ پڑ جاتا ہے۔   ہم محتاط ہو جاتے ہیں، کہیں پھر سے کچھ ٹوٹ نہ جائے۔   اس لیے قدم آہستہ ہو جاتے ہیں، اور دل کی دھڑکن مدھم۔   چہرے کی چمک دراصل یقین کی چمک ہوتی ہے۔   جب یقین ریزہ ریزہ ہو جائے تو چہرہ بھی مٹی جیسا لگنے لگتا ہے۔   پھر بھی کہیں اندر ایک چھوٹی سی چنگاری بچ جاتی ہے۔   وہ سرگوشی کرتی ہے کہ شاید کوئی نیا خواب جنم لے۔   اور ہم اسی سرگوشی کے سہارے اگلی صبح کا انتظار کرتے ہیں۔   کیونکہ چمک واپس نہ بھی آئے، جینا تو پھر بھی اسی چہرے سے ہے۔خواب جب ریزہ ریزہ ہو جائیں تو چہرے پر پہلے جیسی چمک نہیں رہتی۔   وہ چمک جو ہر صبح نئی امید کے ساتھ آنکھوں میں اترتی تھی، دھیرے دھیرے بجھ جاتی ہے۔   انسان مسکراتا تو ہے، مگر وہ مسکراہٹ آئینے سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہے۔   راتوں کی نیند بکھر جاتی ہے اور دن بے رنگ لگنے لگتے ہیں۔   جو باتیں کبھی دل کو پروں جیسی ہلکی کر دیتی تھیں، اب وہی باتیں سینے پر بوجھ بن جاتی ہیں۔   خوابوں کے ٹوٹنے کی آواز نہیں ہوتی، بس اندر کہیں ایک شیشہ چٹخ جاتا ہے۔   اور اس چٹخنے کے بعد انسان پہلے جیسا نہیں رہتا۔   وہ لوگوں سے ملتا ہے، بات کرتا ہے، کام بھی کرتا ہے، لیکن کہیں گہرائی میں ایک خلا رہ جاتا ہے۔   آنکھوں کے گرد تھکن بیٹھ جاتی ہے جو نیند سے نہیں جاتی۔   چہرے پر وہ معصوم تجس نہیں رہتا جو ہر نئی چیز کو دیکھ کر جاگ اٹھتا تھا۔   اب ہر سوال کا جواب پہلے سے پتہ ہوتا ہے، اور ہر جواب میں تھوڑی سی مایوسی شامل ہوتی ہے۔   دوست پوچھتے ہیں
خواب جب ریزہ ریزہ ہو جائیں تو چہرے پر پہلے جیسی چمک نہیں رہتی۔ وہ روشنی جو آنکھوں کے کونوں میں چھپی ہوتی تھی، کہیں کھو جاتی ہے۔ صبح اٹھنے کی جلدی ختم ہو جاتی ہے، کیونکہ اٹھ کر جانا کہاں ہے؟ آئینہ اب سوال کرتا ہے اور ہمارے پاس جواب نہیں ہوتا۔ ہنسی آتی ہے تو آواز میں وہ پہلی والی گونج نہیں رہتی۔ لفظ زبان پر آتے ہیں مگر ادھورے رہ جاتے ہیں۔ دل کے کمرے میں وہ کرسیاں خالی پڑی رہتی ہیں جن پر خواب بیٹھا کرتے تھے۔ لوگ کہتے ہیں تم بدل گئے ہو، اور ہم خاموشی سے سر ہلا دیتے ہیں۔ کیونکہ بتائیں تو کیا بتائیں کہ اندر کیا ٹوٹا ہے۔ راتیں اب لمبی لگتی ہیں، نیند آ بھی جائے تو سکون نہیں دیتی۔ چائے کا کپ ہاتھ میں تھامے سوچتے رہتے ہیں کہاں غلط ہوا ہے۔ ہم مسکراتے ہیں مگر وہ مسکراہٹ چہرے تک نہیں پہنچتی۔ آنکھوں کے نیچے سیاہی گہری ہو جاتی ہے، تھکن کی نہیں، بے یقینی کی۔ پہلے جو باتیں جوش سے کرتے تھے، اب انہیں دہرانے کا حوصلہ نہیں بچتا۔ ہم سب کے سامنے ٹھیک رہنے کی اداکاری سیکھ لیتے ہیں۔ گھر والے پوچھتے ہیں کیا ہوا، ہم کہتے ہیں کچھ نہیں، بس تھکاوٹ ہے۔ مگر تھکن تو جسم کی نہیں ہوتی، وہ روح کی ہوتی ہے۔ خواب ٹوٹنے کے بعد انسان خود سے وعدے کرنا بھول جاتا ہے۔ ہر نئی امید پر پہلے والے زخم کا سایہ پڑ جاتا ہے۔ ہم محتاط ہو جاتے ہیں، کہیں پھر سے کچھ ٹوٹ نہ جائے۔ اس لیے قدم آہستہ ہو جاتے ہیں، اور دل کی دھڑکن مدھم۔ چہرے کی چمک دراصل یقین کی چمک ہوتی ہے۔ جب یقین ریزہ ریزہ ہو جائے تو چہرہ بھی مٹی جیسا لگنے لگتا ہے۔ پھر بھی کہیں اندر ایک چھوٹی سی چنگاری بچ جاتی ہے۔ وہ سرگوشی کرتی ہے کہ شاید کوئی نیا خواب جنم لے۔ اور ہم اسی سرگوشی کے سہارے اگلی صبح کا انتظار کرتے ہیں۔ کیونکہ چمک واپس نہ بھی آئے، جینا تو پھر بھی اسی چہرے سے ہے۔خواب جب ریزہ ریزہ ہو جائیں تو چہرے پر پہلے جیسی چمک نہیں رہتی۔ وہ چمک جو ہر صبح نئی امید کے ساتھ آنکھوں میں اترتی تھی، دھیرے دھیرے بجھ جاتی ہے۔ انسان مسکراتا تو ہے، مگر وہ مسکراہٹ آئینے سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہے۔ راتوں کی نیند بکھر جاتی ہے اور دن بے رنگ لگنے لگتے ہیں۔ جو باتیں کبھی دل کو پروں جیسی ہلکی کر دیتی تھیں، اب وہی باتیں سینے پر بوجھ بن جاتی ہیں۔ خوابوں کے ٹوٹنے کی آواز نہیں ہوتی، بس اندر کہیں ایک شیشہ چٹخ جاتا ہے۔ اور اس چٹخنے کے بعد انسان پہلے جیسا نہیں رہتا۔ وہ لوگوں سے ملتا ہے، بات کرتا ہے، کام بھی کرتا ہے، لیکن کہیں گہرائی میں ایک خلا رہ جاتا ہے۔ آنکھوں کے گرد تھکن بیٹھ جاتی ہے جو نیند سے نہیں جاتی۔ چہرے پر وہ معصوم تجس نہیں رہتا جو ہر نئی چیز کو دیکھ کر جاگ اٹھتا تھا۔ اب ہر سوال کا جواب پہلے سے پتہ ہوتا ہے، اور ہر جواب میں تھوڑی سی مایوسی شامل ہوتی ہے۔ دوست پوچھتے ہیں "کیا ہوا؟" تو ہونٹوں پر بس ایک "کچھ نہیں" آ کر رک جاتا ہے۔ کیونکہ ریزہ ریزہ ہوئے خوابوں کو لفظوں میں سمیٹنا سب سے مشکل کام ہوتا ہے۔ کبھی کبھی رات کے سناٹے میں پرانے خواب دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔ انسان اٹھ کر بیٹھ جاتا ہے، سوچتا ہے شاید کوئی راستہ نکل آئے۔ لیکن صبح ہوتے ہی حقیقت پھر وہی دروازہ بند کر دیتی ہے۔ پھر انسان سیکھ جاتا ہے کہ ہر چیز کے لیے لڑا نہیں جاتا۔ کچھ خوابوں کو بس الوداع کہنا پڑتا ہے۔ یہ الوداع کہنا آسان نہیں ہوتا، یہ دل کے کسی کونے کو ہمیشہ کے لیے خالی کر دیتا ہے۔ اس خالی جگہ میں نہ کوئی نیا خواب آسانی سے آتا ہے نہ پرانا واپس پلٹتا ہے۔ بس انسان اس خلا کے ساتھ جینا سیکھ لیتا ہے۔ وہ ہنستا ہے مگر ہنسی کے پیچھے ایک خاموشی چلتی ہے۔ وہ چلتا ہے مگر قدموں میں پہلے والا جوش نہیں ہوتا۔ وہ منصوبے بناتا ہے مگر ہر منصوبے کے آخر میں ایک "اگر" لگا دیتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جاتا ہے۔ ہو بھی جاتا ہے، مگر پہلے جیسا نہیں ہوتا۔ چمک لوٹ آتی ہے، مگر وہ بچپن والی بے فکری والی چمک نہیں رہتی۔ اور پھر ایک دن انسان کو سمجھ آتا ہے کہ خوابوں کا ٹوٹنا بھی زندگی کا حصہ ہے۔ وہی ٹوٹ کر ہی تو انسان مکمل ہوتا ہے، تھوڑا سخت، تھوڑا سمجھدار، اور تھوڑا خاموش۔ #unfreezemyacount #foryoupage #creatorsearchinsights

About