@mthin386: hãy sám hối đức Phật để mùa mưa bão này bớt khổ bạn nhé

Thiện Mỹ
Thiện Mỹ
Open In TikTok:
Region: VN
Saturday 29 August 2026 13:16:49 GMT
20243
546
103
80

Music

Download

Comments

sanhhoang1111
Mua Bán nhà đất Tây Ninh :
thời mạc pháp là đến tận thế rồi
2026-08-29 14:36:21
8
nhungnguyen35085
Nhung Nguyen :
đúng đó nhân quả đến rất nhanh, trên đời này ai cũng có tội nhưng người có tội nặng đến mấy mà biết sám hối hàng ngày tu tâm niệm phật hạn chế sát sinh thì sẽ bớt nghiệp, nam mô tây phương cực lạc thế giới Đại Từ đại bi a di đà phật con nam mô a di đà phật con nam mô a di đà phật con nam mô a di đà phật, rất ngưỡng mộ người đàn ông đang nói về đạo phật, nam mô a di đà phật nam mô a di đà phật nam mô a di đà phật
2026-08-30 02:22:31
3
nu01011977
Bình An ❤️❤️ :
2026-08-29 21:33:54
1
kimthoa68668
kimthoa68668 :
năm mô adi dà phật
2026-08-29 14:17:27
1
thuy_hoang69
Thủy Hoàng :
chuẩu. lắm. anh. ỏi. ❤️❤️❤️❤️🥰🥰🥰🥰
2026-08-30 09:01:09
0
anh213242
Đức Anh :
nam mô a Di Đà phật
2026-08-29 14:37:22
1
duongha4587
duongha4587 :
2026-08-29 15:59:27
0
lantrann
LAN TRAN :
2026-08-30 06:39:49
0
hu.nguyn.th238
Huệ Nguyễn Thị :
A di đà Phật
2026-08-29 15:50:01
1
ngcmy793
Ngọc Mỹ :
nam mô a Di Đà Phật
2026-08-29 21:29:57
1
lenguyen9798
RainBow Coffee :
nam mô a Di Đà Phật
2026-08-29 17:25:18
1
nguyenmai16_05
Nguyễn Mai cute :
Nam Mô A Di Đà Phật
2026-08-29 16:01:51
1
hien0659
Nguyễn Hiền :
Nam mô a Di Đà Phật
2026-08-29 16:37:32
0
ni.hng.sng.lam0
Núi Hồng Sông Lam :
Nam mô a di đà Phật
2026-08-30 07:02:30
0
laso1vo
laso1vo :
Nam Mô A Di Đà Phật 🙏🙏🙏
2026-08-29 17:31:13
1
timyeunho
tim yêu nhớ. :
nam mô a Di Đà Phật
2026-08-30 07:22:38
0
dybqnw12t4qp
Quyên Quyên :
nam mô a di đà Phật
2026-08-29 16:08:11
1
oanhbui447
Bùi Thị Oanh :
nam mô a Di Đà Phật
2026-08-29 14:08:42
0
mailuyn5
Mai luyến :
Nam mô a di đà Phật 🙏🙏🙏
2026-08-30 09:19:32
0
.iu762
Đỗ Điều :
Nam mô a di đà Phật
2026-08-30 09:21:19
0
trn.lan593
Trần Lan :
nam mô a di đà phât
2026-08-30 08:53:22
0
vn.phc2792
Văn Phúc :
Đúng vậy
2026-08-30 00:30:57
1
minhlong3456
Chu Nguyên :
A di đà phật
2026-08-30 08:39:27
0
cc.bi.l.ta1
các bụi là ta :
nam mô a Di Đà Phật
2026-08-29 22:22:17
2
minhduong_30091969
Dương thị minh :
Nam mô a Di Đà Phật
2026-08-29 14:21:06
0
To see more videos from user @mthin386, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

گھوڑے سے گرنے والی ایک خاتون… اور پشاور کا وہ ہسپتال جو آج بھی زندہ ہے پشاور کی گلیوں میں ایک زمانہ ایسا بھی گزرا ہے جب ایک معمولی سا حادثہ صرف ایک خاتون کی زندگی کا واقعہ نہیں رہا، بلکہ اس نے پورے شہر کی طبی تاریخ بدل دی۔ 1920 کی دہائی میں برطانوی ہندوستان کے وائسرائے لارڈ ریڈنگ اپنی اہلیہ لیڈی ایلس ریڈنگ کے ساتھ پشاور آئے۔ قلعہ بالاحصار سے شہر کو دیکھنے والی لیڈی ریڈنگ کو پشاور کی زندگی قریب سے دیکھنے کا شوق ہوا۔ پھر ایک دن گھوڑے کی سواری کے دوران وہ گر کر زخمی ہوگئیں۔ انہیں علاج کے لیے ایجرٹن ہسپتال لے جایا گیا، لیکن وہاں موجود طبی سہولیات ان کی ضرورت کے مطابق نہ تھیں۔ بعد میں انہیں بہتر علاج کے لیے فوجی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ وہ صحت یاب ہوگئیں، مگر اس حادثے نے ان کے ذہن میں ایک سوال چھوڑ دیا: اگر میرے پاس علاج کی سہولت نہیں تھی، تو اس شہر کے عام غریب لوگوں کا کیا ہوتا ہوگا؟ یہ سوال شاید ان کے دل میں ہمیشہ کے لیے اتر گیا۔ 1926 میں انہوں نے پشاور میں ایک معیاری ہسپتال کے قیام کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم شروع کی۔ اپنی طرف سے بھی خطیر رقم دی، اور ان کوششوں کے نتیجے میں ایک نئے ہسپتال کی بنیاد پڑی۔ اگلے سال، 1927 میں، وہ ہسپتال قائم ہوا جسے آج دنیا لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے نام سے جانتی ہے۔ سوچیے… جس خاتون نے کبھی پشاور میں ایک گھوڑے سے گر کر طبی سہولت کی کمی کو محسوس کیا تھا، اسی واقعے نے ایک ایسے ادارے کی بنیاد رکھنے میں کردار ادا کیا جو آنے والی نسلوں کے لیے علاج کا مرکز بن گیا۔ آج قلعہ بالاحصار کے سائے میں کھڑا یہ ہسپتال صرف اینٹوں، دیواروں اور وارڈز کا نام نہیں۔ یہ اس عجیب تاریخی موڑ کی یادگار ہے جہاں ایک حادثہ ایک سوال بنا، ایک سوال نے ایک عزم پیدا کیا، اور ایک عزم نے پشاور کی طبی تاریخ بدل دی۔ اور شاید تاریخ کا سب سے خوبصورت سبق یہی ہے: کبھی کبھی ایک انسان کا ذاتی دکھ، ہزاروں انسانوں کے لیے زندگی کی امید بن جاتا ہے:#LadyReadingHospital  ​#LRHPeshawar  ​#PeshawarHistory  ​#PeshawarDiaries  ​#KPKHealth
گھوڑے سے گرنے والی ایک خاتون… اور پشاور کا وہ ہسپتال جو آج بھی زندہ ہے پشاور کی گلیوں میں ایک زمانہ ایسا بھی گزرا ہے جب ایک معمولی سا حادثہ صرف ایک خاتون کی زندگی کا واقعہ نہیں رہا، بلکہ اس نے پورے شہر کی طبی تاریخ بدل دی۔ 1920 کی دہائی میں برطانوی ہندوستان کے وائسرائے لارڈ ریڈنگ اپنی اہلیہ لیڈی ایلس ریڈنگ کے ساتھ پشاور آئے۔ قلعہ بالاحصار سے شہر کو دیکھنے والی لیڈی ریڈنگ کو پشاور کی زندگی قریب سے دیکھنے کا شوق ہوا۔ پھر ایک دن گھوڑے کی سواری کے دوران وہ گر کر زخمی ہوگئیں۔ انہیں علاج کے لیے ایجرٹن ہسپتال لے جایا گیا، لیکن وہاں موجود طبی سہولیات ان کی ضرورت کے مطابق نہ تھیں۔ بعد میں انہیں بہتر علاج کے لیے فوجی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ وہ صحت یاب ہوگئیں، مگر اس حادثے نے ان کے ذہن میں ایک سوال چھوڑ دیا: اگر میرے پاس علاج کی سہولت نہیں تھی، تو اس شہر کے عام غریب لوگوں کا کیا ہوتا ہوگا؟ یہ سوال شاید ان کے دل میں ہمیشہ کے لیے اتر گیا۔ 1926 میں انہوں نے پشاور میں ایک معیاری ہسپتال کے قیام کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم شروع کی۔ اپنی طرف سے بھی خطیر رقم دی، اور ان کوششوں کے نتیجے میں ایک نئے ہسپتال کی بنیاد پڑی۔ اگلے سال، 1927 میں، وہ ہسپتال قائم ہوا جسے آج دنیا لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے نام سے جانتی ہے۔ سوچیے… جس خاتون نے کبھی پشاور میں ایک گھوڑے سے گر کر طبی سہولت کی کمی کو محسوس کیا تھا، اسی واقعے نے ایک ایسے ادارے کی بنیاد رکھنے میں کردار ادا کیا جو آنے والی نسلوں کے لیے علاج کا مرکز بن گیا۔ آج قلعہ بالاحصار کے سائے میں کھڑا یہ ہسپتال صرف اینٹوں، دیواروں اور وارڈز کا نام نہیں۔ یہ اس عجیب تاریخی موڑ کی یادگار ہے جہاں ایک حادثہ ایک سوال بنا، ایک سوال نے ایک عزم پیدا کیا، اور ایک عزم نے پشاور کی طبی تاریخ بدل دی۔ اور شاید تاریخ کا سب سے خوبصورت سبق یہی ہے: کبھی کبھی ایک انسان کا ذاتی دکھ، ہزاروں انسانوں کے لیے زندگی کی امید بن جاتا ہے:#LadyReadingHospital ​#LRHPeshawar ​#PeshawarHistory ​#PeshawarDiaries ​#KPKHealth

About