@the.uranophile: زندگی میں ہم اکثر دوسروں کو اپنی نیت، اپنے فیصلوں اور اپنے رویے کی وضاحتیں دیتے رہتے ہیں۔ ہمیں خوف ہوتا ہے کہ کہیں کوئی ہمیں غلط نہ سمجھ لے، کوئی ناراض نہ ہو جائے یا کوئی ہمارے بارے میں برا نہ سوچے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو شخص آپ کو غلط سمجھنا چاہتا ہے، وہ آپ کی ہزار وضاحتوں کے بعد بھی اپنی رائے نہیں بدلے گا۔ "اگر کوئی کہے کہ تم بُرے ہو تو کہنا: حد سے زیادہ" ایک طنزیہ اور پُراعتماد جواب ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان واقعی خود کو برا سمجھے، بلکہ یہ ہے کہ ہر الزام کا دفاع کرنا ضروری نہیں۔ کبھی کبھی خاموشی سے مسکرا کر آگے بڑھ جانا اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی قدر دوسروں کی رائے کے حوالے نہیں کی۔ ہر انسان کو اپنی زندگی میں یہ سیکھنا پڑتا ہے کہ ہر کسی کو خوش نہیں کیا جا سکتا۔ آپ کسی کے لیے بہت اچھے ہو سکتے ہیں اور کسی دوسرے کے لیے برے؛ کسی کو آپ کی خاموشی پسند آئے گی اور کوئی اسے غرور سمجھے گا۔ اگر انسان ہر شخص کی سوچ کے مطابق خود کو بدلنے لگے تو آخرکار وہ اپنی اصل شخصیت ہی کھو بیٹھتا ہے۔ البتہ خودداری کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان اپنی غلطی ماننے سے انکار کر دے۔ جہاں واقعی غلطی ہو، وہاں اصلاح کرنا ہی اصل سمجھداری ہے۔ لیکن جہاں صرف غلط فہمی، حسد یا بلاوجہ الزام ہو، وہاں بار بار صفائی دینے کے بجائے اپنے کردار کو وقت کے حوالے کر دینا بہتر ہے۔ ہر بات کی وضاحت ضروری نہیں ہوتی؛ کچھ جواب وقت دیتا ہے اور کچھ کردار۔ بس اتنا مضبوط بنو کہ ہر کسی کی رائے تمہارا سکون نہ چھین سکے۔