@professeur_sept: Entends bien ! #pourtoi #people #reel

Professeur 7
Professeur 7
Open In TikTok:
Region: AE
Saturday 29 August 2026 17:26:04 GMT
4431
488
10
31

Music

Download

Comments

queenofpop150
Queenofpop :
Réel, ne jamais intérioriser le comportement de l’autre
2026-08-29 19:01:35
5
brian.connor9077
Brian Connor :
C'est pour ça qu'il faut rien attendre des gens... Personne ne te veux du bien excepté toi-même.
2026-08-30 10:14:43
1
carineagbohoui987
Carine Agbohoui :
Merci
2026-09-04 21:04:08
0
rd_mvouama9.3
RD_MVOUAMA :
c'est clair
2026-08-29 17:35:40
2
kazimabasi07
L’Esprit souverain🇨🇩🇪🇬 :
Merci
2026-08-30 16:26:51
1
faithfulrise4
❤️FaithfulRise❤️✝️🇲🇶 :
✅
2026-08-29 20:40:35
2
sofs.ai
S/o :
🔥🔥🔥
2026-08-29 17:31:03
2
florencegalysmith
Florence Galy Smith :
👍👍👍🥰🥰
2026-09-04 10:28:31
0
_samuel.kouame
Samuel Kouamé :
Jésus sauve de l’enfer. La mort c’est bientôt.
2026-09-03 01:18:09
0
To see more videos from user @professeur_sept, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

مجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نے شاید اب بھی ترا غم دل سے لگا رکھا ہو ایک بے نام سی امید پہ اب بھی شاید اپنے خوابوں کے جزیروں کو سجا رکھا ہو میں نے مانا کہ وہ بیگانۂ پیمان وفا کھو چکا ہے جو کسی اور کی رعنائی میں شاید اب لوٹ کے آئے نہ تری محفل میں اور کوئی دکھ نہ رلائے تجھے تنہائی میں میں نے مانا کہ شب و روز کے ہنگاموں میں وقت ہر غم کو بھلا دیتا ہے رفتہ رفتہ چاہے امید کی شمعیں ہوں کہ یادوں کے چراغ مستقل بعد بجھا دیتا ہے رفتہ رفتہ پھر بھی ماضی کا خیال آتا ہے گاہے گاہے مدتیں درد کی لو کم تو نہیں کر سکتیں زخم بھر جائیں مگر داغ تو رہ جاتا ہے دوریوں سے کبھی یادیں تو نہیں مر سکتیں یہ بھی ممکن ہے کہ اک دن وہ پشیماں ہو کر تیرے پاس آئے زمانے سے کنارا کر لے تو کہ معصوم بھی ہے زود فراموش بھی ہے اس کی پیماں شکنی کو بھی گوارا کر لے اور میں جس نے تجھے اپنا مسیحا سمجھا ایک زخم اور بھی پہلے کی طرح سہ جاؤں جس پہ پہلے بھی کئی عہد وفا ٹوٹے ہیں اسی دوراہے پہ چپ چاپ کھڑا رہ جاؤں!!!  #search #fi
مجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نے شاید اب بھی ترا غم دل سے لگا رکھا ہو ایک بے نام سی امید پہ اب بھی شاید اپنے خوابوں کے جزیروں کو سجا رکھا ہو میں نے مانا کہ وہ بیگانۂ پیمان وفا کھو چکا ہے جو کسی اور کی رعنائی میں شاید اب لوٹ کے آئے نہ تری محفل میں اور کوئی دکھ نہ رلائے تجھے تنہائی میں میں نے مانا کہ شب و روز کے ہنگاموں میں وقت ہر غم کو بھلا دیتا ہے رفتہ رفتہ چاہے امید کی شمعیں ہوں کہ یادوں کے چراغ مستقل بعد بجھا دیتا ہے رفتہ رفتہ پھر بھی ماضی کا خیال آتا ہے گاہے گاہے مدتیں درد کی لو کم تو نہیں کر سکتیں زخم بھر جائیں مگر داغ تو رہ جاتا ہے دوریوں سے کبھی یادیں تو نہیں مر سکتیں یہ بھی ممکن ہے کہ اک دن وہ پشیماں ہو کر تیرے پاس آئے زمانے سے کنارا کر لے تو کہ معصوم بھی ہے زود فراموش بھی ہے اس کی پیماں شکنی کو بھی گوارا کر لے اور میں جس نے تجھے اپنا مسیحا سمجھا ایک زخم اور بھی پہلے کی طرح سہ جاؤں جس پہ پہلے بھی کئی عہد وفا ٹوٹے ہیں اسی دوراہے پہ چپ چاپ کھڑا رہ جاؤں!!! #search #fi

About