@fad_writes: اس نے پھول اگائے اور تب اسے معلوم ہوا دل کے کھلنے کا تعلق پھولوں کے کھلنے سے نہیں ہوتا وہ بارشوں میں بھیگا مگر کوئی ایسی بارش نہیں تھی جو اس کے اندر اٹھتے شعلوں کو بجھا سکتی اس نے رقص کیا مگر وہ جان گیا وہ کوئی درخت نہیں ہے جس سے یادوں کے پرندے اڑ جائیں گے اس نے موسیقی سنی مگر کوئی بھی ساز اس کے اندر پھنکارتے سانپوں کو باہر نہیں نکال سکتا تھا وہ اپنی تنہائی سے تنگ آ گیا تو اس نے کچھ پرندے پال لیے مگر جلد ہی اسے احساس ہوا پرندے دانہ تو چگ لیتے ہیں مگر دکھ نہیں چگتے اس نے اپنے آپ کو ایک کمرے میں بند کر دیا اس امید میں کہ شائد کوئی کسی دن اس پرانے صندوق کو کھول کر کچھ پیار کے خط برآمد کر لے#fypシ゚