اب لگتا ہے ٹھیک کہا تھا غالب نے
بڑھتے بڑھتے درد، دوا بن جاتا ہے۔
پہلے ہر تکلیف دل کو توڑ دیتی تھی،
ہر جدائی آنکھوں کو نم کر دیتی تھی،
ہر بے رخی اندر تک اتر جاتی تھی۔
مگر وقت نے آہستہ آہستہ سب سکھا دیا۔
اب درد ہوتا ہے، مگر شور نہیں ہوتا،
آنکھیں نم ہوتی ہیں، مگر شکایت نہیں ہوتی۔
کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو ختم نہیں ہوتے،
بس انسان اُن کے ساتھ جینا سیکھ لیتا ہے۔
پھر ایک وقت آتا ہے کہ
جس درد سے کبھی نجات مانگی تھی،
وہی درد انسان کی عادت بن جاتا ہے…
اور عادت آخرکار دوا جیسی لگنے لگتی ہے
2026-08-31 02:55:07
1
To see more videos from user @faiza.g958, please go to the Tikwm
homepage.