@paran_official: مجھے کچھ چیزوں سے واقعی سخت نفرت ہے؛ دھوکہ، غداری، جھوٹ، دوغلا پن اور دکھاوے کے رشتے۔ شاید یہ نفرت کسی ضد یا بدگمانی کی وجہ سے نہیں، بلکہ اُن تجربات کا نتیجہ ہے جہاں انسان نے لوگوں کی حقیقت کو بہت قریب سے دیکھا ہو۔ جب ہم کسی پر بھروسہ کرتے ہیں، اسے اپنا سمجھتے ہیں، اُس کے ساتھ خلوص سے کھڑے ہوتے ہیں اور دل سے اُس کا ساتھ نبھاتے ہیں، تو دل یہ توقع ضرور رکھتا ہے کہ سامنے والا بھی اتنا ہی سچا اور مخلص ہوگا۔ مگر جب وہی شخص اعتماد حاصل کرنے کے بعد پیچھے سے وار کرے، جھوٹ بولے، دوغلا پن دکھائے یا مشکل وقت میں ساتھ چھوڑ دے تو زخم صرف رویے سے نہیں لگتا، اعتماد کے ٹوٹنے سے لگتا ہے۔ دھوکہ اُس وقت زیادہ تکلیف دیتا ہے جب وہ کسی اجنبی سے نہیں، اپنے سمجھے جانے والے شخص سے ملے۔ غداری کا درد اس لیے گہرا ہوتا ہے کہ اکثر وار وہی کرتے ہیں جنہیں ہم نے اپنی صف میں جگہ دی ہوتی ہے۔ اور جھوٹ صرف ایک بات کو نہیں توڑتا، وہ پورے رشتے کی بنیاد کو ہلا دیتا ہے۔ سب سے عجیب بات تو یہ ہے کہ کچھ لوگ یہ سمجھتے رہتے ہیں کہ وہ ہمیں بےوقوف بنا رہے ہیں، ہمیں کچھ علم ہی نہیں، ہم اُن کی چالیں سمجھ نہیں پا رہے۔ وہ کیا جانیں… ہم اُن کی ایک ایک چال سے باخبر تھے، اُن کے ہر کھیل کو سمجھتے تھے، بس خاموش تھے۔ اس لیے نہیں کہ ہمیں حقیقت کا علم نہیں تھا، بلکہ اس لیے کہ اپنائیت کا بھرم قائم رہے، رشتے کا تقدس بچا رہے، اور اُن کے چہرے سے نقاب ہم خود نہ اتاریں۔ ہم نے بہت کچھ دیکھا، بہت کچھ سمجھا، مگر ہر حقیقت کو زبان دینا ضروری نہیں سمجھا۔ کیونکہ خاموش رہنا ہمیشہ بےخبری کی علامت نہیں ہوتا، کبھی کبھی یہ اُس شخص کی آخری تہذیب ہوتی ہے جو سب جانتے ہوئے بھی رشتے کا لحاظ کر رہا ہو۔ اگر کبھی بولے بھی تو صرف ان کو انہی کے پالے ہوئے آستین کے سانپوں سے با خبر رکھنے کو بچنے کا کہنے کو اور وہ کہ بغیر سنے کا سمجھے صرف اپنی آنا اور تکبر میں ایک الگ ہی دنیا میں گم رہے لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں؛ ہم نے کسی کو حد سے بڑھنے کی اجازت کبھی نہیں دی، صرف کچھ لوگوں کو برداشت کیا اُن کی حقیقت جاننے اور ان کے تمام چھپے چہروں کو دیکھنے کے لیئے اپنی خاموشی سے اُن کی حقیقت سمجھنے کا موقع دیا ہے۔ ہر بات میں خُدا کی حکمت ہوتی ہے اس میں بھی اُسی کی حکمت تھی۔اور ہاں آپ اس وہم سے نکل آئیے کہ ہم بے خبر رہے، بس جہاں رشتے عزیز ہو۔ وہاں ان کی کوتاہیوں کو پسِ پُشت ڈال کر عزت کو چنا جاتا ہے ہر بار احترام کو ہی ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔میں نے جہاں رشتہ ہو اُسے نبھانا جانتی ہوں آخری دم تک۔