@phuyen_m62: #xuhuong #viral

Huyền🛍️
Huyền🛍️
Open In TikTok:
Region: VN
Sunday 30 August 2026 05:30:13 GMT
4311
25
3
6

Music

Download

Comments

hnimhniu
Míu Míu.🛍🛒 :
đẹp qua
2026-08-30 07:58:45
1
ktam30_
🌞 :
đùi to bắp to có đẹp hog ạ
2026-08-31 04:48:29
0
To see more videos from user @phuyen_m62, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

اسکول کی گھنٹی اگلے دن بھی بجی۔ کھانا بھی پکا۔ فیس بھی جمع ہوئی۔ کپڑے بھی آئے۔ بچے کبھی ہنسے بھی۔ باہر سے دیکھنے والوں کو لگا:
اسکول کی گھنٹی اگلے دن بھی بجی۔ کھانا بھی پکا۔ فیس بھی جمع ہوئی۔ کپڑے بھی آئے۔ بچے کبھی ہنسے بھی۔ باہر سے دیکھنے والوں کو لگا: "بچے تو بالکل ٹھیک ہیں۔" مگر بچوں کے اندر زندگی کا حساب کچھ اور تھا۔ ایک بچہ اپنی خواہش بتانے سے پہلے سوچنے لگا کہ کہیں موجود والد یا والدہ مزید پریشان نہ ہوجائیں۔ دوسرے نے گھر کی باتیں چھپانا سیکھ لیں۔ کسی نے سوال کرنا چھوڑ دیا۔ کسی نے اپنی عمر سے پہلے سمجھدار ہونا سیکھ لیا۔ اور کسی نے رات کو صرف یہ سوچنا شروع کردیا: "اگر دونوں مجھ سے محبت کرتے ہیں تو پھر دونوں میرے ساتھ کیوں نہیں؟" اس سوال کا جواب بچے کو قانون کی دفعات سے نہیں ملتا۔ رشتہ داروں کی دلیلوں سے بھی نہیں۔ اسے یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ پہلے غلطی کس نے کی تھی۔ بچے کی دنیا بہت سادہ ہوتی ہے۔ وہ عدالت نہیں لگاتا۔ وہ صرف کمی محسوس کرتا ہے۔ اور یہی زندگی کی ایک تلخ حقیقت ہے: ماں موجود ہو تو باپ کی جگہ ختم نہیں ہوجاتی۔ باپ موجود ہو تو ماں کی ضرورت ختم نہیں ہوجاتی۔ دونوں ایک دوسرے کا متبادل نہیں۔ دونوں کا رشتہ بچے کے ساتھ الگ ہے، دونوں کی ذمہ داری الگ ہے اور دونوں کی موجودگی کا اثر بھی الگ ہوسکتا ہے۔ جہاں دونوں کی موجودگی محفوظ اور ممکن ہو، وہاں بچے کو کسی ایک کا انتخاب کیوں کرنا پڑے؟ قرآن پاک نے میاں بیوی کے اختلاف کی صورت میں بھی فوراً رشتہ توڑ دینے کے بجائے اصلاح کی کوشش کا راستہ دکھایا: "اگر دونوں اصلاح چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان موافقت پیدا فرما دے گا۔" (سورۃ النساء 4:35) یہاں ایک لفظ بہت بڑا سوال بن جاتا ہے: اصلاح۔ کیا واقعی اصلاح مطلوب ہے؟ یا صرف اپنی بات منوانی ہے؟ کیا گھر بچانا مقصد ہے؟ یا یہ ثابت کرنا کہ غلط دوسرا تھا؟ کیا مسئلہ اتنا بڑا ہے کہ رشتہ واقعی باقی نہیں رہ سکتا... یا انا اتنی بڑی ہوگئی ہے کہ کوئی پہلا قدم نہیں اٹھانا چاہتا؟ اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر فرمایا: "اور صلح بہتر ہے۔" (سورۃ النساء 4:128) اور رسول اللہ ﷺ نے گھر کے اندر اچھے کردار کو انسان کی فضیلت کا معیار بنایا: "تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو۔" (جامع ترمذی) بات ان گھروں کی ہے جہاں ظلم سے زیادہ انا ہے، مسئلے سے زیادہ ضد ہے، اور حل سے زیادہ یہ فکر ہے کہ پہل کون کرے گا۔ ایسے گھروں میں ایک فیصلہ کرنے سے پہلے بچوں کو ضرور دیکھ لینا چاہیے۔ کیونکہ بڑوں کے پاس بہت کچھ ہوتا ہے: دلائل ہوتے ہیں۔ رشتہ دار ہوتے ہیں۔ دوست ہوتے ہیں۔ فیصلے کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ نئی زندگی شروع کرنے کا امکان ہوتا ہے۔ مگر بچے کے پاس؟ بعض اوقات اس کے پاس صرف ایک گھر ہوتا ہے۔ اور جب وہ بھی ٹوٹ جائے تو لوگ اسے سمجھاتے ہیں: "وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہوجائے گا۔" مگر کوئی اس سے یہ نہیں پوچھتا کہ جو وقت اس کا بچپن ہونا تھا... اس وقت کا کیا ہوگا؟ اس لیے جہاں اصلاح ممکن ہو، وہاں اپنی انا سے ایک مرتبہ ضرور پوچھیے: "تو جیت بھی گئی تو ملے گا کیا؟" کیونکہ بعض لڑائیوں میں میاں بیوی میں سے کوئی ایک جیت ضرور جاتا ہے مگر قیمت ایک ایسے انسان سے وصول ہوتی ہے جو اس لڑائی میں شامل ہی نہیں تھا۔ بچہ۔ #onthisday #fyp #foryoupage #viralview1milion #viralvideo

About