@mainaurjohn: آج جو لوگ ایک حاضر سروس، باوردی فوجی افسر کی غنڈہ گردی اور قانون شکنی کو چھپانے کے لیے یہ جواز تراش رہے ہیں کہ "وہ اپنی بیوی کی عزت بچانے گیا تھا اور یہ اس کا حق تھا" وہ دراصل اپنے ضمیر کی سب سے بڑی منافقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اگر قانون کو ہاتھ میں لینے کا یہ حق صرف ایک وردی والے کو حاصل ہے، تو پھر ان سوالات کے جوابات بھی قوم کو دینے ہوں گے۔ کشمیریوں کے خون کا سودا کیوں؟ پشتونوں کے خون کا سودا کیوں؟ بلوچیوں کے خون کا سودا کیوں؟ اگر عزت کا دفاع ہر انسان کا حق ہے، تو جب ایک کشمیری، ایک پشتوناور ایک بلوچی اپنی سرزمین، اپنی چادر اور چار دیواری کے تحفظ کے لیے کھڑا ہوتا ہے، تو اسے غدار اور واجب القتل کیوں قرار دیا جاتا ہے؟ کشمیریوں، بلوچیوں اور پشتونوں نے جب اپنے حق کے لیے آواز اٹھائی، تو یہی دفاعی چیمپیئن کیوں آگ بگولہ ہو جاتے ہیں؟ان کے زخموں پر نمک کیوں؟ جو کشمیری، پشتون اور بلوچ آج اپنی بقا اور ناموس کی جنگ لڑ رہے ہیں، انہیں غدار اور دہشت گرد کا لیبل کیوں دیا جاتا ہے؟ جب پنجابی استعماری سوچ نے بلوچ کی عزت پر ہاتھ ڈالا (بقول ماہ رنگ بلوچ جب ہم اسلام آباد جا رہیں تھیں تو ہمارے دوپٹوں کو کھینچنے کے بعد ہماری شلواریں اور قمیضیں کھینچی) اور نواب اکبر بگٹی نے فوجی آمر غدار فوجی بھگوڑہ مشرف کے سامنے اپنی غیرت اور ناموس کا دفاع کیا، تو انہیں شہید کر کے غداری کا تمغہ کیوں دیا گیا؟ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے جب یہ دہائی دی کہ اسلام آباد کی سڑکوں پر پرامن بلوچ خواتین کے دوپٹے اور لباس کھینچے گئے، تب ان لوگوں کا غیرتِ ایمانی کا دفاع کہاں سو رہا تھا؟ الٹا ان مظلوموں کو سو سال کی سزا سنانے اور جیلوں میں ٹھونسنے والے آج کس منہ سے ایک کرنل کے "دفاع" کی وکالت کر رہے ہیں؟ یہ منافقت کا وہ اعلیٰ معیار ہے جہاں ایک باوردی افسر کا غصہ "عزت کا دفاع" بن جاتا ہے اور ایک مظلوم کا جائز احتجاج "ملک دشمنی" قرار پاتا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس ملک میں عزت، بیٹی، بیٹیاں اور بھائی صرف اشرافیہ اور مقتدر حلقوں کے پاس ہیں؟ کیا عام کشمیری، بلوچ اور پشتون کی ناموس کی کوئی قیمت نہیں؟ اگر قانون کا ترازو صرف طاقتور کے حق میں جھکے گا، تو پھر کمزور کو اپنے دفاع کا حق دینے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ منافقت کے یہ دوہرے معیار اب مزید نہیں چلیں گے۔ #JusticeForAll #EqualJustice #RuleOfLaw #NoDoubleStandards #HumanRights