@zilldealz: #leefar

Zilldeals
Zilldeals
Open In TikTok:
Region: US
Sunday 30 August 2026 09:21:59 GMT
79
2
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @zilldealz, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

فرعون دریا میں نہیں ڈوبا تھا، وہ اس سے پہلے اپنے غرور، تکبر اور سرکشی میں ڈوب چکا تھا۔ دریا تو صرف اُس کے ظاہری انجام کا مقام بنا۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ فرعون کو طاقت، حکومت اور اقتدار ملا، مگر اُس نے ان نعمتوں کو اللہ کی عطا سمجھنے کے بجائے اپنی بڑائی کا ذریعہ بنا لیا۔ اُس نے لوگوں پر ظلم کیا، خود کو برتر سمجھا اور یہاں تک کہ کہا: “أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ” “میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔” (النازعات: 24) یہ فرعون کی اصل تباہی تھی۔ اس کا مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ اُس کے پاس بہت طاقت تھی، بلکہ یہ تھا کہ طاقت نے اُس کے اندر تکبر، ظلم اور اللہ کے مقابلے میں سرکشی پیدا کر دی تھی۔ پھر وہی فرعون، جس کے حکم سے لوگ ڈرتے تھے، اللہ کے حکم سے سمندر میں بے بس ہو گیا۔ اُس کا لشکر، اُس کی سلطنت اور اُس کا غرور کوئی چیز اسے نہ بچا سکی۔ اس لیے یہ کہنا کہ “فرعون پہلے غرور میں ڈوبا تھا، دریا تو بعد میں آیا تھا” ایک ادبی انداز ہے، قرآن کی آیت نہیں۔ لیکن اس میں موجود سبق قرآن کے پیغام سے ہم آہنگ ہے۔ طاقت انسان کو خدا نہیں بناتی۔ دولت، عہدہ، شہرت یا اختیار بھی انسان کو بڑا نہیں بناتے۔ اصل خطرہ اُس وقت شروع ہوتا ہے جب انسان اپنی طاقت کو اللہ کی عطا سمجھنے کے بجائے اپنی ذات کا کمال سمجھنے لگتا ہے، پھر دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے، ظلم کرتا ہے اور اللہ کی حدود کو بھول جاتا ہے۔ فرعون کا انجام ہمیں یہی حقیقت یاد دلاتا ہے کہ انسان کا ظاہری زوال بعد میں آتا ہے، اس کا اخلاقی زوال پہلے شروع ہو جاتا ہے۔ جب تکبر دل میں جگہ بنا لے، انسان باہر سے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ دکھائی دے، اندر سے اپنے زوال کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِينَ” “بے شک اللہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔” (النحل: 23) #fyp #foryoupage #Allah #oneGod #fyppppppppppppppppppppppp
فرعون دریا میں نہیں ڈوبا تھا، وہ اس سے پہلے اپنے غرور، تکبر اور سرکشی میں ڈوب چکا تھا۔ دریا تو صرف اُس کے ظاہری انجام کا مقام بنا۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ فرعون کو طاقت، حکومت اور اقتدار ملا، مگر اُس نے ان نعمتوں کو اللہ کی عطا سمجھنے کے بجائے اپنی بڑائی کا ذریعہ بنا لیا۔ اُس نے لوگوں پر ظلم کیا، خود کو برتر سمجھا اور یہاں تک کہ کہا: “أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ” “میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔” (النازعات: 24) یہ فرعون کی اصل تباہی تھی۔ اس کا مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ اُس کے پاس بہت طاقت تھی، بلکہ یہ تھا کہ طاقت نے اُس کے اندر تکبر، ظلم اور اللہ کے مقابلے میں سرکشی پیدا کر دی تھی۔ پھر وہی فرعون، جس کے حکم سے لوگ ڈرتے تھے، اللہ کے حکم سے سمندر میں بے بس ہو گیا۔ اُس کا لشکر، اُس کی سلطنت اور اُس کا غرور کوئی چیز اسے نہ بچا سکی۔ اس لیے یہ کہنا کہ “فرعون پہلے غرور میں ڈوبا تھا، دریا تو بعد میں آیا تھا” ایک ادبی انداز ہے، قرآن کی آیت نہیں۔ لیکن اس میں موجود سبق قرآن کے پیغام سے ہم آہنگ ہے۔ طاقت انسان کو خدا نہیں بناتی۔ دولت، عہدہ، شہرت یا اختیار بھی انسان کو بڑا نہیں بناتے۔ اصل خطرہ اُس وقت شروع ہوتا ہے جب انسان اپنی طاقت کو اللہ کی عطا سمجھنے کے بجائے اپنی ذات کا کمال سمجھنے لگتا ہے، پھر دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے، ظلم کرتا ہے اور اللہ کی حدود کو بھول جاتا ہے۔ فرعون کا انجام ہمیں یہی حقیقت یاد دلاتا ہے کہ انسان کا ظاہری زوال بعد میں آتا ہے، اس کا اخلاقی زوال پہلے شروع ہو جاتا ہے۔ جب تکبر دل میں جگہ بنا لے، انسان باہر سے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ دکھائی دے، اندر سے اپنے زوال کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِينَ” “بے شک اللہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔” (النحل: 23) #fyp #foryoupage #Allah #oneGod #fyppppppppppppppppppppppp

About