@akbaralikhan51214: ایک چوڑیاں بیچنے والی لڑکی کو ایک شخص سے بے پناہ پیار ہو گیا۔ اُس کی محبت بھی کمال کی تھی؛ وہ جہاں بھی جاتی، وہاں کی مشہور چیز اُس کے لیے تحفے میں لاتی تھی۔ وہ اُس کی خاطر اُس کے شہر میں چار سال تک مقیم رہی، روزانہ اُس کے سامنے منتیں کرتی اور روتی رہتی تھی کہ "میرے نال شادی کر لے"۔ لیکن اُس شخص کے لگاتار انکار پر وہ بالآخر مایوس ہو کر اپنے آبائی گاؤں جھنگ واپس چلی گئی۔ کچھ عرصے بعد، وہ شخص اپنے دوستوں کے ساتھ سلطان باہو کے مزار پر گیا۔ وہ مزار کے باہر کھڑا تھا کہ پیچھے سے کسی نے اُس کا بازو پکڑ لیا۔ دیکھا تو وہی چوڑیاں بیچنے والی لڑکی تھی۔ خوشی کے مارے اُس کے منہ سے نکلا کہ اُس کی دعا رنگ لے آئی: "تیرا دیدار ہو گیا، ساڈی عید ہو گئی!" وہ بتانے لگی کہ جب بھی دربار پر آتی تھی، بس اسی کو مانگتی تھی، اور اب تک اُسی کے انتظار میں بیٹھی تھی اور شادی نہیں کی تھی۔ پھر اُس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ کہنے لگی، "بھیک مانگنا یا چوڑیاں بیچنا میرا قصور تو نہیں ہے نا؟ یہ تو میری قسمت اور نصیب کا قصور ہے، پھر تو سزا مجھے کیوں دے رہا ہے؟" وہ سب کے سامنے اُس کے گلے لگ کر رونے لگی اور منت کرنے لگی کہ ایک دفعہ وہ اُس کے ساتھ اُس کے گھر چلے۔ اُس نے اُس شخص کے پاؤں پکڑ لیے۔ وہاں لوگوں کا مجمع لگ گیا اور اُس شخص کو شدید شرمندگی کا احساس ہوا۔ دوستوں کے کہنے پر جب وہ شخص جانے کے لیے تیار ہوا، تو وہ لڑکی بھاگ کر گاڑی میں بیٹھ گئی۔ اُس کا گھر وہاں سے پچاس کلومیٹر دور تھا۔ سارے راستے وہ بے حد خوش رہی۔ جب وہ سب اُس کے گاؤں پہنچے، تو وہاں کے تمام گھر کچے تھے، لیکن صفائی پکے گھروں سے بھی زیادہ تھی۔ گاؤں کے لوگ اُس شخص کو عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ گھر پہنچتے ہی لڑکی کی تمام سہیلیاں جمع ہو گئیں، اور اُس نے ان سب کے لیے بہت مزے کا کھانا بنایا۔ گھر والوں نے اُس شخص کو بتایا کہ یہ لڑکی تو سارا وقت صرف اسی کے نام کی تسبیح کرتی رہتی ہے۔ جب اُن کی واپسی کا وقت آیا، تو لڑکی کی آنکھوں سے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ وہ اُس شخص کے ہاتھ چوم کر کہنے لگی، "تیرا قصور نہیں ہے، میری قسمت کا قصور ہے جو میں چوڑیاں بیچنے والے کے گھر پیدا ہوئی۔" بڑی مشکل سے سب نے اسے چپ کرایا اور وہ لوگ واپسی کے لیے روانہ ہو گئے۔ وہ شخص گاڑی کے شیشے میں دیکھ رہا تھا کہ وہ لڑکی تب تک گاڑی کو تکتی رہی جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہو گئی۔ وہ اُن کی آخری ملاقات ثابت ہوئی۔ پھر ایک دن اُس شخص کا دل اُس لڑکی سے ملنے کو چاہا، تو وہ اُس کے گاؤں چلا گیا۔ وہاں پہنچ کر اُس کے گھر والوں نے بتایا کہ اُس شخص کے جانے کے بعد وہ لڑکی شدید بیمار رہنے لگی تھی، اُس نے کھانا پینا اور ہنسنا سب چھوڑ دیا تھا، اور آخر کار ایک دن اُس کی موت ہو گئی۔ اُس شخص کو اُس سے محبت تو کبھی نہیں تھی، لیکن وہ آج بھی اُس لڑکی کو روز یاد کرتا ہے اور ہر سال عید کے دن اُس کی قبر پر جاتا ہے۔ تیرے بعد نظر نہیں آتی مجھے کوئی منزل کسی اور کا ہونا میرے بس کی بات نہی#poetrylines #deeplines #foryoupage #brokenheart #viralditiktok