@joku_patriots: #humors #joks #riga #quotes #latvia

Joku_patriots
Joku_patriots
Open In TikTok:
Region: NO
Sunday 30 August 2026 12:26:41 GMT
6931
286
5
253

Music

Download

Comments

uuuuuser4444445
... :
2026-08-30 17:46:17
0
agris8736
Agris :
Mazak zinasi Ilgak dzivosi Joku Peters😅😅😅
2026-08-30 12:52:06
0
indra.berzina
Indra Berzina :
😂😂😂😂
2026-08-30 17:06:00
0
kelos757
Kelos :
😂😂😂
2026-08-30 17:06:10
0
To see more videos from user @joku_patriots, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

جبلِ ملائکہ — غزوۂ بدر کی یادگار جبلِ ملائکہ، جسے فرشتوں کا پہاڑ کہا جاتا ہے، مدینہ منورہ کے قریب بدر کے تاریخی علاقے میں واقع ایک مقام ہے۔ اس مقام کی نسبت غزوۂ بدر سے بیان کی جاتی ہے، وہ عظیم معرکہ جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ اور مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ غزوۂ بدر کے موقع پر مسلمانوں کی تعداد کم تھی اور سامنے قریش کا بڑا لشکر موجود تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کے ساتھ دعا فرمائی اور اپنے رب سے مدد طلب کی۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کے لیے فرشتے نازل فرمائے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار فرشتوں کے ذریعے مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ کہا جاتا ہے کہ بدر کے علاقے میں جس مقام پر فرشتوں کے نزول کی نسبت کی جاتی ہے، اسے بعد میں جبلِ ملائکہ کہا جانے لگا۔ اسی نسبت سے یہ جگہ مسلمانوں کے لیے غزوۂ بدر، اللہ تعالیٰ کی نصرت اور فرشتوں کی مدد کی یاد دلاتی ہے۔ سرکاری سعودی ذرائع بھی جبلِ ملائکہ کو بدر کے ان تاریخی مقامات میں شمار کرتے ہیں اور اسے فرشتوں کے نزول سے منسوب مقام کے طور پر بیان کرتے ہی ہیں⁠) اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کے ذریعے مسلمانوں کو یہ سبق دیا کہ ظاہری طور پر انسان کمزور ہو سکتا ہے، لیکن اگر وہ اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ کی مدد ہر مشکل کو آسان کر سکتی ہے۔ غزوۂ بدر اسی ایمان، صبر، دعا اور اللہ کی نصرت کی عظیم یادگار ہے۔ جبلِ ملائکہ کو دیکھ کر انسان کے دل میں غزوۂ بدر کی یاد تازہ ہوتی ہے اور یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ فتح صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے
جبلِ ملائکہ — غزوۂ بدر کی یادگار جبلِ ملائکہ، جسے فرشتوں کا پہاڑ کہا جاتا ہے، مدینہ منورہ کے قریب بدر کے تاریخی علاقے میں واقع ایک مقام ہے۔ اس مقام کی نسبت غزوۂ بدر سے بیان کی جاتی ہے، وہ عظیم معرکہ جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ اور مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ غزوۂ بدر کے موقع پر مسلمانوں کی تعداد کم تھی اور سامنے قریش کا بڑا لشکر موجود تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کے ساتھ دعا فرمائی اور اپنے رب سے مدد طلب کی۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کے لیے فرشتے نازل فرمائے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار فرشتوں کے ذریعے مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ کہا جاتا ہے کہ بدر کے علاقے میں جس مقام پر فرشتوں کے نزول کی نسبت کی جاتی ہے، اسے بعد میں جبلِ ملائکہ کہا جانے لگا۔ اسی نسبت سے یہ جگہ مسلمانوں کے لیے غزوۂ بدر، اللہ تعالیٰ کی نصرت اور فرشتوں کی مدد کی یاد دلاتی ہے۔ سرکاری سعودی ذرائع بھی جبلِ ملائکہ کو بدر کے ان تاریخی مقامات میں شمار کرتے ہیں اور اسے فرشتوں کے نزول سے منسوب مقام کے طور پر بیان کرتے ہی ہیں⁠) اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کے ذریعے مسلمانوں کو یہ سبق دیا کہ ظاہری طور پر انسان کمزور ہو سکتا ہے، لیکن اگر وہ اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ کی مدد ہر مشکل کو آسان کر سکتی ہے۔ غزوۂ بدر اسی ایمان، صبر، دعا اور اللہ کی نصرت کی عظیم یادگار ہے۔ جبلِ ملائکہ کو دیکھ کر انسان کے دل میں غزوۂ بدر کی یاد تازہ ہوتی ہے اور یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ فتح صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے

About