@miafitness: Papa und ich im Urlaub 😊 Papa ist der beste🥰🙏🏼 #sport #sixpackabs #wieiad #erinnerung #vlogs

MiaFit
MiaFit
Open In TikTok:
Region: CH
Sunday 30 August 2026 15:52:51 GMT
285675
9012
137
532

Music

Download

Comments

jathemar
Jathemar :
Danke verzichte auf den Sixpack...😅
2026-09-01 19:26:21
827
e1nsamelieee
★EinsAmelieee★ :
Absolut ungesund btw
2026-09-05 08:57:41
117
yannick63857
yannick63857 :
Seid ihr gleich alt?
2026-08-31 18:29:08
368
manuelahgele2363
Manuela Hägele :
cool...aberich will auch genießen soory das leben ist zu kurz 😜🥰
2026-08-30 17:03:57
131
rosorkpr8i33332d
gfrr42söfo41odöförlwldls, :
Das ist alles andere als gesund
2026-09-02 20:25:21
38
jmp7719
Jens Markus :
Dachte dein partner seid doch gleich alt
2026-09-01 07:50:03
170
bewussterlauri
bewussterLauri :
Entspannt euch doch
2026-09-02 15:30:45
724
niemand260
Nie Mand :
wohnt ihr gemeinsam oder war das im Urlaub?
2026-08-30 16:00:05
254
dyu9zw78emil
dyu9zw78emil :
Als was arbeitest du ?
2026-08-30 21:38:38
47
spamaccc027
Spamacc :
Und wie genau habt ihr Zeit für das alles geht ihr nicht arbeiten? (Liebe deine Videos. )
2026-09-04 12:20:34
31
hansheinrich.isle
Hans-Heinrich Isler :
Ich darf zur Arbeit 😞
2026-08-30 16:50:10
67
ilius07
GreenCheck :
Wie viele kcal waren das insgesamt?
2026-08-30 19:31:44
9
sim.paty.ca
sim.paty.ca :
wie alt ist er?
2026-09-02 12:26:21
5
pw1.06
pw603 :
Papa hat jetzt einen Sohn
2026-09-04 20:36:52
28
sima60216
Sima :
Ihr seht euch sehr ähnlich, voll süß 🫶
2026-08-30 18:15:45
30
annete852
🔥 Anne 여름🔥 :
Ihr seit beide toll. 😊👍
2026-09-01 14:35:02
18
59_l15
𝕷𝖔𝖛𝖊𝖑𝖞 𝕷 :
Fleißig
2026-08-30 15:57:50
45
bunn13h
bunn13h :
Ist echt toll wie fit und gesund ihr seit, aber bitte schützt euch von UV Strahlung, Hautkrebs ist echt gefährlich.
2026-09-05 17:46:18
0
lass_glitzern
Lass Glitzern 💖 :
Ihr seit so cute , Mega eure Lebensfreude 🌹❤️
2026-08-30 16:31:02
1
dianabernadett
dianabernadett :
wie alt ist dein Papa? 🥹
2026-08-31 11:45:04
0
lucy.3697
🩶Lucy 🩷 :
uiiii 😍
2026-08-30 15:55:14
0
To see more videos from user @miafitness, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

خواب جب ریزہ ریزہ ہو جائیں تو چہرے پر پہلے جیسی چمک نہیں رہتی۔   وہ روشنی جو آنکھوں کے کونوں میں چھپی ہوتی تھی، کہیں کھو جاتی ہے۔   صبح اٹھنے کی جلدی ختم ہو جاتی ہے، کیونکہ اٹھ کر جانا کہاں ہے؟   آئینہ اب سوال کرتا ہے اور ہمارے پاس جواب نہیں ہوتا۔   ہنسی آتی ہے تو آواز میں وہ پہلی والی گونج نہیں رہتی۔   لفظ زبان پر آتے ہیں مگر ادھورے رہ جاتے ہیں۔   دل کے کمرے میں وہ کرسیاں خالی پڑی رہتی ہیں جن پر خواب بیٹھا کرتے تھے۔   لوگ کہتے ہیں تم بدل گئے ہو، اور ہم خاموشی سے سر ہلا دیتے ہیں۔   کیونکہ بتائیں تو کیا بتائیں کہ اندر کیا ٹوٹا ہے۔   راتیں اب لمبی لگتی ہیں، نیند آ بھی جائے تو سکون نہیں دیتی۔   چائے کا کپ ہاتھ میں تھامے سوچتے رہتے ہیں کہاں غلط ہوا ہے۔  ہم مسکراتے ہیں مگر وہ مسکراہٹ چہرے تک نہیں پہنچتی۔   آنکھوں کے نیچے سیاہی گہری ہو جاتی ہے، تھکن کی نہیں، بے یقینی کی۔   پہلے جو باتیں جوش سے کرتے تھے، اب انہیں دہرانے کا حوصلہ نہیں بچتا۔   ہم سب کے سامنے ٹھیک رہنے کی اداکاری سیکھ لیتے ہیں۔   گھر والے پوچھتے ہیں کیا ہوا، ہم کہتے ہیں کچھ نہیں، بس تھکاوٹ ہے۔   مگر تھکن تو جسم کی نہیں ہوتی، وہ روح کی ہوتی ہے۔   خواب ٹوٹنے کے بعد انسان خود سے وعدے کرنا بھول جاتا ہے۔   ہر نئی امید پر پہلے والے زخم کا سایہ پڑ جاتا ہے۔   ہم محتاط ہو جاتے ہیں، کہیں پھر سے کچھ ٹوٹ نہ جائے۔   اس لیے قدم آہستہ ہو جاتے ہیں، اور دل کی دھڑکن مدھم۔   چہرے کی چمک دراصل یقین کی چمک ہوتی ہے۔   جب یقین ریزہ ریزہ ہو جائے تو چہرہ بھی مٹی جیسا لگنے لگتا ہے۔   پھر بھی کہیں اندر ایک چھوٹی سی چنگاری بچ جاتی ہے۔   وہ سرگوشی کرتی ہے کہ شاید کوئی نیا خواب جنم لے۔   اور ہم اسی سرگوشی کے سہارے اگلی صبح کا انتظار کرتے ہیں۔   کیونکہ چمک واپس نہ بھی آئے، جینا تو پھر بھی اسی چہرے سے ہے۔خواب جب ریزہ ریزہ ہو جائیں تو چہرے پر پہلے جیسی چمک نہیں رہتی۔   وہ چمک جو ہر صبح نئی امید کے ساتھ آنکھوں میں اترتی تھی، دھیرے دھیرے بجھ جاتی ہے۔   انسان مسکراتا تو ہے، مگر وہ مسکراہٹ آئینے سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہے۔   راتوں کی نیند بکھر جاتی ہے اور دن بے رنگ لگنے لگتے ہیں۔   جو باتیں کبھی دل کو پروں جیسی ہلکی کر دیتی تھیں، اب وہی باتیں سینے پر بوجھ بن جاتی ہیں۔   خوابوں کے ٹوٹنے کی آواز نہیں ہوتی، بس اندر کہیں ایک شیشہ چٹخ جاتا ہے۔   اور اس چٹخنے کے بعد انسان پہلے جیسا نہیں رہتا۔   وہ لوگوں سے ملتا ہے، بات کرتا ہے، کام بھی کرتا ہے، لیکن کہیں گہرائی میں ایک خلا رہ جاتا ہے۔   آنکھوں کے گرد تھکن بیٹھ جاتی ہے جو نیند سے نہیں جاتی۔   چہرے پر وہ معصوم تجس نہیں رہتا جو ہر نئی چیز کو دیکھ کر جاگ اٹھتا تھا۔   اب ہر سوال کا جواب پہلے سے پتہ ہوتا ہے، اور ہر جواب میں تھوڑی سی مایوسی شامل ہوتی ہے۔   دوست پوچھتے ہیں
خواب جب ریزہ ریزہ ہو جائیں تو چہرے پر پہلے جیسی چمک نہیں رہتی۔ وہ روشنی جو آنکھوں کے کونوں میں چھپی ہوتی تھی، کہیں کھو جاتی ہے۔ صبح اٹھنے کی جلدی ختم ہو جاتی ہے، کیونکہ اٹھ کر جانا کہاں ہے؟ آئینہ اب سوال کرتا ہے اور ہمارے پاس جواب نہیں ہوتا۔ ہنسی آتی ہے تو آواز میں وہ پہلی والی گونج نہیں رہتی۔ لفظ زبان پر آتے ہیں مگر ادھورے رہ جاتے ہیں۔ دل کے کمرے میں وہ کرسیاں خالی پڑی رہتی ہیں جن پر خواب بیٹھا کرتے تھے۔ لوگ کہتے ہیں تم بدل گئے ہو، اور ہم خاموشی سے سر ہلا دیتے ہیں۔ کیونکہ بتائیں تو کیا بتائیں کہ اندر کیا ٹوٹا ہے۔ راتیں اب لمبی لگتی ہیں، نیند آ بھی جائے تو سکون نہیں دیتی۔ چائے کا کپ ہاتھ میں تھامے سوچتے رہتے ہیں کہاں غلط ہوا ہے۔ ہم مسکراتے ہیں مگر وہ مسکراہٹ چہرے تک نہیں پہنچتی۔ آنکھوں کے نیچے سیاہی گہری ہو جاتی ہے، تھکن کی نہیں، بے یقینی کی۔ پہلے جو باتیں جوش سے کرتے تھے، اب انہیں دہرانے کا حوصلہ نہیں بچتا۔ ہم سب کے سامنے ٹھیک رہنے کی اداکاری سیکھ لیتے ہیں۔ گھر والے پوچھتے ہیں کیا ہوا، ہم کہتے ہیں کچھ نہیں، بس تھکاوٹ ہے۔ مگر تھکن تو جسم کی نہیں ہوتی، وہ روح کی ہوتی ہے۔ خواب ٹوٹنے کے بعد انسان خود سے وعدے کرنا بھول جاتا ہے۔ ہر نئی امید پر پہلے والے زخم کا سایہ پڑ جاتا ہے۔ ہم محتاط ہو جاتے ہیں، کہیں پھر سے کچھ ٹوٹ نہ جائے۔ اس لیے قدم آہستہ ہو جاتے ہیں، اور دل کی دھڑکن مدھم۔ چہرے کی چمک دراصل یقین کی چمک ہوتی ہے۔ جب یقین ریزہ ریزہ ہو جائے تو چہرہ بھی مٹی جیسا لگنے لگتا ہے۔ پھر بھی کہیں اندر ایک چھوٹی سی چنگاری بچ جاتی ہے۔ وہ سرگوشی کرتی ہے کہ شاید کوئی نیا خواب جنم لے۔ اور ہم اسی سرگوشی کے سہارے اگلی صبح کا انتظار کرتے ہیں۔ کیونکہ چمک واپس نہ بھی آئے، جینا تو پھر بھی اسی چہرے سے ہے۔خواب جب ریزہ ریزہ ہو جائیں تو چہرے پر پہلے جیسی چمک نہیں رہتی۔ وہ چمک جو ہر صبح نئی امید کے ساتھ آنکھوں میں اترتی تھی، دھیرے دھیرے بجھ جاتی ہے۔ انسان مسکراتا تو ہے، مگر وہ مسکراہٹ آئینے سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہے۔ راتوں کی نیند بکھر جاتی ہے اور دن بے رنگ لگنے لگتے ہیں۔ جو باتیں کبھی دل کو پروں جیسی ہلکی کر دیتی تھیں، اب وہی باتیں سینے پر بوجھ بن جاتی ہیں۔ خوابوں کے ٹوٹنے کی آواز نہیں ہوتی، بس اندر کہیں ایک شیشہ چٹخ جاتا ہے۔ اور اس چٹخنے کے بعد انسان پہلے جیسا نہیں رہتا۔ وہ لوگوں سے ملتا ہے، بات کرتا ہے، کام بھی کرتا ہے، لیکن کہیں گہرائی میں ایک خلا رہ جاتا ہے۔ آنکھوں کے گرد تھکن بیٹھ جاتی ہے جو نیند سے نہیں جاتی۔ چہرے پر وہ معصوم تجس نہیں رہتا جو ہر نئی چیز کو دیکھ کر جاگ اٹھتا تھا۔ اب ہر سوال کا جواب پہلے سے پتہ ہوتا ہے، اور ہر جواب میں تھوڑی سی مایوسی شامل ہوتی ہے۔ دوست پوچھتے ہیں "کیا ہوا؟" تو ہونٹوں پر بس ایک "کچھ نہیں" آ کر رک جاتا ہے۔ کیونکہ ریزہ ریزہ ہوئے خوابوں کو لفظوں میں سمیٹنا سب سے مشکل کام ہوتا ہے۔ کبھی کبھی رات کے سناٹے میں پرانے خواب دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔ انسان اٹھ کر بیٹھ جاتا ہے، سوچتا ہے شاید کوئی راستہ نکل آئے۔ لیکن صبح ہوتے ہی حقیقت پھر وہی دروازہ بند کر دیتی ہے۔ پھر انسان سیکھ جاتا ہے کہ ہر چیز کے لیے لڑا نہیں جاتا۔ کچھ خوابوں کو بس الوداع کہنا پڑتا ہے۔ یہ الوداع کہنا آسان نہیں ہوتا، یہ دل کے کسی کونے کو ہمیشہ کے لیے خالی کر دیتا ہے۔ اس خالی جگہ میں نہ کوئی نیا خواب آسانی سے آتا ہے نہ پرانا واپس پلٹتا ہے۔ بس انسان اس خلا کے ساتھ جینا سیکھ لیتا ہے۔ وہ ہنستا ہے مگر ہنسی کے پیچھے ایک خاموشی چلتی ہے۔ وہ چلتا ہے مگر قدموں میں پہلے والا جوش نہیں ہوتا۔ وہ منصوبے بناتا ہے مگر ہر منصوبے کے آخر میں ایک "اگر" لگا دیتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جاتا ہے۔ ہو بھی جاتا ہے، مگر پہلے جیسا نہیں ہوتا۔ چمک لوٹ آتی ہے، مگر وہ بچپن والی بے فکری والی چمک نہیں رہتی۔ اور پھر ایک دن انسان کو سمجھ آتا ہے کہ خوابوں کا ٹوٹنا بھی زندگی کا حصہ ہے۔ وہی ٹوٹ کر ہی تو انسان مکمل ہوتا ہے، تھوڑا سخت، تھوڑا سمجھدار، اور تھوڑا خاموش۔ #unfreezemyacount #foryoupage #creatorsearchinsights

About