@afzaal.a0: ... اُسے معلوم تھا کہ میں اُس پر مرتا ہوں" اور اذیت یہ ہے کہ اُس نے پھر بھی میری پرواہ نہ کی۔ میں نے کبھی تم سے چاند نہیں مانگا تھا نہ ستارے، نہ دنیا کی کوئی بڑی خوشی۔ میں نے تو صرف یہ چاہا تھا کہ جب میں ٹوٹ رہا ہوں تو تم میرا ہاتھ تھام لو جب میں خاموش ہو جاؤں تو تم میری خاموشی ، سمجھ لو اور جب میں تمہیں اپنی دنیا کہوں تو تم مجھے اجنبی نہ سمجھو۔ تمہیں سب معلوم تھا۔ تم جانتی تھیں کہ دن میں کتنی بار تمہارا خیال آتا ا ہے۔ تم جانتی تھیں کہ رات کے آخری پہر میری دعاؤں میں تمہارا نام شامل ہوتا ہے۔ تم جانتی تھیں کہ میں لوگوں کے ہجوم میں بھی صرف تمہیں ڈھونڈتا ہوں۔ تم جانتی تھیں کہ میرے چہرے کی مسکراہٹ اور میری اداسی دونوں کا تعلق تم سے ہے۔ تم جانتی تھیں کہ میں تم پر مرتا ہوں۔ .... اور شاید یہی بات مجھے سب سے زیادہ توڑتی ہے اگر تم ناواقف ہوتیں تو شاید اتنا دکھ نہ ہوتا