@msmsillanwli: شیخ حماد مصطفیٰ المدنی القادری ایک ایسے عہد کے نوجوان اسلامی سکالر ہیں جو جدید مغربی جامعات کے علمی و فکری ماحول سے بھی گہری واقفیت رکھتے ہیں اور اسلامی علوم کی کلاسیکی روایت سے بھی مضبوط تعلق رکھتے ہیں۔ International Relations، History، Diplomacy اور Contemporary Global Affairs جیسے موضوعات سے ان کی علمی وابستگی انہیں عصرِ حاضر کے پیچیدہ عالمی منظرنامے کو سمجھنے کا موقع دیتی ہے، جبکہ قرآن، حدیث، فقہ، سیرت اور اسلامی علمی روایت ان کی فکری تشکیل اور علمی بنیاد کو مضبوط بناتے ہیں۔ شیخ حماد مصطفیٰ المدنی القادری، شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے پوتے اور پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، چیئرمین سپریم کونسل منہاج القرآن انٹرنیشنل، کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ اس نسبت سے وہ ایک ایسی علمی، فکری اور دعوتی روایت کی تیسری نسل کی نمائندگی کرتے ہیں جس نے گزشتہ کئی دہائیوں سے قرآن و سنت، سیرتِ رسول ﷺ، امن و اعتدال، علمی تحقیق اور نسلِ نو کی فکری و اخلاقی تربیت کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنایا ہے۔ تاہم شیخ حماد مصطفیٰ المدنی القادری کی اہمیت محض ان کی خاندانی نسبت میں نہیں، بلکہ اس صلاحیت میں ہے کہ وہ اس علمی و دعوتی ورثے کو اپنے عہد کی زبان، اپنے زمانے کے سوالات اور نئی نسل کی ذہنی ساخت کے مطابق آگے بڑھانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ شیخ حماد قادری جب نوجوانوں سے سیرتِ رسول ﷺ کا ذکر کرتے ہیں تو سیرت کو محض تاریخی واقعات کے طور پر بیان نہیں کرتے، بلکہ اسے عصرِ حاضر کے انسان کے لیے رہنمائی، کردار سازی اور عملی زندگی کے مسائل کا جواب بنا کر پیش کرتے ہیں۔ یہی زاویۂ نظر سیرت کو ماضی کے مطالعے تک محدود رکھنے کے بجائے اسے آج کی زندگی کے لیے ایک زندہ اور عملی پیغام بنا دیتا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے قرآن و سنت، سیرتِ رسول ﷺ، امن و اعتدال، علمی تحقیق اور اسلام کے مثبت، علمی اور پُرامن تعارف کے لیے ایک وسیع عالمی علمی و دعوتی جدوجہد کی بنیاد رکھی۔ ان کے بعد پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری اور پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے اسی مشن کو اگلی نسل میں علمی، فکری، تنظیمی اور تربیتی ذمہ داریوں کے ساتھ آگے بڑھایا۔ اب شیخ حماد مصطفیٰ المدنی القادری اسی تسلسل کی تیسری نسل کے نمائندے کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ یہ محض خاندانی تسلسل نہیں، بلکہ ایک فکری، علمی اور دعوتی ذمہ داری کا تسلسل ہے۔ ہر نسل کو اپنے عہد کے تقاضوں، سوالات اور چیلنجز کے مطابق اس پیغام کو نئی زبان اور نئے اسلوب میں پیش کرنا ہوتا ہے۔ شیخ حماد قادری کے سامنے بھی یہی اہم ذمہ داری ہے کہ وہ اس عظیم علمی و دعوتی ورثے کو ایک ایسی نسل تک مؤثر انداز میں پہنچائیں جو برطانیہ اور یورپ کے کثیرالثقافتی معاشروں میں پروان چڑھ رہی ہے، جدید جامعات میں تعلیم حاصل کر رہی ہے، مختلف فکری و ثقافتی اثرات سے گزر رہی ہے اور دین و مذہب کے بارے میں اپنے سوالات بھی ایک نئے انداز سے اٹھا رہی ہے۔ ان کی جدید علمی تربیت، اسلامی علوم سے وابستگی اور معاصر عالمی مسائل کی تفہیم انہیں اس ذمہ داری کے لیے ایک منفرد مقام عطا کرتی ہے۔ یہی امتزاج انہیں نئی نسل اور اسلامی علمی روایت کے درمیان ایک مؤثر فکری پُل بننے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ #forupage #ararframhouse #msmuc109 #msmsillanwli #msmsargodha❤️