@mr.baloch633: تشریح غیروں سے کیا شکایت کریں جب اپنے ہی وار کرنے میں ماہر نکلے۔ یہ شعر اپنوں کی بے وفائی اور دھوکے کے اُس درد کو بیان کرتا ہے جو انسان کو غیروں کی دشمنی سے کہیں زیادہ تکلیف دیتا ہے۔ غیر اگر نقصان پہنچائے تو انسان پہلے ہی محتاط ہوتا ہے، کیونکہ اُس سے کسی خاص خلوص یا وفاداری کی توقع نہیں ہوتی۔ مگر جب وہی شخص جس پر ہم نے بھروسہ کیا ہو، ہمارے راز جانتا ہو، ہماری کمزوریاں سمجھتا ہو اور پھر اُسی اعتماد کو ہمارے خلاف استعمال کرے، تو اُس کا دیا ہوا زخم بہت گہرا ہوتا ہے۔ وہ شخص بھی کچھ ایسا ہی سوچتا رہا کہ شاید اپنے لوگ اُس کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ مگر وقت نے اُسے دکھا دیا کہ ہر قریب رہنے والا مخلص نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ سامنے سے محبت دکھاتے ہیں، مگر پیچھے سے ایسے وار کرتے ہیں جن کی تکلیف دیر تک رہتی ہے۔ اُس نے غیروں سے شکایت کرنا چھوڑ دی، کیونکہ اُسے معلوم ہو چکا تھا کہ اصل امتحان دشمنوں سے نہیں، اپنوں کی پہچان میں ہے۔ غیر کا وار جسم کو زخمی کرتا ہے، مگر اپنے کا وار اعتماد کو توڑ دیتا ہے۔ اسی لیے اُس نے بدلہ لینے کے بجائے خاموشی اختیار کی اور اُن لوگوں سے فاصلے بنا لیے جنہوں نے اُس کے اعتماد کی قدر نہیں کی۔ مختصر مفہوم: غیروں کی دشمنی اتنی تکلیف دہ نہیں ہوتی جتنی اپنوں کی بے وفائی، کیونکہ غیروں سے انسان محتاط رہتا ہے، مگر اپنوں پر وہ دل سے بھروسہ کرتا ہے۔ "غیروں نے جو زخم دیے، وہ وقت نے بھر دیے؛ اپنوں کے دیے ہوئے زخم نے ہمیں لوگوں کو پہچاننا سکھا دیا #Fidaa #Baloch #poetrycommunity #urdupoetry #foryoupage