اللہ سے ڈرو اور اپنے عقیدے کی حفاظت کرو! مزار پر جا کر کسی بزرگ یا بابا سے فریاد کرنا اور اسے حاجتیں پوری کرنے والا سمجھنا انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ یاد رکھو، دعا، فریاد اور حقیقی مدد کا اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ جس شخص کو تم پکار رہے ہو، وہ بھی اللہ کا بندہ تھا اور اللہ ہی کا محتاج تھا۔
یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ جو الفاظ منہ سے نکلیں اور جس عقیدے پر دل قائم ہو، اس پر غور کیے بغیر چلتے رہو۔ ابھی بھی وقت ہے—اپنے رب کی طرف رجوع کرو، غلط الفاظ سے توبہ کرو اور اپنی حاجتیں صرف اللہ کے سامنے رکھو۔ زندگی اور موت، نفع اور نقصان، عزت اور ذلت سب اللہ کے اختیار میں ہیں۔ کسی مخلوق کو اللہ کے اختیار میں شریک نہ سمجھو۔