@mofidnepalioffici: ہمارا پیارا نیپال اور اہلِ رمول کی قابلِ فخر خدمت تمنا درد دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں ہمارا پیارا ملک نیپال اس وقت جس کربناک اور آزمائش بھرے دور سے گزر رہا ہے، ہم سب اس کی سنگینی سے بخوبی واقف ہیں۔ حالیہ تباہ کن سیلاب نے ملک کے مختلف علاقوں میں ایسی قیامت برپا کی کہ ہزاروں خاندان متاثر ہوئے، بے شمار لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے اور کتنے ہی گھر، عمارتیں اور آبادیاں پل بھر میں زمین بوس ہوگئیں اس ہولناک سانحے میں نہ صرف مکانات اور کاروبار تباہ ہوئے بلکہ کتنے ہی معصوم بچے بھی اس آفت کی نذر ہوگئے۔ مساجد، مدارس، مندروں اور دیگر مذہبی و سماجی مقامات کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ جہاں جہاں یہ قیامت خیز حادثات رونما ہوئے، وہاں کے لوگ ہر اعتبار سے بے بس اور مجبور ہوگئے ایسے نازک وقت میں حکومتِ نیپال نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے مصیبت زدہ بھائیوں اور بہنوں کی مدد کے لیے آگے آئیں۔ الحمدللہ! حکومت کی اس اپیل پر نیپالی عوام نے جس اخلاص، ہمدردی اور قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا، وہ واقعی قابلِ تحسین اور قابلِ فخر ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں سے لوگوں نے مالی تعاون جمع کیا اور متاثرین تک نقد رقم کے ساتھ ساتھ خوراک، کپڑے، ادویات اور دیگر ضروری سامان پہنچانے کی کوشش کی۔ ایسے موقع پر ہمارا پیارا گاؤں رمول بھلا اس عظیم انسانی اور قومی خدمت میں کیسے پیچھے رہ سکتا تھا مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب بھی ہمارے ملک نیپال پر کوئی مصیبت آئی، اہلِ رمول ہمیشہ بڑھ چڑھ کر اپنے ہم وطنوں کی مدد کے لیے میدان میں اترے۔ چاہے سیلاب کی تباہ کاریاں ہوں یا زلزلے سے ہونے والے نقصانات، اہلِ رمول نے ہمیشہ انسانیت، ہمدردی اور وطن دوستی کا روشن ثبوت پیش کیا ہے اسی عظیم روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس مرتبہ بھی گاؤں رمول کے باہمت، خوددار اور درد مند لوگوں نے مختلف طریقوں سے سیلاب متاثرین کی مدد کی سب سے پہلے ہمارے وہ رمول باشندے جو قطر، دبئی، ملیشیا، سعودی عرب، عمان اور دیگر ممالک میں مقیم ہیں، انہوں نے اپنے وطن کی اس مشکل گھڑی میں اپنے ملک کو نہیں بھلایا، بلکہ براہِ راست سرکاری اور امدادی ذرائع کے ذریعے مالی تعاون پہنچا کر سیلاب متاثرین کی مدد میں اہم کردار ادا کیا دوسری جانب رمول کے نوجوانوں نے بھی قابلِ قدر جذبۂ خدمت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے متاثرہ علاقوں تک پہنچ کر ضرورت مند لوگوں کے لیے ضروری سامان فراہم کرنے اور امداد پہنچانے میں اپنی خدمات پیش کیں تیسری اور سب سے خوبصورت مثال ہمارے گاؤں کے بزرگوں اور اہلِ خیر نے قائم کی، جنہوں نے محلہ محلہ اور گھر گھر جاکر لوگوں سے اپنے مصیبت زدہ نیپالی بھائیوں کے لیے تعاون جمع کیا۔ انہوں نے لوگوں کو یہ عظیم پیغام دیا کہ ہم مذہب کے اعتبار سے اگرچہ مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن وطن کے اعتبار سے ہم سب نیپالی ہیں، اور انسانیت کے اعتبار سے ہم سب ایک دوسرے کے بھائی ہیں الحمدللہ! ہمارے پیارے گاؤں رمول کے تمام باشندوں نے متحد ہوکر جس خلوص اور جذبۂ انسانیت کے ساتھ اس نیک کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، وہ واقعی قابلِ تعریف ہے۔ یہ تعاون اس بات کا ثبوت ہے کہ اہلِ رمول کے دل اپنے وطن اور اپنے ہم وطنوں کے درد سے زندہ ہیں اہلِ رمول نے ایک مرتبہ پھر یہ پیغام دیا ہے کہ جب بھی نیپال کے باشندے کسی مشکل، مصیبت یا آزمائش میں گرفتار ہوں گے، ہم اپنی استطاعت کے مطابق سب سے پہلے ان کی مدد کے لیے آگے آنے کی کوشش کریں گے ہمیں اپنے گاؤں رمول کی اس عظیم روایت پر فخر ہے، جو صرف اپنے لوگوں تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک اور انسانیت کے لیے محبت، ہمدردی اور خدمت کا جذبہ رکھتی ہے آخر میں ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دستِ دعا بلند کرتے ہیں کہ: اے اللہ! ہمارے پیارے ملک نیپال کو ہر قسم کی آفت، مصیبت اور تباہی سے محفوظ فرما۔ ہمارے ملک میں امن، محبت، اتحاد اور خوشحالی عطا فرما۔ ہمارے پیارے گاؤں رمول کو بھی ہمیشہ آباد اور محفوظ رکھ، اور یہاں رہنے والے تمام باشندوں کے مال، جان، عمر اور اہل و عیال میں برکت عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین مفید عالم نیپالی #nepalfloods #nepal #nepalmuslim