@audiologist12: ڈاکٹروں نے کہا: “بڑی ہو کر خود بولے گی…” 😔 لیکن کسی نے یہ زحمت نہیں کی کہ بچی کو ایک آڈیالوجسٹ کے پاس ریفر کر کے اس کی سماعت کا مکمل معائنہ کروایا جائے۔ آج یہ بچی Lip Reading (ہونٹ پڑھ کر سمجھنے) پر انحصار کرتی ہے۔ 💔 یہ صرف ایک بچی کی کہانی نہیں، بلکہ ایک اہم سوال ہے: اگر بچے کو سننے میں مسئلہ ہو تو کیا صرف یہ انتظار کرنا کافی ہے کہ “بڑا ہو کر خود بولنے لگے گا”؟ 🔴 Early Diagnosis کیوں ضروری ہے؟ بچے کی سماعت اس کی بولنے، زبان سیکھنے، تعلیمی اور سماجی نشوونما میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ سماعت کے مسئلے کی بروقت تشخیص سے مناسب intervention، hearing aids یا cochlear implant اور speech & language therapy کا فیصلہ وقت پر کیا جا سکتا ہے۔ ⏳ وقت ضائع ہونے کا مطلب صرف دیر سے علاج نہیں، بلکہ بچے کی communication development کے اہم مواقع ضائع ہونا بھی ہو سکتا ہے۔ 📢 والدین سے گزارش: اگر آپ کا بچہ آوازوں پر مناسب ردِعمل نہیں دیتا، بولنے میں تاخیر ہے، بار بار بات سمجھنے کے لیے چہرے/ہونٹ دیکھتا ہے یا آپ کو سماعت کے بارے میں ذرا بھی شک ہے تو اندازے کے بجائے مکمل Audiological Assessment کروائیں۔ ⚠️ ایک اہم اعداد و شمار کچھ شائع شدہ مطالعات میں hearing problems کے باوجود Audiology referral کی شرح کم پائی گئی ہے۔ مثال کے طور پر ایک مطالعے میں صرف 16% referrals audiology کی طرف تھے، تاہم یہ اعداد و شمار تمام ڈاکٹروں یا تمام ممالک پر لاگو نہیں کیے جا سکتے۔ ہر بچے کے لیے بروقت Hearing Assessment — بہتر تشخیص، بہتر فیصلہ، بہتر مستقبل۔ ❤️ 📍 Audiology Centre Islamabad 👨⚕️ Muhammad Jahangeer Badar — Consultant Audiologist MPhil Audiology | Hearing Aids & Cochlear Implant Specialist #Audiology #HearingLoss #EarlyDiagnosis #ChildHearing #PediatricAudiology