@ahmad.ali.lahore.rh: نہ ستایش کی تمنا، نہ صلے کی پروا! "مجھے ان(خان عبدالغفارخاں) کی ایک اداکبھی نہیں بھولتی،بہارکے فسادات(1946) میں وہ پشاور سے پٹنہ پہنچے،انھیں اسٹیشن پر لینے کے لیے وزیرِ اعظم بہار اوران کی کابینہ کے بعض دوسرے ارکان موجود تھے،ایک لمبا تڑنگا انسان تھرڈکلاس کے ڈبے سے اترا،اپنا بستر خود اٹھایا اور عقیدت مندوں کے اصرارکوپروامیں نہ لاتاہواباہر نکل گیا،اگلے دن متاثرہ علاقے کا دورہ کرنے کے لیے روانہ ہونے لگے،تووزارتِ بہارنے ان کے لیے بڑی عمدہ موٹر کا انتظام کررکھاتھا اور معیت میں حفاظتی دستے لگادیے تھے؛لیکن آپ نے سختی سے انکار کردیا،ایک جیپ چن لی اور دوچار رضاکاروں سمیت روانہ ہوگئے،ہر کہیں ہجوم نے خیر مقدم کیا اور فواکہات و مشروبات پیش کرنا چاہے؛لیکن آپ شکریے کے ساتھ انکارکردیتے اورنہایت نرمی سے پوچھتے کہ ’’میری قوم کوتوآپ بے گناہ مارتے ہیں اور مجھے فواکہات و مشروبات پیش کرتے ہیں،آخراِس عقیدت اور اُس شقاوت کا مطلب کیاہے؟‘‘۔ (آغاشورش کاشمیری،قلمی چہرے،ص:176) #tiktokpakistan #unfrezzmyaccount #viralreels #آزادی